شعیب رضا فاطمی
نریندر مودی آزاد بھارت کی تاریخ کے ایک ایسے وزیر اعظم ہیں جن کا نہ کوئی موقف ہے نہ اسٹینڈ سوائے اس کے کہ انہیں اقتدار کو قبضہ میں رکھنا ہے اور اس کے لئے ہی ان کی ساری کوششیں ہوتی ہیں ۔اردو کے ادبی اصطلاحات میں ایک لفظ نرگسیت ہے جس سے مراد ایک ایسا شخص جس کو خود سے دیوانگی کی حد تک عشق ہوتا ہے اور جسے دوسرے کسی کی کوئی خوبی اچھی نہیں لگتی ۔حد تو یہ ہے کہ وہ اپنی شکل کو آئینہ میں گھنٹوں دیکھا کرتا ہے ۔
ہمارے مودی جی بھی اس اصطلاح کے دائرے میں آتے ہیں ۔یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مودی جی بار بار یہ بات دہرا چکے ہیں کہ وہ گجرات کے بنیا ہیں جو کاروباری معاملے میں پورے ملک کے لئے مثالی کردار ادا کرتے ہیں اور انہیں نگع نقصان کی سمجھ جتنی ہوتی ہے وہ کسی اور کو نہیں ۔بی جے پی کی سیاست کو یہ خالص کاروباری رنگ دینے میں ان کا رول بے حد اہم ہے ۔خاص طور پر ان دس برسوں میں دیکھنے میں یہ بھی آیا کہ نریندر مودی نے سرمایہ اقر سیاست کے ساتھ مذہب اور اس سے جڑی آستھا کا کاک ٹیل تیار کیا اس سے ملک کا بہت بڑا طبقہ مسحور ہو گیا ۔لیکن بات صرف ملک میں اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ نہ جانے کس کمزور لمحے میں نریندر مودی کے ذہن میں یہ بات بھی آ گئی یا پھر ڈال دی گئی کہ ان کے اندر جو خوبیاں ہیں وہ انہیں بین الاقوامی لیڈر بھی بنا سکتی ہیں ۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے بھارت کو وشو گرو بنانے کا فارمولہ پیش کر دیا ۔ظاہر ہے کہ یہی وہ طریقہ ہے جس پر عمل کر کے وہ خود بین الاقوامی لیڈر بن سکتے ہیں ۔
اور پھر شروع ہو گیا وشو گرو بننے اور ملک کو وشو گرو بنانے کا کھیل جس کی زمین کی سختی کا اندازہ انہیں اس وقت ہوا جب موصوف نے دنیا کی سیر شروع کی۔
نریندر مودی اس میدان میں قدم رکھنے کے پہلے یہ بھی نہیں سمجھ سکے کہ بھارت نے آزاد ہونے کے بعد بہت سوچ سمجھ کر خود کو دنیا میں موجود مختلف بلاک سے الگ رہنے کا فیصلہ اس لئے کیا تھا تاکہ اسے نہ صرف اپنی قوت بڑھانی تھی بلکہ بھارت کو کسی کا مخالف ملک بنا کر پیش نہیں کرنا تھا ۔اور یہی وہ دور اندیشی تھی جس کی وجہ سے بھارت نے نہ صرف ترقی کا ہدف حاصل کیا بلکہ اس کی اس پالیسی کو ساری دنیا نے قدر کی نگاہوں سے دیکھا ۔فلسطین اور اسرائیل معاملے پر بھی بھارت نے اپنا ایک موقف دنیا کے سامنے پیش کر دیا تھا کہ وہ اسرائیل کو ایک ملک تسلیم کرتے ہوئے فلسطین کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتا ۔اور اس پر ہونے والے اسرائیل کے ہر حملے کی اس نے مذمت کی ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک طرف بھارت اسرائیل سے برآمدات کو بڑھاتا رہا لیکن فلسطینی کاز کے سب سے بڑے بین الاقوامی لیڈر یاسر عرفات سے بھی ایسی دوستی رکھی جس کی ساری دنیا میں مثالیں دی جاتی ہیں ۔
فلسطین پر بھارت کا موقف جگ ظاہر تھا لیکن اس پر سوال اس وقت کھڑا ہوا جب 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کر دیا ۔اور پھر تمام سابقہ روایات پر خاک ڈال کر وزیر اعظم نے بھارت کو اسرائیل کے ساتھ کھڑا کر دیا اور حماس کو دہشت گرد تنظیم بتا دیا ۔اور نریندر مودی نے یہ غلطی اس وقت کی جب عرب ممالک سے بھارت کے تعلقات بہت خوشگوار ہونے لگے تھے ۔وزیر اعظم اور ان کے حواریوں کو یہ غلط فہمی بھی ہو گئی کہ عرب ممالک ان کی دستی کی وجہ خود نریندر مودی کی شخصیت کا سحر ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ عرب ممالک بھارت سے زیادہ چین سے قریب ہو رہے ہیں اور اس کی وجہ امریکہ کی اقتصادی بد حالی ہے ۔ایک طویل عرصہ سے امریکہ کے اشاروں پر کام کرنے والے عرب ممالک نے بھی دیر سے ہی سہی لیکن یہ سوچنا شروع کر دیا کہ اب ان ممالک کو تیل پر اپنا انحصار کم کر کے دوسر ے تجارتی ذرائع بھی تلاش کرنے ہونگے ۔اور اس کے لئے ایشیا میں بھارت سے بڑا بازار دوسرا کوئی نہیں ۔عربوں کی اس حکمت عملی کو مودی جی نے اپنی شخصیت کا جادو سمجھ لیا اور پھر اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوکر دنیا کے سامنے یہ مثال پیش کی کہ نریندر مودی بھارت کی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔انہیں یہ سمجھنے میں جو تاخیر ہوئی اس کی وجہ سے بھارت کا بڑا نقصان ہو گیا کہ عرب ممالک کے شہریوں میں بھارت کی شبیہ بالکل بگڑ گئی اور جب یہ رپورٹ مودی تک پہنچی تو فورا ہی خارجہ سکریٹری نے اس کی وضاحت کی اور اب خود وزیر اعظم نے
دوسری وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ کے افتتاحی سیشن میں پہلے تو اپنی تقریر کے دوران، کہا کہ تشدد اور دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کا غیر متزلزل موقف برقرار ہے ۔لیکن پھر اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں شہری ہلاکتوں کی مذمت بھی کی اور اسرائیل حماس جنگ
کی وجہ سے مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پس منظر میں گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان اتحاد اور تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیر اعظم نے صاف لفظوں میں کہا کہ ہم اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں شہریوں کی ہلاکتوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں۔”
کل ملا کر نریندر مودی ایک بار پھر اپنی باتوں سے انحراف کا راستہ اختیار کر رہے ہیں ۔لیکن یہ ملکی سیاست سے الگ کی دنیا ہے اور یہاں روز موقف نہیں بدلے جاتے ۔












