نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ایران میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت ٹارگٹڈ قتل ہے اور حالات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظمنریندر مودی کو اس پر اپنی واضح رائے کا اظہار کرنا چاہیے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے ایران اور دیگر خلیجی ممالک میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ہندوستان کو واضح پالیسی پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے تنازعہ نے خلیجی ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں کے لئے بھی غیر یقینی صورتحال کا بحران پیدا کر دیا ہے۔منگل کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں مسٹر گاندھی نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نازک خطے کو وسیع تر تنازعے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں رہنے والے تقریباً 10 ملین ہندوستانیوں کے ساتھ ساتھ لاتعداد دیگر غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی خدشات کو فطری قراردیا، لیکن کہا کہ خود مختاری کی خلاف ورزی کرنے والے حملے بحران کو مزید سنگین کر دیں گے۔ ایران پر یکطرفہ حملوں کے ساتھ ہی ایران کی جانب سے مغربی ایشیا پر کیے جارہے حملے، دونوں کی مذمت کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد ہی تشدد کو جنم دیتا ہے، اس لیے بات چیت اور تحمل ہی امن کا واحد راستہ ہے۔کانگریس لیڈر نے کہا، "ہندوستان کو اخلاقی طور پر واضح ہونا چاہیے۔ ہمیں بین الاقوامی قانون اور انسانی زندگی کے دفاع میں کھل کر بولنے کی ہمت ہونی چاہیے۔ ہماری خارجہ پالیسی خودمختاری اور تنازعات کے پرامن حل پر مبنی ہے اور اسے مستقل رہنا چاہیے۔ وزیر اعظم مودی کو بولنا چاہیے۔ کیا وہ عالمی نظام کی تعریف کرنے کے طریقے کے طورپر کسی سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔ اب خاموشی دنیا میں ہندستان کی ساکھ کو کم کرتی ہے۔دریں اثنا کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مارے جانے کی مذمت کی ہے اور اس معاملے پر مودی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ محترمہ گاندھی نے ایک اخبار میں لکھے مضمون میں کہا کہ حکومت کی یہ خاموشی غیر جانبداری نہیں، بلکہ ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے، جس سے ہندستان کی خارجہ پالیسی کی سمت اور اس کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کی خارجہ پالیسی تاریخی طور پر خودمختار مساوات، عدم مداخلت اور پرامن حل جیسے اصولوں پر مبنی رہی ہے۔ خاموشی ان اصولوں کے منافی معلوم ہوتی ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ یکم مارچ کو ایران نے تصدیق کی تھی کہ اس کے سپریم لیڈر ایک روز قبل امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ہدفی حملوں میں مارے گئے۔ انہوں نے اسے جاری سفارتی مذاکرات کے دوران کسی برسرِ اقتدار سربراہِ مملکت کا قتل قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات میں ایک سنگین خلل بتایا اور اس معاملے پر پارلیمنٹ میں جامع بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ محترمہ گاندھی نے الزام عائد کیا کہ حکومت ہند نے نہ تو اس قتل کی واضح مذمت کی اور نہ ہی ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر کوئی ٹھوس ردعمل دیا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندرمودی نے اپنے ابتدائی ردعمل میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا ذکر کیے بغیر صرف ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات (یواے ای) پر کی گئی جوابی کارروائی پر تنقید کی۔ بعد ازاں انہوں نے عمومی تشویش ظاہر کرتے ہوئے مکالمے اور سفارت کاری کی بات کہی، حالانکہ حملوں سے قبل یہی عمل جاری تھا۔ محترمہ گاندھی نے کہا کہ باضابطہ اعلانِ جنگ کے بغیر اور سفارتی عمل کے دوران کسی سربراہِ مملکت کا قتل اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی روح کے خلاف ہے، جو کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے اقدامات پر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی جانب سے اصولی اعتراض درج نہ کیا جائے تو بین الاقوامی معیارات کا زوال معمول بنتا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے سے 48 گھنٹے قبل وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کے دورے سے واپس آئے تھے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو حکومت کے تئیں حمایت کا اعادہ کیا تھا۔ ان کے مطابق عالمی جنوب کے کئی ممالک اور برکس شراکت داروں کی جانب سے فاصلہ اختیار کیے جانے کے درمیان ہندستان کا یہ مؤقف تشویش ناک ہے اور اس سے عالمی سطح پر غلط پیغام جاتا ہے۔












