نئی دہلی، راجدھانی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف پوسٹروں کے خلاف کارروائی کی گئی تو عام آدمی پارٹی مشتعل ہو گئی۔ پوسٹر میں لکھا ہے” مودی ہٹاؤ، دیش بچاؤ“ اس معاملے میں پولیس نے تقریبا 100 ایف آئی آر درج کی ہیں۔ دہلی کے کئی علاقوں میں دیواروں اور ستونوں پر مودی مخالف نعروں والے پوسٹر چسپاں پائے گئے۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے اسے قابل اعتراض قرار دینا شروع کر دیا جب کہ کچھ لوگوں نے اسے سیاسی احتجاج قرار دیتے ہوئے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ حکام نے بتایا کہ تقریباً 2,000 پوسٹروںکو ہٹا دیا گیا ہے اور اتنی ہی تعداد میں پوسٹر آئی پی اسٹیٹ میں ایک وین سے ضبط کیے گئے ہیں۔ ڈی ڈی یو مارگ پر واقع عام آدمی پارٹی کے ہیڈکوارٹر سے آنے والی گاڑی کو ضبط کر لیا گیا ہے۔ دو پرنٹنگ پریس کے مالکان سمیت مجموعی طور پر 6 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد”آپ‘ لیڈروں نے ٹویٹر پر اس پوسٹر کو شیئر کرنا شروع کر دیا۔ پارٹی کے ٹوئٹر ہینڈل سے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا گیا، ”جو خود کو 56 انچ کا کہتا ہے، وہ 56 انچ کے پوسٹر سے ڈر گیا“۔ بی جے پی کے کچھ لیڈر بھی میدان میں اترے۔ راہل جھا نے لکھا، ”اگر’ آپ‘ میں ہمت ہوتی تو آپ پرنٹنگ پریس اور درخواست گزار کا نام پوسٹر میں لگاتے۔ ایسے بے نام پوسٹر وہ لوگ لگاتے ہیں جن کا سینہ 6 انچ کا ہوتا ہے۔ دہلی بی جے پی لیڈر ہرشدیپ ملہوترا نے کہا، ’اروند کجریوال کو ہٹاؤ دہلی کو بچاؤ ! ہمت ہے تو پوسٹر پر اپنا نام لکھو ورنہ پیٹ میں درد کیوں ہے‘۔ ہریش کھرانہ نے کہا، ’ایک تو چوری اوپر سے سینا زوری۔ یہ ہے عام آدمی پارٹی کی حالت۔ اگر ہمت ہے تو پوسٹر پر اپنا نام لکھیں۔ غلط کرو گے تو ایف آئی آر ہو گی، گھٹیا سیاست نہ کرو۔عام آدمی پارٹی نے کئی تصویریں شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’پی ایم مودی، آپ اس پر کتنی ایف آئی آر درج کریں گے؟ اب ہر کونے سے آواز آرہی ہے۔ اس ٹویٹ کے بعد کئی لوگوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان پوسٹروں کے پیچھے ’آپ‘کا ہاتھ ہے۔’آپ‘ لیڈر دلیپ پانڈے نے اس جدوجہد کو شاعری کی حد تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا، ’مودی حکومت آمریت کے عروج پر ہے۔ یہ وہ پوسٹر ہے جس پر 100 ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔ بہت ہو گیا جناب، وہ اتنے کمزور ہیں کہ تنقید نہیں کہ،اچھا، ظالم سے کہیں کہ جیلوں کی تعداد بڑھا دے، ملک میں سچ بولنے والے ابھی بھی موجود ہیں۔












