صادق شروانی
نئی دہلی،4دسمبر،سماج نیوز سروس:دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات گزشتہ اسمبلی الیکشن کے مقابلہ بدلے ہوئے نظر آئے، خاص طور سے دہلی کے تمام مسلم حلقوںمیں سروے کے مطابق عام آدمی پارٹی کو ووٹ تو ڈالے مگر کانگریس کو مسلمانوںنے اس مرتبہ زیادہ پسند کیا ہے۔خاص طور سے مذہبی طبقہ کجریوال سے ناراض نظر آیا کیوں کہ کافی حد تک کانگریس پارٹی مسلمانوں کے درمیان دہلی فساد2020،تبلیغی جماعت کے ایشو سے لے کر گجرات فساد میں متاثرہ بلقیس بانو کو اس الیکشن میں زندہ رکھا۔ یہ تمام اہم ایشو ہیںجو الیکشن کے ارد گرد گھومتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان ایشوز پر کجریوال سرکار خاموش رہی اور ’آپ‘ لیڈر ایک مرتبہ پھر سے عام آدمی پارٹی سرکار کی پالیسیوں کو عوام کو سمجھانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں؟۔ دہلی میونسپل کارپوریشن کے الیکشن میںر ائے دہندگان نے حق رائے دہی کا استعمال بڑھ چڑھ کر کیا۔اسی کے تحت جمنا پار کے بیشتر مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی حق رائے ہندگان نے صبح 8سے شام 5-30تک ووٹران نے اپنے اپنے پسند کے امید واروں کے حق میں حق رائے دہی کا استعمال کیا۔سیلم پور کے جے بلاک ،بی بلاک ، ڈی بلا ک بی بلاک و دیگر سرکاری اسکولوں میں ووٹ ڈالے گئے ۔

اسی طرح چوہان بانگر، جعفر آبادوارڈ کے تحت بیشتر اسکولوں میں ووٹ ڈالے گئے، موج پور‘ برہم پوری کے کئی اسکولوں ، شاستری پارک ،ویلکم وارڈ، جنتا کالونی ،،کبیر نگروارڈ ، سبھاش محلہ وارڈ ، مصطفی آباد وارڈ ، نہرو وہار وارڈ ، برج پوری وارڈ اور شری رام کالونی وارڈ کے سرکاری وغیر سرکاری اسکولوں میں ووٹ ڈالے گئے۔بیشتر وارڈوں کا دورہ کر نے کے بعد رائے دہنگان نے اپنے پسند کے امید واروں کے حق میں ووٹ ڈال کر جیتنے کا دعویٰ کیا ہے ،کسی نے عام آدمی پار ٹی کسی نے کانگریس امیدو ار اور کسی نے مجلس اتحاد المسلمین کے امید واروں کی حمایت میں حق رائے دہی کا استعما کرکے اپنے اپنے امید وار کی جیت کا دعویٰ کیا ہے۔دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی پولنگ اسٹیشن پر عام آدمی پار ٹی کے سپوٹر تھے اور کہیں پر کانگریس و مجلس اتحاد المسلمین کے سپوٹر اور کسی وارڈ میں بطور آزاد امید واروں کی حمایت میں لوگوں نے ووٹنگ کر کے آزاد امید واروں کو جتانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہم آزاد امیدو ار کو جتا کران کا ٹکٹ کاٹنے والوں کو سبق سکھائیں گے جس میں سیلم پور سے دومرتبہ کی مسلسل کونسلرحجن شکیلہ افضال وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابی میدان میں ہیں اور اسی طرح مصطفی آباد وارڈ سے دمرتبہ کی کونسلر پروین معروف کا کانگریس سے ٹکٹ کٹنے سے وہ بطور آزاد امید وار انتخابی میدان میں ہیں۔ کانگریس کو مضبوط کرنے اورلوگوں کی ناراضگی دور کرنے کیلئے ہندو مسلم کانگریس لیڈر ہمہ وقت سرگرم ہیں جن میں خصوصی طور سے سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی اور راہل گاندھی و دیگر لیڈران پیش پیش ہیں جس کے نتیجہ میں بھارت جوڑوں یاترا بھی ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہونے کا اندیشہ ہے ۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جمنا پار کے مسلم اکثریتی علاقوں میںکانگریس کا ووٹ گراف میں کافی اضافے کا امکان ہے ۔ مصطفی آباد اسمبلی حلقہ کے تحت پانچ وارڈوں کی تشکیل عمل میں آئی ہے جس میں سابق رکن اسمبلی حسن احمد نے اپنے کانگریس کے امید واروں کو جتانے کیلئے دن رات ایک کررکھا تھاجس کے نتیجہ میں مختلف سماج نے کانگریس کو جتانے کیلئے اپنی حمایت دی ہے اور اسی وجہ سے مصطفی آسمبلی حلقہ کے تحت وارڈوں میں کانگریس کے حق میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ووٹنگ کی ہے اور یہ حسن احمد کی کاوشوں اور ان کے ترقیاتی کاموںکا نتیجہ ہے۔اسی طرح سیلم پور کے سابق رکن اسمبلی چودھر متین احمد نے بھی چوہان بانگر وارڈ سے اپنی بہو کو جتانے

کیلئے دن رات ایک کیا ہے جس سے چوہان بانگر وارڈ میں بظاہر کانگریس کی لہر تھی۔
اسی طرح کبیر نگر وارڈ ‘برج پوری وارڈ نہرو وہار وارڈ شری رام کالونی وارڈ شاستری پارک وارڈمیں بھی مسلمانوں کا رجحان کانگریس امید واروں کو جتانے کیلئے تھا اور رجحان سے کانگریس امیدوارہی جیت کا پرچم لہرائیں گے اور ووٹ فیصد میں بھی کافی اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عام آدمی پارٹی کے وجود میں آنے سے مسلمانوں کا رجحان آپ کی طرف ہونے آپ دہلی کے اقتدار کی کرسی پر براجمان ہے لیکن شمال مشرقی دہلی میں فساد،گرفتاریاں،سی اے اے،این آرسی ‘تبلیغی جماعت کا مرکز ‘جماعتی اور مسلمانوں کو نظر اندازکرنا اور ان کی حکومتی عدم خیر خواہی کے نتیجہ میں مسلم سماج کا رجحان کانگریس کی طر ف ہونے سے کانگریس امید وار بھی جیت کا پرچم لہرائیں گے۔ حالانکہ سیلم پور ممبراسمبلی عبدالرحمن نے چاروں وارڈوں پر عام آدمی پارٹی کی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے تو وہیں چوہان بانگر وارڈ سے ’آپ‘ امیدوار عاصمہ رحمن نے تمام ووٹروںکا شکریہ اداکیا ہے۔












