عالمی سیاست میں اس وقت بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے،ایسا لگ رہا ہے کہ مشرق اور مغرب آمنے سامنے آرہے ہیں،افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد امریکہ یوکرین کے کاندھوں پر اسلحہ رکھ کر روس کے ساتھ لڑائی لڑرہا ہے،اس لڑائی میں امریکہ پھنس گیا ہے،کیونکہ اس کے اتحادی مغربی ممالک اس لڑائی میں اس کا بھرپور ساتھ نہیں دے رہے ہیں،بلکہ ان ممالک نے یوکرین کو اپنے اسلحہ کی منڈی سمجھ لیا ہے ،یوکرین بھی روس سے امریکہ کے بھروسہ جنگ کرکے بڑے بھاری نقصان میں پہنچ گیا ہے،حالانکہ اس جنگ سے یوکرین ہی نہیں اس کے پڑوسی یورپین ممالک بھی خاصے پریشان ہیں۔
یوکرین جنگ میں مسلم ممالک روس کے ساتھ ہیں ،روس کو اس جنگ میں چین کی حمایت بھی حاصل ہے،چین امریکہ کا سخت ترین حریف ملک ہے،امریکہ یوکرین جنگ کے ذریعہ روس کو کمزورکرنا چاہتا تھا،لیکن اس جنگ سے روس کمزرور ہونے کے بجائے مضبوط ہو رہا ہے،کیونکہ اس کے ساتھ اس لڑائی میں چین ،شمالی کوریا اور کئی بڑے مسلم ممالک آگئے ہیں،ان ممالک کے روس کے ساتھ آنے سے روس امریکہ کے مقابلہ بڑی طاقت بن کر ابھررہا ہے،امریکہ کو یوں بھی اس لڑائی میں شکست ہوئی ہے ،کیونکہ وہ چاہ کر بھی یوکرین کو ناٹو ممالک کا ممبر نہیں بنا سکا ہے،یہ امریکہ کی ہار ہی ہے کہ اس نے یوکرین کو ناٹو ممبر بنانے کے بجائے فن لینڈ کو ناٹو ممبر بنایا ہے،فن لینڈ یورپی یونین کا ممبر ملک ہے،روس کی لڑائی اس بات کو لے کر تھی کہ جو ممالک سوویت یونین کا حصہ تھے وہ امریکہ کے کہنے پر ناٹو کے ممبر نہ بنیں، کیونکہ ناٹو میں جانے کا سیدھا مطلب یہ تھا،کہ یہ سوویت یونین سے الگ ہوئے ممالک امریکی اتحاد میں شامل ہو جائیں گے،اور امریکی اتحاد میں شامل ہوکر پھر یہ امریکہ کے اشارہ پر علاقہ میں روسی مفادات کو نقصان پہنچائیں گے،یوکرین سوویت یونین سے آزاد ہوا ملک ہے، روس کی یوکرین کو نصیحت تھی کہ وہ امریکی خیمہ میں جانے کے بجائے روسی اتحاد میں بنا رہے ،مگر یوکرین نے امریکی اتحاد میں جانے کو روس پرزیادہ ترجیح دی،نتیجہ میں روس نے یوکرین پر حملہ کردیا،اور دونوں ممالک کے درمیان فروری 2022میں جنگ چھڑ گئی جو ہنوز جاری ہے ،اس جنگ میں یوکرین کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے،اب یوکرین فن لینڈ کے ناٹو میں شامل ہونے پر اسے یوکرین کے ساتھ امریکہ کا دھوکہ قرار دے رہا ہے،ویسے بھی امریکہ نے یوکرین کو اپنے بھروسہ میں لے کر روس کے ساتھ جنگ کی حالت میں دھکیل دیا ہے،کیونکہ امریکہ اب روس کے ساتھ سوویت یونین کی طرح سرد جنگ لڑنا نہیں چاہتا تھا،اسی لئے امریکہ نے یوکرین کو مہرا بناکر روس سے لڑا دیا،حالانکہ اس لڑائی میں امریکہ کو روس کے اتحاد میں چین،شمالی کوریا اور کئی بڑے مسلم ممالک کے جانے سے نقصان کا سامنا ہے۔
روس یوکرین جنگ میں حالانکہ چین ،شمالی کوریا اور مسلم ممالک روس کے خاموش سپورٹر بنے ہوئے ہیں،مگر اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ممالک اب روس کے شانہ بہ شانہ آگئے ہیں ،یوکرین جنگ میں روس کی مددکرنے والے مسلم ممالک میں سرفہرست ایران کا نام ہے،کہا جا رہا ہے کہ یوکرین جنگ میں روس ایران میں بنے ڈرون سے یوکرین میں بم برسا رہا ہے،ادھر ترکی بھی ناٹو ممبر ہونے کے باوجود یوکرین جنگ میں روسی مفادات کا خیال رکھ رہا ہے،پاکستان بھی کہنے کو اسی اتحاد میں شامل ہے ،لیکن اس نے ابھی کھل کر کوئی اعلان نہیں کیا ہے،پاکستان چین کا قریبی دوست ملک ہے اور چین نے روس کی ایما پر مسلم ممالک کو متحد کرنے کی کوششیں تیزکردی ہیں،ظاہر ہے ایسی صورت میں پاکستان چین کی کوششوں سے باہر نہیں جائے گا۔
