پٹنہ: اسلامی معاشرے کی تشکیل میں مسجد کا بنیادی کردار ہے۔ مسجد ہمارے معاشرہ کا دھڑکتا ہوا دل ہے،اسلام کا نظامِ تربیت مسجد کے بغیر ناممکن ہے۔ مسجد بنانا مومن کی نشانی ہے اور اسے آباد کرنا ایک کامل مومن کی ذمہ داری ہے۔ مساجد صرف پنج وقتہ نمازوں کے لیے نہیں ہیں، بلکہ ملت کے تمام دینی، تعلیمی، معاشرتی اور اخلاقی مسائل کے حل کا بھی مرکز ہیں۔ ہماری مسجدیں ہر وقت کھلی رہنی چاہئیں تاکہ سارے انسان مساجد میں آکر انسانیت اور اخلاق کا سبق حاصل کریں ، توحید کا درس لیں اور عبادت کا طریقہ سیکھیں،آپسی بھائی چارے کو عام کریں اور بھید بھاو کو ختم کریں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جب مسجد بنائی تو صرف اس میں مسلمان نہیں آتے تھے بلکہ ہر قسم کے لوگ اس میں دین سیکھنے کے لیے اور اپنے مسائل کو حل کرانے کے لیے آتے تھے۔ دوسری جگہوں سے جو غیر مسلموں کے وفود آتے تھے وہ بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسجد میں ہی ملتے تھے اور وہیں اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتے تھے، صحابہ کرام بھی مسجد میں تعلیم حاصل کرتے تھے، گویا کہ مسجد درس و تدریس، میٹنگ، لوگوں سے ملاقات، نکاح، مسائل کے حل، ذکر و اذکار کی مجلس، خوابوں کی تعبیر اور عبادت سبھی کے لیے دور نبوی میں استعمال کی جاتی تھی۔ یہ باتیں امیر شریعت بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے مورخہ 20 فروری2023روز سوموار کو موضع کٹھا مٹھا، کوچا دھامن ضلع کشن گنج میں نو تعمیر شدہ مسجد کے افتتاح کے موقع پر منعقد ایک اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب کے دوران کہیں۔ آپ نے لوگوں کو مسجد سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مساجد ملت کو جوڑنے اورمربوط رکھنے کا اہم ذریعہ ہیں، دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور دور صحابہ میں امت کے اجتماعی و سماجی مسائل سے متعلق تمام اہم امور مساجد سے وابستہ رہے ہیں یہاں تک کہ مقدمات اور نزاعات کے فیصلے وغیرہ بھی مساجد میں ہوتے تھے۔ آپ نے کہا کہ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں ان کا احترام ہم سب مسلمانوں کے لئے اور عا م انسانوں کے لئے ضروری ہے کیوں کہ مسجدیں صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں۔یہاں آکر بڑے چھوٹے، امیر غریب، کالے گورے سب کی تفریق ختم ہو جاتی ہے، سب اللہ کی بارگاہ میں ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں، اس لیے مسجدیں ہمارے اتحاد کی سب سے بڑی علامت ہوتی ہیں جو پانچ وقت نماز کے ساتھ لوگوں کوآپس میں متحد رہنے کا ایک اہم پیغام ہے ۔ حضرت امیر شریعت نے مزیدکہا کہ مسجد کی تعمیر ایک عظیم صدقہ جاریہ ہے جس کا ثواب اس کے بنانے والوں اور معاونت کرنے والوں کو قیامت تک ملتا رہے گا۔موجودہ حالات میں مسلمانوں کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان حالات میں امت کو مختلف میدانوں میں مناسب رہنمائی کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے مسجد سے اچھا ذریعہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ مسجد کے منبر و محراب سے جو صدا بلند ہوتی ہے، وہ گھر گھر جاتی ہے اور دل کے کانوں سے سنی جاتی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کو صرف پنج وقت نمازوں کے لیے ہی استعمال نہیں کیا بلکہ دور نبوی اور دور صحابہ میں مسجد ایک کثیر المقاصد ملی خدمات کا مرکز تھی اورزندگی کے ہر مرحلہ میں امت کو مسجد کے منبر ومحراب سے رہنمائی ملتی تھی۔ مسجد کی افادیت کو اسی طرح عام کرنے اور اس کو منہج نبوی اور منہج صحابہ کے طرز پر کثیر الجہات خدمت کا مرکز بنانے ضرورت ہے،مسجد میں بنیادی دینی تعلیم کے مکتب کا بھی نظم ہونا چاہئے، رفاہ عام کے کام بھی کیے جائیں۔اس اجلاس میں حافظ احتشام عالم رحمانی رکن شوریٰ امارت شرعیہ کے علاوہ مقامی علماء کرام کے علاوہ عوام و خواص کی بڑی تعداد نےشرکت کی ۔اجلاس کوکامیاب بنانے میں مقامی ایم ایل جناب اظہار اسفی صاحب، مکھیا امتیاز گڈو صاحب،جناب اشتیاق صاحب کے علاوہ مقامی نوجوانوں نے اہم کردار ادا کیا ۔آخر میں صدر مجلس کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔












