ممبئی ،پریس ریلیز،ہمارا سماج:دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کے تحت سال 2006/ سے جیل میں مقید فیصل عطاء الرحمن شیخ نامی مسلم شخص کی ضمانت گذشتہ شام بامبے ہائی کورٹ نے منظور کی۔ملزم فیصل عطاء الرحمن شیخ کو اورنگ آباد اسلحہ ضبطی مقدمہ میں آرتھر روڈ جیل میں قام خصوصی سیشن عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔سیشن عدالت کے فیصلے کے خلاف داخل اپیل بامبے ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ملزم فیصل شیخ کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) نے قانونی امداد فراہم کی ہے۔فیصل عطاء الرحمن کا تعلق ممبئی کے مضافات کے مسلم اکثریتی علاقے میرا روڈ سے ہے۔جمعیۃ علماء کی جانب سے مقرر کردہ سینئرایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری اور ان کی معاون وکیل پایوشی رائے نے دوران بحث دو رکنی بینچ کے جسٹس بھارتی ڈانگرے اور جسٹس منجوشا اجئے دیشپانڈے کو بتایا کہ سیشن عدالت نے فیصل شیخ کو 7/11/ ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ مقدمہ میں دیئے گئے اقبالیہ بیان کی بنیاد پر عمر قید کی سزا سنائی ہے جبکہ بامبے ہائی کورٹ نے گذشتہ سال جولائی میں 7/11/ لوکل ٹرین بم دھماکہ میں جھوٹے پھنسائے گئے تمام ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیا تھا اور فیصل شیخ کے اقبالیہ بیان کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ دوران بحث یوگ چودھری نے عدالت کو مزید بتایا کہ اورنگ آباد اسلحہ ضبطی مقدمہ سے فیصل شیخ کا کوئی لینا دینا تھا ہی نہیں تھا اس کے باوجود اسے اے ٹی ایس نے ملزم بنایا اور جبری اور جعلی اقبالیہ بیان کی بنیاد پر اسے عمر قید کی سزا ہوئی۔ ایڈوکیٹ یوگ چودھری نے عدالت سے گذارش کی کہ وہ ملزم کو ضمانت پر رہا کرے کیونکہ ملزم گذشتہ 20/ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے نیز اس طویل قید کے دوران اس کے مقدمہ کی پیروی کرنے والے اس کے والدین کا انتقال بھی ہوچکا ہے اور ملزم کو بھی متعدد بیماریاں لاحق ہے۔سرکاری وکیل نے فیصل شیخ کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی اور کہا کہ ملزم کو دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کے تحت عمر قید کی سزا ہوئی ہے نیز 7/11/ ممبئی لوکل ٹرین سے بری ہونے کا فائدہ ملزم اٹھا نہیں سکتاہے کیونکہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو ریاستی سرکار نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا ہوا ہے۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد دو رکنی بینچ نے فیصل عطاء الرحمن شیخ کو مشروط ضمانت پررہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں تبصرہ کیاکہ ملزم 20/ سالوں سے جیل میں مقید ہے اور اس کی اپیل پر ماضی قریب میں سماعت ہونے کی امید نہیں ہے لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔بامبے ہائی کورٹ کے آج کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ 7/11/ مقدمہ کا فیصلہ آنے کے بعد ہم نے وکلاء کو ہدایت دی تھی کہ فیصل عطاء الرحمن کی ضمانت پر رہائی کے لئے کوشش کریں۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ اورنگ آباد اسلحہ ضبطی مقدمہ میں نچلی عدالت سے عمر قید کی سزا پانے والے محمد عامر شکیل اور عاکف بیابانی کی ضمانت عرضداشتیں زیر سماعت ہے، ان دونوں ملزمین کی ضمانت عرضداشتوں پر فیصلہ آنے کے بعد ملزم اسلم کشمیری کی ضمانت عرضداشت ہائی کورٹ میں داخل کی جائے گی۔انہوں نے مزیدکہاکہ فیصل عطاء الرحمن کے جیل سے رہاہوتے ہی اس کی جانب سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں کیویٹ داخل کیا جائے گا۔واضح رہے کہ 7/11/ ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ مقدمہ میں مہاراشٹر اے ٹی ایس نے فیصل عطاء الرحمن شیخ اور اس کے چھوٹے بھائی مزمل عطاء الرحمن شیخ کو گرفتار کرکے ان پر دہشت گردانہ کارروائیوں کی سازش میں ملوث ہونے کا سنگین الزام عائد کیا تھا لیکن بامبے ہائی کورٹ نے اے ٹی ایس کے اس دعوے کی قلعی کھولتے ہوئے دونوں بھائیوں سمیت تمام ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیا تھا۔فیصل شیخ کو اورنگ آباد اسلحہ ضبطی مقدمہ میں عمر قید کی سزا ہونے کی وجہ سے اس کی پونے کی یروڈا جیل سے رہائی نہیں ہوسکی تھی لیکن اب جبکہ بامبے ہائی کور ٹ نے اس کی ضمانت منظور کرلی ہے، فیصل کی 20/ سالوں کے بعد جیل سے رہائی ممکن ہے۔












