سورج پور (چھتیس گڑھ) 07 نومبر : وزیر اعظم نریندر مودی نے علاقائی زبانوں اور ہندی کے ساتھ انگریزی کی وکالت کرنے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا نام لیے بغیر کہا کہ ملک آزاد تو ہو گیا ہے لیکن ان پر انگریزی کا بھوت نہیں گیا۔مسٹر مودی نے آج یہاں ایک انتخابی ریلی میں کہا کہ ڈاکٹر اور انجینئر بننے کے لیے اب انگریزی کی ضرورت نہیں ہے ۔ مودی کو لوگوں کی پریشانیوں کے بارے میں پتہ ہے اسی لئے غریب کا بچہ جس زبان میں ڈاکٹر اور انجینئر بننا چاہتا ہے اسی زبان میں ڈاکٹر اور انجینئر بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک ڈاکٹر مریض سے اس کی اپنی زبان میں بات کر کے اس کی بیماری جانتا ہے تو پھر ڈاکٹر بننے کے لیے انگریزی کیوں اس کے لئے ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں نو دس کروڑ قبائلی ہیں لیکن طویل عرصے تک حکومت کرنے والی کانگریس نے کبھی ان کے بارے میں نہیں سوچا کیونکہ کانگریس کے لیے قبائلیوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ انہوں نے غربت میں زندگی گزاری ہے اور کتابوں میں غریبی کے بارے میں نہیں پڑھا ہے ۔ کانگریس صرف غریبی ہٹاؤ کا نعرہ لگا کر ووٹ لیتی رہی ہے لیکن انہوں نے غریبوں کا خیال رکھا اور پھر غریب کلیان یوجنا کے تحت مفت راشن اسکیم میں پانچ سال توسیع کرنے کا فیصلہ کیا۔اپنی حکومت کی ترجیحی اسکیموں کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹرب مودی نے کہا کہ انہوں نے عوام سے جو بھی وعدے کیے تھے ، وہ سب پورے ہوئے ، یہ مودی کی گارنٹی ہے ۔ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزیدکہا کہ چھتیس گڑھ بھگوان رام کی ماں کی جائے پیدائش ہے ، اس لیے مودی کو بڑا آشیرواد ملنا چاہیے اور بی جے پی کو انتخابات میں پوری سیٹیں ملنی چاہیے ۔












