کانپور،سماج نیوز سروس : جمعیۃ علماء شہر کانپور کی ایک اہم یٹنگ دفتر جمعیۃ بلڈنگ، رجبی روڈ میں شہری صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی۔ جس میں جمعیۃ علماء ہند کے مختلف کلیدی شعبہ جات، بالخصوص دینی تعلیمی بورڈ، جمعیۃ یوتھ کلب، جن وکاس سیوا، اصلاح معاشرہ، سدبھاونا اور دارالتربیت کے تحت شہر کانپور میں جاری خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان میں مزید وسعت و تیزی لانے کے لیے ایک جامع اور مٔوثر لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔ میٹنگ کے دوران جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ اور شہری جنرل سکریٹری مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے تمام شعبہ جات کا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہوئے جمعیۃ کے بنیادی مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمعیۃ علماء ہند کا بنیادی ہدف مسلمانوں کو دینی، تعلیمی، معاشی اور سیاسی، ہر اعتبار سے مستحکم کرنا ہے۔ مولانا نے دینی تعلیمی بورڈ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم مینجمنٹ کے تحت چلنے والے اسکولوں کے ذمہ داران سے رابطہ کر کے ان سے یہ گزارش کی جائے گی کہ وہ اپنے نصاب میں ایک کلاس دینیات کے لیے مختص کریں اور دینی تعلیمی بورڈ کے منظور شدہ نصاب کو شامل کریں۔ اس مقصد کے لیے 15 رمضان تک شہر کے تمام مسلم مینجمنٹ اسکولوں اور ان کے ذمہ داران کی فہرست (بمعہ رابطہ نمبر) تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ نیز، پٹکاپور، جاجمؤ، بابوپوروہ، اور جوہی لال کالونی میں پہلے سے چل رہے مکاتب کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے دیگر علاقوں میں بھی نئے مکاتب کے قیام پر زور دیا گیا۔ میٹنگ میں رمضان المبارک کی مناسبت سے شہر کے ائمہ مساجد سے ایک خصوصی اپیل جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں ان سے گزارش کی جائے گی کہ وہ اپنی مساجد میں تعلیم بالغان کا باقاعدہ نظام قائم کریں۔ روزانہ کی بنیاد پر مساجد میں کم از کم 15 سے 20 منٹ کادرسِ قرآن اور نمازِ تراویح کے بعد خلاصۃ القرآن کے بیان کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ، خواتین کے لیے دینی تعلیم اور رہنمائی کے لیے مکتبِ نسواں کے قیام پر بھی تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا، جس کے تحت عید کے بعد خواتین کے خصوصی تعلیمی و تربیتی پروگرامز منعقد کیے جائیں گے۔ میٹنگ میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بعض مقامات پر چند دنوں میں تراویح مکمل کرنے کے رجحان کے باعث قرآن کریم انتہائی تیزی اور بسا اوقات غلط پڑھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے حفاظِ قرآن کے نام ایک اپیل جاری کی جائے گی کہ قرآن مجید کو اس کے پورے آداب اور ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے۔ یہ بھی طے پایا کہ اگر کہیں قرآن کریم کے تلفظ اور ادائیگی میں صریح کوتاہی پائی گئی تو مقامی ذمہ داران اس کا نوٹس لیں گے اور اصلاح کی غرض سے متعلقہ افراد کو نجی طور پر متوجہ کریں گے تاکہ کلام اللہ کی عظمت برقرار رہے۔












