نیویارک(یو این آئی) 79ویں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی شرکت کے حوالے سے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ فلسطین میں نسل کشی کرنے والے مجرم کو اقوام متحدہ کی چھت تلے آنے کی اجازت دینا باعث شرم ہے۔صدر ایردوان نے دورہ امریکہ کے دوران ٹرکش ہاوس میں ایجنڈے کے بارے میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیا۔ایردوان نے کہا کہ انہوں نے امریکہ میں اپنی تمام ملاقاتوں میں قریب آنے والے موسم سرما سے قبل فلسطین کو امداد کی ترسیل میں قطعی طور پر اضافہ کرنے، اس کے لیے باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنے اور اسرائیل پر دباو میں اضافہ کیے جانے کے تقاضے کو پیش کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ”اسرائیل ہمارے کئی مہینوں سے جاری انتباہ کے باوجود غزہ کی جنگ کو پورے خطے میں پھیلانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے۔ لبنان کے خلاف حملے اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔ حالیہ ایک ہفتے میں 600 سے زائد لبنانی شہری مارے گئے ہیں۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب تک دنیا خاموش رہے گی اور مغربی ممالک اسرائیلی انتظامیہ کو ہتھیاروں کی فراہمی کو جاری رکھیں گے ، یہ قتل عام جاری رہے گا۔ ہم نے مذاکرات میں اس خطرے پر توجہ مبذول کرائی ہے۔”جب صدر ایردوان سے ” اسرائیل کو عالمی عدالت ِ انصاف میں مقدمے کی کارروائی کا سامنا ہونے کے ایام میں بنیا مین نتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شراکت کے ” حوالے سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے اس کے جواب میں بتایا کہ یہ واقعی شرم کی بات ہے کہ فلسطین میں نسل کشی کرنے والا مجرم اقوام متحدہ کی چھت تلے آسکتا ہے۔ یہ چیز بے دردی سے قتل کیے گئے شیر خوار اور کم سن بچوں ، والدین ،اقوام متحدہ کے اہلکاروں، صحافیوں اور بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ کھلم کھلا بے وفائی ہے۔ ایردوان نے کہا کہ مظلوم اور ظالم، قاتل اور مقتول کے درمیان تفریق نہ کر سکنے اور ہر حقدار کو حق نہ دے سکنے والا یہ نظام زوال کے دہانے پر ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی یا تو اس قاتل کے ساتھ وہی سلوک کرے گی جس کا وہ حقدار ہے، یا پھر یہ شرمناک صورت حال اقوام متحدہ کی تاریخ میں سیاہ دھبے کے طور پر رقم ہو گی۔”