فارس اور خلیج ممالک میں سعودی عرب ایران ایک دوسرے کے سخت ترین حریف ممالک تھے ،لیکن روس کے کہنے پر چین نے دونوں ممالک میں نہ صرف پرانی عداوتیں بھلواکردوستی کرائی ہے، بلکہ اس خطہ میں شیعہ سنی جھگڑے کو بھی ختم کراکردونوں کو مسلم اتحاد کی رہبری عطا کرادی ہے،ترکی سعودی عرب اور ایران کے اتحاد میں شامل ہے ،پاکستان بھی اسی اتحاد کا حصہ ہے،ایران چونکہ امریکہ کی دشمنی کی فہرست میں نمبر ایک پر ہے لیکن سعودی عرب امریکہ کا اتحادی ملک رہا ہے،پچھلے کچھ سالوں سے جب سے سعودی صحافی خشوگی کا قتل ہوا ہے، سعودی عرب امریکہ کے رشتوں میں تلخی آنی شروع ہو گئی تھی،یہ تلخی حالانکہ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور اقتدار میں شروع ہوئی تھی ،مگر یہ موجودہ صدر جو بائیڈن کے دور اقتدار میں بھی پروان چڑھتی رہی ،آخر کار روس اور چین نے صحیح موقع پر سعودی عرب کو ایران کے ساتھ لاکراپنے خیمہ میں شامل کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی ہے۔
روس یوکرین جنگ سے دنیا میں جو سیاسی ہلچل پیدا ہوئی ہے اسے دیکھ کر بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ روس امریکہ اور مغربی ممالک کے مقابلہ چین کی مدد سے ایک مشرقی اتحاد بنانے جا رہا ہے ،روس اس اتحاد میں ان طاقتور مسلم ممالک کو شامل کر رہا ہے ،جو امریکہ سے یا تو کھلی دشمنی رکھتے ہیںیا اس سے دوستی رکھتے تھے ،دشمنی رکھنے والے ملکوں میں ایران کا نام سرفہرست ہے اور سعودی عرب امریکہ کا پرانا دوست ملک رہا ہے،پاکستان بھی امریکہ کے دباؤ میں رہا ہے اور ترکی امریکہ کی قیادت والے ناٹو کے اتحاد میںپہلے ہی سے شامل ہے ،سیاسی مبصرین بن رہے اس نئے اتحاد کو روس یوکرین جنگ سے جوڈ کر دیکھ رہے ہیں،جبکہ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے،کہ چین مسلم ممالک کو متحد کرکے اپنی تجارت کو توسیع دینا چاہتا ہے،جیسا کہ چین نے پاکستان میں (سی پیک )یعنی چائنہ پاکستان اکونومک کوریڈوربناکر اپنی توسیعی پسندانہ تجارت کو فروغ دیا ہے،دریں اثنا سمجھا یہ بھی گیا ہے کہ چین مسلم ممالک کو متحد کرکے امریکہ کی طاقت کو کم کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے اس کا فائدہ تائیوان پر قبضہ کرنے میں مل سکے،یہ اتحاد روس کی ایما پر بن رہا ہے ،چین کی توسیعی پسندانہ تجارت کا حصہ ہے یا پھر چین امریکہ کو کمزور کرنے کے لئے مسلمانوں کو اپنے ساتھ لا رہا ہے؟بہر حال کچھ بھی ہو بن رہے اس نئے اتحاد سے مسلم امہ کو فائدہ ہی فائدہ ہے ،ان کے روس چین کے خیمہ میں جانے سے اسرائیل کو تشویش لاحق ہوئی ہے،کیونکہ اس اتحاد سے اسرائیل کے دشمن ایران کو مضبوطی ملی ہے،ادھر اسرائیل کے امریکہ سے تعلقات کمزور ہوئے ہیں،اور مغربی ممالک بھی اب اسرائیل کے اتنا قریب نہیں رہ گئے ہیں جتنے وہ پہلے اسرائیل کو ہر طرح کی سپورٹ کرتے تھے،اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑجاتی ہے تو اس جنگ میں ایران اکیلا کھڑا نہیں رہ جائے گا بلکہ اس کے ساتھ اس کے اتحادی ملک جن میں روس چین اور طاقتور مسلم ممالک شامل ہیں جنگ میں کود پڑیں گے،روس کی فوج پہلے ہی سے ملک شام میں موجود ہے،سعودی عرب سمیت خلیج کے دوسرے ممالک جو اسرائیل کے ساتھ نرم گوشہ رکھتے تھے اس لڑائی میں وہ بھی اسرائیل کے خلاف ایران کے ساتھ آجائیں گے۔












