نئی دہلی/لکھنؤ ،سماج نیوز سروس: عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ آج کا دن بھارت کے کروڑوں کسانوں اور عام عوام کے لیے سیاہ دن ہے۔ آج نریندر مودی حکومت نے ملک کو اعتماد میں لیے بغیر امریکہ کے آگے سرنڈر کر دیا ہے اور مہنگائی و کسان بربادی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس فیصلے کی اطلاع بھارتی حکومت نے نہیں بلکہ امریکہ کے صدر نے ٹویٹ کر کے دی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کی معیشت اور پالیسی فیصلے اب واشنگٹن سے طے ہو رہے ہیں۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ امریکہ کے صدر نے کھلے عام بتایا کہ اب بھارت روس سے تیل نہیں خریدے گا بلکہ امریکہ اور وینزویلا سے تیل خریدے گا۔ یہ فیصلہ قومی مفاد کے خلاف ہے۔ وینزویلا کا تیل ناقص معیار کا ہوتا ہے جسے ریفائن کرنا بے حد مہنگا پڑتا ہے، جبکہ امریکہ کا تیل روس کے مقابلے کہیں زیادہ مہنگا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر بھارتی عوام پر پڑے گا اور پٹرول-ڈیزل سے لے کر ہر ضروری چیز مہنگی ہو جائے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر وزیر اعظم نریندر مودی کس دباؤ میں آ کر ملک کو مہنگائی کی آگ میں جھونک رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ خطرناک فیصلہ کسانوں کے خلاف لیا گیا ہے۔ مودی حکومت نے امریکہ سے آنے والی تمام زرعی مصنوعات پر صفر ڈیوٹی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ سے آنے والا کپاس، گیہوں، سبزیاں اور دیگر زرعی مصنوعات ٹیکس فری ہوں گی۔ اس سے امریکی زرعی مصنوعات بھارتی بازار میں سستی بکیں گی اور بھارتی کسانوں کی فصل خریدنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ یہ فیصلہ ملک کے کروڑوں کسانوں کو بربادی کی طرف دھکیلنے والا ہے۔سنجے سنگھ نے کہا کہ ملک کی 70 سے 80 کروڑ آبادی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر زراعت پر منحصر ہے۔ بھارتی کسان آج بھی ملک کا پیٹ بھرتا ہے اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر نریندر مودی حکومت نے کسان کی پیٹھ اور پیٹ، دونوں پر خنجر گھونپ دیا ہے۔ یہ وہی دھوکہ ہے جو تین کالے زرعی قوانین کے ذریعے کیا گیا تھا، اور اب امریکہ کو کھلی چھوٹ دے کر کسانوں کو دوبارہ کچلنے کی سازش رچی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب گودی میڈیا اس فیصلے کو بھی کامیابی بتا کر ڈھول پیٹے گا۔ کل تک یہی میڈیا دعویٰ کر رہا تھا کہ بھارت امریکہ کو جواب دے رہا ہے، اور آج یہی میڈیا بتائے گا کہ وزیر اعظم نے کتنا بڑا فیصلہ لیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے فیصلے اب امریکی صدر کے ٹویٹس کے ذریعے سامنے آ رہے ہیں، چاہے وہ سیزفائر کا دعویٰ ہو یا بھارت کی ٹریڈ ڈیل۔سنجے سنگھ نے کہا کہ امریکہ کی ایگری کلچر سیکریٹری کا بیان سامنے آیا ہے جس میں وہ اس ڈیل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ کو مبارک باد دے رہی ہیں۔












