نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ امریکی حملے کی وجہ سے بحر ہند میں ایرانی جہاز کے ڈوبنے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کی خاموشی صاف ظاہر کرتی ہے کہ ملک کے اسٹریٹجک اور قومی مفادات کو بری طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے۔جمعرات کو سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر کھرگے نے کہا کہ ایرانی جہاز ٹارپیڈو کی زد میں آنے کے بعد ڈوب گیا ہے، یہ جہاز فوجی ساز و سامان کے بغیر تھا اور ہندوستان میں منعقدہ انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2026 سے لوٹ رہا تھا۔ ایرانی بحریہ کا جہاز ایرس ڈینا ہندوستان کا مدعو مہمان تھا اور یہ وشاکھاپٹنم میں 15 سے 26 فروری تک منعقدہ بین الاقوامی فلیٹ ریویو 2026 میں شامل ہواتھا۔ اس تقریب میں 70 سے زائد ممالک کی بحریہ نے شرکت کی تھی۔کانگریس صدر نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ اس مہمان کے ڈوبنے پر ہندوستان کی طرف سے کوئی تشویش یا افسوس کا اظہار نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اس پر خاموش ہیں۔ مسٹر مودی پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب آپ اپنے ہی آنگن میں ہونے والے واقعات پر ردعمل ظاہر نہیں کر سکتے تو ہمیں سمندری نظریات اور بحر ہند کے خطے میں ہندستان کے نیٹ سیکورٹی پروائیڈر ہونے کے اصولوں پر لیکچر کیوں دے رہے ہیں۔ واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خلیج ہرمز میں 38 ہندوستانی پرچم والے تجارتی جہاز اور 1100 ملاح پھنسے ہوئے ہیں۔ کیپٹن آشیش کمار سمیت دو ہندوستانی سیلرز کی مبینہ طورپر موت ہوچکی ہے۔ میری ٹائم ریسکیو یا ریلیف آپریشن کیوں شروع نہیں کیا جا رہا ہے۔ مسٹر مودی کا دعویٰ ہے کہ خام تیل اور دیگر ایندھن کا ذخیرہ صرف 25 دنوں کے لیے بچا ہے۔












