امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس نے 6 جنوری 2021 کی تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی ایک کوشش کی ہے اور 5 ویں برسی کے موقع پر پولیس اور اُس وقت کی اسپیکر نینسی پلوسی کو مہلک حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ 6 جنوری 2021 کو گرفتار افراد کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور احتجاج کرنے والوں کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا، سیکیورٹی انتظامات میں کوتاہی اور مظاہرین کو روکنے میں ناکامی ہوئی جس کی ذمہ دار نینسی پلوسی تھیں۔ سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس نے منگل کے روز ایک نئی ویب سائٹ متعارف کرائی جس میں 6 جنوری 2021 کے تاریخی واقعات کو مکمل طور پر نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس ویب سائٹ میں پانچ سال قبل امریکی کیپیٹل پر دھاوا بولنے والے ٹرمپ کے حامی ہجوم کو پرامن مظاہرین قرار دیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اشتعال دلایا تھا۔
نئی ویب سائٹ بغیر کسی ثبوت کے یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ 6 جنوری 2021 کو ہونے والا تشدد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اُس وقت کی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کی طرف سے بھڑکایا گیا تھا۔ ویب سائٹ پر اُس دن کے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو متاثرین کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تقریباً 1,600 افراد کو – جن پر اس مہلک حملے کے سلسلے میں الزامات عائد کیے گئے تھے – وسیع پیمانے پر معافیاں دینے پر ایک ہیرو کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ ٹرمپ برسوں سے 6 جنوری کے واقعات کی تاریخ کو مسخ کرتے آ رہے ہیں، جب ان کے ہزاروں حامیوں نے صدر منتخب جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کو روکنے کی امید میں پرتشدد طریقے سے امریکی کیپیٹل پر دھاوا بول دیا تھا۔
تاہم نئی ویب سائٹ ٹرمپ کے ماضی کے بیانیے سے بھی ایک قدم آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے اور اُن دعوؤں کو (جنھیں بہت پہلے جھوٹ ثابت کیا جا چکا ہے) وائٹ ہاؤس کے ایک سرکاری پلیٹ فارم پر جگہ دے دی ہے۔ نئی ویب سائٹ کا ایک مرکزی موضوع ٹرمپ کا دیرینہ لیکن سراسر جھوٹا دعویٰ ہے کہ 2020 کا صدارتی انتخاب چوری کیا گیا تھا۔ بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ سے متعلق ان کے بار بار دہرائے گئے جھوٹ ہی وہ بنیادی وجہ تھے جن کے باعث وہ اور ان کے حامی 6 جنوری کو کانگریس کو انتخابی نتائج کی توثیق سے روکنا چاہتے تھے۔












