ایک بار پھر برہان پور میں آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان دھرم کے راستے پر چل کر ہی ’وشو گرو‘ بنے گا اور دنیا کو راستہ دکھائے گا۔برہان پور میں بھاگوت دھرم سنسکرت سبھا سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر موہن بھاگوت نے کہا کہ اگر ہم سب مذہب کی پیروی کرتے رہیں گے، تو آنے والے 20-30 سالوں میں ہندوستان وہ وشو گرو بن جائے گا جو دنیا کو ایک نیا راستہ دکھائے گا،“ انہوں نے مزید کہا کہ مذہب کا مطلب پوری دنیا کی فلاح و بہبود کا احساس ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں حق کی راہ پر چل کر اپنا فرض ادا کرنا ہے۔ ہندوستان کو سپر پاور نہیں بننا ہے بلکہ دنیا کو مذہب سکھانا ہے۔ ہندوستان میں مختلف زبانوں، فرقوں اور مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ مختلف ہونے کے باوجود ہم جانتے ہیں کہ ساری تخلیق ایک ہے،اس لیے ہم ہندو ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے لیے باہمی احترام کے ساتھ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔
موہن بھاگوت اس طرح کے بیان دینے کی مشین ہیں جسے وقت وقت پر آن کیا جاتا ہے اور وہ بیان نشر ہو جاتا ہے۔ان کے جملوں کی ساخت پر غور کریں ،فرماتے ہیں کہ”اگرہم سب مذہب کی پیروی کرتے رہیںگے تو آنے والے بیس تیس سالوں میں بھارت وہ وشو گرو بن جائے گا جو دنیا کو ایک نیا راستہ دکھائے گا۔“
”یعنی کہ موہن بھاگوت کی نظر میں فی الحال دنیا میں جو مذاہب ہیں وہ قطعی اس قابل نہیں ہیں کہ وہ امن و امان قائم کر سکیں۔موصوف نے نہایت تفصیل سے یہ سمجھانے کی بھی کوشش کی کہ ”بھارت کو سپر پاور نہیں بننا ہے بلکہ دنیا کو مذہب سکھانا ہے“میں نے اوپر لکھا کہ موہن بھاگوت کا بیان کسی مشین سے نکلی ہوئی آواز لگتا ہے۔کیونکہ ان بیانات کا زمین سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔کیا موہن بھاگوت کو اس بات کا زرا بھی احساس نہیں کہ فی الحال ملک میں جو ٹرینڈ چل رہا ہے اس میں ہندو مذہب کے تقریباً تمام تہوار سڑکوں پر یا پھر مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے سامنے ناچتے کودتے منایاجاتا ہے۔ان جلوسوں میں شامل افراد کے ہاتھوں میں کھلا ہتھیار ہوتا ہے اور ان کے نعروں میں دیگر مذاہب کو نیست ونابود کرنے کی دھمکی ہوتی ہے۔رام کی یوم پیدائش پر ابھی چند سالوں سے جو جلوس نکالے جارہے ہیں اسے شوبھا یاترا سے زیادہ قوت کی نمائش کی یاترا کہنا ہوگا کیونکہ ان جلوسوں کا راستہ جان بوجھ کر مسلم محلوں اور ان محلوں میں ان کی عبادت گاہوں کے سامنے سے بنایا جاتا ہے اور جیسے ہی یہ مذہبی جلوس رام نام کے نعرے لگاتا ہوا مسلم محلوں ،مساجد و خانقاہ یا مدارس کے سامنے سے گذرتا ہے تو اس میں شامل لوگ باؤ لے ہوکر مساجد و مدارس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور ان کے ساتھ چلنے والی فورس تماشہ دیکھتی رہتی ہے۔یہ دیوانے نہ صرف زہریلے نعرے لگاتے ہیں بلکہ میناروں اور گنبدوں کو مسمار کرنے سے بھی باز نہیں آتے اور جیسے ہی اس کے خلاف مسلمانوں کی جانب سے مزاحمت ہوتی ہے۔ہتھیار لہراتے ہوئے شر پسندوں پر پتھر پھینکا جاتا ہے پولیس اس کی ویڈیو بناتی ہے اور پھر گولیاں برسانا شروع کر دیتی ہے۔ابھی حال کے ایک مہینے کے اندر ملک کے مختلف ریاستوں میں رام نومی اور ہنومان جینتی پر جو کچھ ہوا اور ہزاروں مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش کیا گیا سیکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا کیا یہ سب وہی مذہب ہے جو موہن بھاگوت پوری دنیا کو سکھانا چاہتے ہیں۔
”کیا موہن بھاگوت کو نظر نہیں آ رہا ہے کہ پورے ملک میں ہندوتوا کے سمرتھکوں نے کس طرح اپنے ہی ملک میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔کیا موہن بھاگوت تک یہ خبر نہیں پہنچی کہ رمضان کے مقدس مہینے میں اپنے گھروں اور دوکانوں و فیکٹری میں نماز تراویح ادا کرنے سے بھی بجرنگ دل کے لوگ جو پکے رام بھکت ہندو ہیں تڑپ اٹھتے ہیں اور پولیس کی مدد سے اس کو روک دیا جاتا ہے۔اگر ملک کی سب سے بڑی اقلیت پر برپا کئے جانے والے ان مظالم کی کوئی خبر موہن بھاگوت کو نہیں ہے توپھر انہیں یہ حق کیسے حاصل ہو گیا کہ وہ دنیا کو دھرم کی تلقین کریں ایک ایسے دھرم کی جس کا جو چہرہ آج ہم دیکھ رہے ہیں وہ تو نہایت کریہہ ہے۔رام جیسے اتم پروش کا نام لے کر قتل کرنے والے بھی خود کو ہندو کہتے ہیں اور ان کی حمایت میں اترنے والے لوگ بھی ہندو وادی ہی ہیں۔ایک طرف موہن بھاگوت جی زبانی طور پر بڑے بڑے اصول کی بات کرتے ہیں لیکن ان کی غیرت اس وقت بھی نہیں جاگتی جب ان کی تنظیم کے لوگ ایسے لوگوں کی سرپرستی کرتے ہیں جو ملک میں مسلمانوں کے قتل عام کی مہم چلانے کےلئے دھرم سنسد کرتے ہیں۔












