صادق شروانی
نئی دہلی ،سماج نیوز سروس: دہلی حکومت کے ذریعہ کھولی گئی اٹل کینٹین کی تعداد اب 73 ہوگئی ہے۔ جن میں سے حالیہ دنوں 25 نئی کینٹین کھولی گئی ہیں۔ ان کینٹین میں صرف پانچ روپے میں سرکار کی جانب سے متوازن غذا دستیاب کرائی جاتی ہے۔ دہلی کی ریکھا گپتا حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اٹل کینٹین کی تعداد کو 100 تک بڑھانے کا ٹارگیٹ ہے۔ واضح رہے کہ دہلی میں اٹل کینٹین سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے یوم پیدائش پر شروع کی گئی تھیں۔ پانچ روپے میں ملنے والا اچھا اور سستا کھانا جس میں چار روٹی دال، سبزی، چاول، اچار اور سلاد وغیرہ دیا جاتاہے۔ یہ دن میں دوپہر ساڑھے گیارہ سے لے کر دوپہر دو بجے تک اور رات ساڑھے چھ بجے سے نو بجے تک تازہ کھانا مہیا کرایا جاتا ہے۔ اکثر و بیشتر یہ کیٹین مزدوروں، ریکشا پولر اور ضرورت مند لوگوں کے لیے عزت کے ساتھ ملنے والاکھانا دیا جاتاہے۔ اس کھانے کے لیے کسی طرح کی کوئی کاغذی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔ یوں تو دہلی میں اب تک تقریباً 73 اٹل کینٹین کھولی جاچکی ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ اٹل کینٹین دہلی میں واقع تمام مسلم اسمبلی حلقے اس کینٹین سے محروم ہیں۔ جہاں ایک طرف نریلا سے لے کر دہلی کے مختلف اسمبلی حلقوں چھترپور وغیرہ میں کینٹین کھولی گئی ہیں تو وہیں دہلی میں کہے جانے والے مسلم اکثریتی علاقوں سیلم پور، بابر پور، مصطفےٰ آباد، مٹیا
محل، بلیماران اور اوکھلا وغیرہ میں ایک بھی کینٹین نہیں کھولی گئی ہے۔ اس پر لوگوں کو اعتراض ہے اور ان کا کہنا ہے کیا ان علاقوں میں غریب اور ضرورت مند لوگ نہیں رہتے ہیں۔ یا پھر یہاں کے عوامی نمائندوں نے اپنے اپنے حلقوں میں اٹل کینٹین کھلوانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ہمارا سماج کے نمائندے نے سیلم پور ممبر اسمبلی چودھری زبیر احمد سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ دہلی حکومت کی جانب سے یہ اٹل کینٹین صرف اور صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کے اسمبلی حلقوں میں کھولی گئی ہیں جو سراسر نا انصافی ہے۔ ہم حکومت کے خلاف اس کو آئندہ اسمبلی سیشن میں 280 کے تحت زور شور سے اٹھائیں گے۔ حالانکہ اوکھلا ممبر اسمبلی امانت اللہ خان کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اوکھلا میں اس طرح کی کوئی کینٹین نہیں ہے۔ تو وہیں باوثوق ذرائع کے مطابق مٹیا محل، بابر پور، مصطفےٰ آباد اور بلیماران میں بھی اس طرح کی کوئی کینٹین کھولنے کی ابھی تک کوئی تجویز بھی سامنے نہیں آئی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ اٹل کینٹین حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ایک اچھی پہل ہے۔ جو صرف پانچ روپے میں سستا اور اچھا کھانا دستیاب کرانے کا دعویٰ کرتی ہے۔ یہ کینٹین دہلی اربن شیلٹر امپرومینٹ بورڈ DUSIB)) کے ذریعہ انتخاب کیا جاتاہے۔ دہلی اربن شیلٹر امپرومینٹ بورڈ DUSIB)) کے نوڈل آفیسر پرنسپل سکریٹری پی کے جھا نے ہمارا سماج سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ خاص طور پر ایسے مقامات پر اٹل کینٹین کھولی جاتی ہیں جیسے جے جے کلسٹر، سرکاری اسپتالوں اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں وغیرہ میں ضرورت مند لوگ رہائش پذیر ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ DUSIB کو اب تک جتنی بھی تجاویز اٹل کینٹین کے لیے موصول ہوئی ہیں اس پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔ مسلم علاقوں میں اٹل کینٹین کھولنے کے سوال پر انھوں نے بتایا کہ تعصب جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ ہمیں جہاں سے بھی جس اسمبلی حلقے سے بھی تجاویز مل رہی ہیں وہاں اٹل کینٹین کھولنے کا انتظام کیا جا رہاہے۔واضح رہے آج کل جس طرح سے گیس کی قلت کی وجہ سے چھوٹے موٹے ہوٹل بند ہوگئے ہیں۔ ان ہوٹلوں پر عام طور پر مزدور طبقہ کھانا کھاتا ہے۔ان کو ان دنوں بہت بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔












