شعیب رضا فاطمی
بدھ کے دن پارلیامنٹ کے حفاظتی نظام میں اس وقت دراندازی ہوئی جب پارلیامنٹ میں وقفہ سوال کا آخری سیشن چل رہا تھا ،یکایک وصیٹرس گیلری میں بیٹھے لوگوں میں سے پہلے ایک اور پھر دوسرانوجوان ہال میں چھلانگ لگاتا ہے اور اسپیکر کی کرسی کی طرف ٹیبل کو پھلانگتا ہوا بڑھتا ہے ۔اسی دوران وہ اپنے جوتے سے دھنواں خارج کرنے والا کین نکالتا ہے اور ہال میں دھنویں کا غبار پھیلنے لگتا ہے ،لیکن اسی دوران کچھ ممبران پارلیامنٹ ان نوجوانوں کو دبوچ لیتے ہیں اور پھر سیکیوریٹی گارڈ انہیں لے کر ہال سے باہر چلے جاتے ہیں ۔ٹھیک اسی وقت ہال سے باہر لان میں ایک لڑکی کو بھی اسی طرح کے دھنویں والے کین کے ساتھ گرفتار کیا جاتا ہے ۔پارلیامنٹ کے اندر جو کچھ ہوا اس کی ویڈیو ریکارڈنگ تو سوشل میڈیا پر وائرل ہے لیکن ان نوجوانوں کی کوئی آواز ابھی تک باہر نہیں آئی کہ آیا وہ کیا کہہ رہے تھے لیکن باہر گرفتار کی گئی لڑکی نے خو کا نام نیلم بتاتے ہوئے کہا کہ میرا تعلق کسی تنظیم سے نہیں ہے ،ہم بیروزگار ہیں اور سرکار ہماری بات نہیں سنتی ہے ۔اس نے کہا کہ جب بھی ہم اپنے حق کی لڑائی لڑنے سڑکوں پر آتے ہیں ہمارے اوپر طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے ،ہماری بات سننے کو کوئی تیار نہیں لہذا مجبور ہو کر یہ انتہائی راستہ ہمیں اختیار کرنا پڑا ۔ بات صرف یہی ہے یا اس سے بھی آگے کچھ ہے یہ سب تحقیق کا موضوع ہے ۔یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ پارلیامنٹ کے حفاظتی نظام میں یہ دراندازی 2001کے پارلیامنٹ پر حملے کی 22ویں برسی پر کی گئی ۔کیا یہ محض اتفاق تھا یا کچھ اور اس پر پڑا پردہ تو تفتیشی ایجنسیاں ہی اٹھائینگی ۔لیکن جہاں تک سوال نیلم کے بیان کا ہے تو اس کے بارے میں جو اطلاعات ابھی تک میڈیا حاصل کر سکی ہے وہ یہ کہ نیلم آزاد نام کی یہ لڑکی پہلے بھی کئی احتجاجی ریلیوں میں شامل رہی ہے ۔وہ چاہے کسانوں کی احتجاجی ریلی ہو یا پہلوان لڑکیوں کا دہلی کے جنتر منتر پر کیا جانے والا احتجاج ۔اور اس دوران اس کو کئی بار پولیس نے حراست میں لے کر تھانے لے جایا گیا ہے ۔
وہ ہریانہ کے جیند ضلع کے گھسو خرد گاؤں کی باشندہ ہے ۔اس نے اپنی تعلیم ہسار میں پوری کی ،اس نے بی اے ،ایم اے ،بی ایڈ،ایم ایڈ،سی ٹی ای ٹی ،ایم فل اور نیٹ کی ڈگری حاصل کی لیکن کافی کوشش اور جدو جہد کے بعد بھی اسے نوکری نہیں ملی ۔اور اسی وجہ سے وہ مسلسل بیروزگاری کے خلاف کی جانے والی ہر جدو جہد میں شامل ہو کر اپنی آواز بلند کرتی رہتی ہے ۔وہ خود کو بھیم راؤ امبیڈکر اور بھگت سنگھ سے متاثر بتاتی ہے ۔بتانے والے یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ اکثر بھگت سنگھ اور آئین ہند پر مشتمل کتابیں اور کتابچے بھی تقسیم کرتی ہوئی دیکھی گئی ہے ۔اپنے گاؤں میں اس نے ایک لائبریری بھی کھول رکھی ہے ۔اگر ابھی تک فراہم کی گئی ان معلومات میں صداقت ہے تو پھر تشویش صرف سرکار کو ہونی چاہئے کہ
نیلم آزاد سرکار کی غلط پالیسیوں سے پیدا ہونے والی بیروزگاری کے کھیت سے اگنے والی لاکھوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی ہے جس نے بھگت سنگھ کے انداز میں پارلیامنٹ میں دھنویں کا بم پھوڑ کر میڈیا اور سرکار کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی ناکام کوشش کی ۔ناکام اس لئے کہ اس نے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود یہ سمجھنے کی غلطی کی کہ بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت نے پارلیامنٹ میں دھنویں کا بم پھینکا تھا وہ 1929تھا ۔وہ انگریز حکومت تھی اور کم سے کم دیشی زبان کی میڈیا سرکار کی غلام نہیں تھی لیکن اب معاملہ یکسر الٹا ہے ۔ملک کو انگریزوں سے آزاد ہوئے بھی پچھتر سال ہو گئے اور ملک کی تمام میڈیا دیشی سرکار کی غلام ہے ۔اس سے یہ غلطی بھی ہوئی کہ اس نے موجودہ سرکار کو انگریزوں کی سرکار سے الگ سمجھا ،اور اب اسےاپنے انجام سے اس کا اندازہ ہو جائے گا کہ اس نے قانون شکنی کر کے خود کو دہشت گردوں کی صف میں شامل کر لیا ہے ۔
لیکن کیا سچ مچ نیلم اور اس کے ساتھیوں نے یہ قدم اٹھا کر غلطی کی ہے ؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو جواب چاہتا ہے ان تمام بیروزگار ہندوستانی نوجوانوں سے جو بیروزگار ہوتے ہوئے بھی سرکاری ایجنڈے کی بساط پر مارے جانے والے پیادے بن کر کھڑے ہیں ۔نیلم اور ان نوجوانوں نے جس قانون شکنی کا سہارا لیا ہے اور ایک صدی بہلے کے بھگت سنگھ اور بٹو کیشور دت بننے کی کو شش کی ہے وہ ان کا ذہنی خلجان ہے کہ ان کی سچائی اور حقیقت پسندی کو یہ معاشرہ بھی اسی طرح قبول کریگا جس طرح ایک صدی پہلے کے لوگوں نے قبول کیا تھا ۔
لیکن ان سب کے باوجود اگر سچ مچ نیلم آزاد نے جو بھی گرفتار ہوتے وقت کہا ہے وہ سچ ہے تو پھر موجودہ سرکار کو نوجوان بیروزگاروں کی اس انتہا پسندی سے خوفزدہ ہو کر اپنی کارپوریٹ پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئے کیونکہ انتہا پسندی کا یہ رحجان نہایت مایوسی کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے اور جب یہ رحجان تحریک کی شکل لیتا ہے تو پھر اس کے سامنے حکومتوں کا وجود کسی سوکھے پتے سے زیادہ نہیں ہوتا ۔












