امریکا:امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اور وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کے درمیان کھلے اختلافات کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں۔ واشنگٹن روانگی سے قبل گیلنٹ نے کہا کہ وہ سینئر امریکی حکام کے ساتھ واشنگٹن میں جو ملاقاتیں کریں گے وہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ لبنانی سرحد کے ساتھ شمالی محاذ پر واشنگٹن کی پیش رفت پر بھی بات کریں گے۔
گیلنٹ نے کہا کہ غزہ، لبنان یا کسی بھی علاقے میں ضرورت پڑنے پر کارروائی کے لیے تل ابیب کی تیاری مکمل ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق گیلنٹ کی واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ بلنکن، امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن، سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز اور خصوصی ایلچی آموس سے ملاقات متوقع ہے۔ ان کا یہ دورہ منگل کو ختم ہوگا۔
گیلنٹ کے دورے کا بنیادی مقصد امریکہ پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ بھاری بموں کی کھیپ کی اسرائیل کو فراہمی کو منجمد نہ کرے۔ گیلنٹ کے دورہ سے قبل صدر بائیڈن کی انتظامیہ اور نیتن یاہو کی حکومت کے درمیان عوامی سطح پر تنقید کا تبادلہ ہوا ہے۔
گزشتہ منگل کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو ایک ویڈیو کلپ کے ذریعے واشنگٹن پر تنقید کرتے نظر آئے اور دعویٰ کیا کہ امریکہ نے اسرائیل کو اسلحے کی مزید کھیپ کی ترسیل بھی منجمد کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے رد عمل میں کہا کہ اسے کوئی اندازہ نہیں تھا کہ نیتن یاہو کس بات کا ذکر کر رہے تھے۔
کچھ تجزیہ کاروں نے قیاس کیا کہ نیتن یاہو کی ویڈیو کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ گیلنٹ کے واشنگٹن کے دورے کے بعد اگر امریکہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے آگے بڑھنے پر راضی ہو جاتا ہے تو انہیں اسلحہ کھیپ لانے کا کریڈٹ مل جائے گا۔
ہفتہ کو غزہ کے حکام نے بتایا تھا کہ سات اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بربریت میں 37551 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یاد رہے سات اکتوبر کو حماس نے اچانک حملہ کرکے 251 اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا اور 1194 کو ہلاک کردیا تھا۔ 251 یرغمالیوں میں سے 116 اب بھی یرغمال ہیں ۔ اسرائیلی اندازے کے مطابق ان میں سے بھی 41 ہلاک ہوچکے ہیں۔
ہفتے کے روز دسیوں ہزار افراد نے تل ابیب میں مظاہرہ کیا، اسرائیلی پرچم لہرائے اور نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے قبل از وقت انتخابات اور غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کی واپسی کا مطالبہ کیا۔












