نئی دہلی ،سماج نیوز سروس: عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے مودی حکومت کی غلط خارجہ پالیسیوں کے باعث مسلسل متاثر ہو رہی بھارت کی عالمی ساکھ پر وزیر اعظم کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہی ہی، کھی کھی اور زبردستی گلے پڑنے والی خارجہ پالیسی نے دنیا بھر میں بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں امن معاہدہ کرانے کے عمل میں ایک دہشت گرد ملک پاکستان امن کا سفیر بن کر سامنے آیا، جبکہ مہاتما گاندھی اور گوتم بدھ کا ملک بھارت تنہا ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے مودی جی کو اچھی طرح بے وقوف بنایا اور جنگ سے پہلے انہیں اسرائیل بھیج کر بھارت کو اپنے روایتی دوست ایران سے بھی دور کر دیا۔بدھ کے روز سنجے سنگھ نے کہا کہ پوری دنیا کے لیے یہ ایک راحت کی خبر ہے کہ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ 15 دنوں کے لیے تھم گئی ہے۔ تاہم ایران کو امریکہ اور اسرائیل پر نظر رکھنی ہوگی، کیونکہ وہ دھوکے سے حملہ کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ کیا 15 دن بعد پھر ویسی ہی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے ایران کو محتاط رہنا چاہیے۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ اس پورے امن معاہدے اور بات چیت میں ایک ایسا ملک نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے جو دہشت گردی کے لیے جانا جاتا ہے، جہاں دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے، اور وہ ملک پاکستان ہے۔ آج وہی امن کا سفیر بنا ہوا ہے۔ اس کی وجہ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کی ان پڑھ ہی ہی، کھی کھی اور زبردستی گلے پڑنے والی خارجہ پالیسی ہے، جس کے باعث بھارت آج عالمی سطح پر تنہا ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے وزیر اعظم مودی کو اچھی طرح استعمال کیا۔ پہلے انہیں اسرائیل بھیجا، وہ وہاں گئے، تمغہ پہن کر واپس آئے اور اس کے فوراً بعد اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔ آخر وزیر اعظم دنیا میں بھارت کی ساکھ کو کیوں نقصان پہنچا رہے ہیں؟ آج ملک ان سے یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کیوں کر رہے ہیں جن سے ملک کی عزت کم ہو رہی ہے؟ سنجے سنگھ نے مزید کہا کہ بھارت مہاتما گاندھی اور مہاتما گوتم بدھ کا ملک ہے، جو پوری دنیا کو امن کا پیغام دیتا ہے۔ لیکن امریکہ نے بھارت کو اس کے روایتی دوست ایران سے دور کر دیا، اور ہمیں اپنے دیرینہ ساتھی روس سے بھی الگ تھلگ کر دیا۔ ہمیں ہدایت دی گئی کہ ہم روس سے تیل نہ خریدیں، اور وزیر اعظم نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم ایسا اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ان کے قریبی صنعت کار اڈانی امریکہ میں بدعنوانی کے معاملے میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے دو دیگر قریبی افراد ایپسٹین فائلز میں شامل ہیں۔












