دیوبند، پچھلے سال کی طرح اس سال بھی جمعیتہ علماءلدھیانہ کی جانب سے سینٹرل جیل لدھیانہ میں بند مسلم قیدیوں کے لیے سحری و افطاری کا سامان بھیجا گیا اور اس موقع پر مسجد عمرفاروق پنجابی باغ ٹبہ روڈ لدھیانہ کی منتظمہ کمیٹی کے فعال رکن اور جمعیتہ علماءلدھیانہ کے سرگرم کارکن محمد سعدین وغیرہ کی جانب سے ایک بڑا پروگرام منعقد کیا گیا۔پروگرام کی صدارت کے فرائض مفتی محمد عارف لدھیانوی صدر جمعیتہ علماءلدھیانہ نے انجام دئیے،جبکہ مہمان خصوصی اور ایم ایل اے دلجیت سنگھ گریوال کے نمائندہ کے طور پر کُلوندر سنگھ شریک ہوئے۔ دلجیت سنگھ گریوال نے اپنے پیغام میں جمعیتہ علماءلدھیانہ اور اس کے کارکنان کی خدمات کی بابت حوصلہ افزا کلمات کہے،انہوں نے کہا کہ جمعیتہ علماءلدھیانہ کی ملی و سماجی خدمات کا ذکر میں پڑھتا اور سنتا رہتا ہوں اور مجھے آپ کی ان کاوشوں و حصولیابیوں کو پڑھ سن کر دلی خوشی ہوتی ہے۔کلوندر سنگھ نے اظہارِ مسرت کے ساتھ نقد کی شکل میں جمعیتہ علماءکا تعاون کیا۔ مفتی محمد عارف لدھیانوی صدر جمعیتہ علماءلدھیانہ نے کہا کہ یتیموں،مسکینوں اور قیدیوں کا تعاون غیرمعمولی کام ہے،یہ اہلِ جنت کا ایک وصف ہے،ہمارے نبی اور صحابہؓ کی زندگیاں قیدیوں اور محتاجوں کی مدد کے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔آپ نے کہا کہ یہ کام ہر جگہ اور ہر مسجد سے ہونا چاہیے اور لوگوں کی اس سلسلہ میں ترغیب و تذکیر مسلسل جاری رہنی چاہیے۔آپ نے کہا کہ ہم نے بلاتفریق مذہب و ملت قیدیوں اور مستحقین کے تعاون کا جو سلسلہ شروع کیا ہے،یہ کام جمعیتہ علماءکے پلیٹ فارم سے آگے بھی حسبِ توفیق جاری رہے گا۔ مفتی محمد انعام قاسمی نائب صدر جمعیتہ علماءلدھیانہ نے کہا کہ آزادی ایک نعمت ہے اور قید و بند کی زندگی ایک آزمائش ہے،قیدی ہم جیسے آزاد لوگوں کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور سچائی یہ ہے کہ مفلوک الحال قیدیوں اور مسکینوں کی جانب دستِ تعاون دراز کرنا اور دامے درمے قدمے سخنے ان کی مدد کرنا یہ ہمارا دینی و اخلاقی فریضہ بھی ہے،آپ نے کہا کہ ایل بلاک بی آر ایس نگر،پنجابی باغ،اور مسلم کالونی شیرپور کے باشندگان کا یہ کارنامہ سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے اور یہ کام آئندہ نسلوں کے لیے ایک مثال بنے گا۔ ناظمِ جلسہ ڈاکٹر قاری محمد یوسف جنرل سکریٹری جمعیتہ علماءلدھیانہ نے کہا کہ رفاہی و تعلیمی کاموں سے دلچسپی لینے میں رضائے رب نصیب ہوتی ہے اور بندگانِ خدا ایسے افراد اور ایسی قوم کو اپنے دلوں اور تذکروں میں زندہ و آباد رکھتے ہیں،آپ نے زور دے کر یہ بات کہی کہ ہمیں رفاہی کاموں کا دائرہ بڑھانا چاہیے اور تعلیم کے ماحول کو عام کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے،اسی طرح ہمارے عروج و ترقی کا سابقہ دور پھر سے لوٹ کر آ سکتا ہے اور پچھڑے پن کا یہ سلسلہ ختم ہو سکتا ہے۔ ڈھائی بجے کے قریب پروگرام ختم ہوا،شرکائے پروگرام میں معروف نعت خواں قاری مجاہدالاسلام امام و خطیب مدینہ مسجد گلابی باغ،قاری محمد حصین،حافظ محمد ندیم،پرویز عالم،حاجی محمد اشرف،حاجی مہتاب،محمد شرافت،محمد فرقان،حاجی محمد عمران،محمد عابد، عبدالصمد، مولوی محمد انس اور محمد شمشاد مدنی وغیرہ کے نام لائقِ ذکر ہیں۔












