دربھنگہ(پریس ریلیز)شاعر اسلام قاری رضوان احمد دربھنگوی کے صاحب زادےفرقان بابو کے لیے ایک یادگار دن تھا کیونکہ اس نے اپنی زندگی کا پہلا روزہ مکمل کیا۔ سحری کے وقت اٹھنے، سارا دن بھوک و پیاس برداشت کرنے اور افطاری کے دسترخوان پر دعا مانگنے تک، فرقان نے صبر اور تقویٰ کا مظاہرہ کیا۔ اس نے یہ روزہ خوشی اور جذبے سے مکمل کیا، جو اس کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ فرقان کا پہلا روزہ: خوشی اور کامیابی کا دن 19 فروری 2026 کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا آغاز ہوا، جس کے ساتھ ہی فرقان نے اپنا پہلا روزہ رکھا۔ صبح سویرے سحری کے وقت، گھر میں ایک خاص روحانی ماحول تھا، جہاں فرقان نے اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر روزے کی نیت کی، سارا دن، فرقان نے کھانے پینے سے پرہیز کیا، جو صبر اور خود احتسابی کا ایک بہترین نمونہ تھا۔ اگرچہ پیاس اور بھوک نے اسے ستایا، لیکن اپنے جذبے کو بلند رکھتے ہوئے، اس نے روزہ مکمل کیا۔ شام کو، افطاری کے وقت، اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی، جو اس کی کامیابی کی عکاسی تھی۔پہلا روزہ مکمل کرنے کی بے پناہ خوشی اور روحانی سکون،فرقان کے لیے یہ صرف ایک روزہ نہیں، بلکہ ایمان، صبر اور اللہ کی اطاعت کا ایک عملی سبق تھا۔ یہ دن اس کی زندگی میں صبر اور استقامت کا ایک نیا باب بن گیا۔دادا جان محمد سبحان اور دادی کے علاوہ گھر کے سارے لوگوں نے تحفہ کے ساتھ ڈھیروں ساری دعائیں دی،اس خبر کو سنتے ہی مبارک بادی کا سلسلہ شروع ہوا جن میں قاضی شریعت علامہ مفتی فیضان الرحمن سبحانی،مولانا تحسین رضا مصباحی۔مولانا محبوب گوہر،مفتی آل مصطفیٰ مرکزی مظفرپوری،مولانا سلمان احمد،مولانا غلام ربانی کلکتہ۔مفتی شمس الزماں خان،مولانا ڈاکٹر مجاہد حسین،مولانا شبیر اشتر،مولانا مشتاق احمد،مولاناغلام سرور مصباحی،سید صبغت اللہ ڈبو خان،جاوید انور،خلیق الزماں،محمد عمران،ریحان،عرفان،غفران،کے علاوہ بہت سارے محبین نے نیک مستقبل کی دعائیں دی۔












