برلن، (ہ س)۔ نیٹو نے آرکٹک خطے میں سیکورٹی مضبوط کرنے کے لیے نئے فوجی مشن کی تیاری شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب گرین لینڈ کو لے کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی دیکھنے کو ملی ہے۔نیٹو کے سپریم ہیڈکوارٹرز الائیڈ پاورز یورپ (شیپ) کے ترجمان مارٹن اوڈونیل نے بتایا کہ ’’آرکٹک سینٹری‘‘ نام سے ایک انہینسڈ وجیلنس ایکٹیویٹی کے منصوبے پر کام چل رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پہل آرکٹک اور ہائی نارتھ خطے میں نیٹو کی اسٹریٹجک موجودگی اور چوکسی کو اور مضبوط کرے گی۔ حالانکہ، مشن کی شکل اور تعیناتی سے جڑی تفصیلی جانکاری فی الحال شیئر نہیں کی گئی ہے۔آرکٹک کو لے کر تذکرے تب تیز ہوئے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کی سیکورٹی کو اہم مسئلہ بناتے ہوئے اس خطے میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کی بات کہی تھی۔ دسمبر میں ان کے بیانات سے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد میں بے چینی بڑھی تھی۔ بعد میں انہوں نے نیٹو سربراہ مارک روٹے کے ساتھ ایک ’’فریم ورک‘‘ معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے اپنے رخ میں نرمی دکھائی۔نیٹو کا کہنا ہے کہ آرکٹک میں روس اور چین کی بڑھتی سرگرمی بھی سیکورٹی کے نقطہ نظر سے تشویش کا موضوع ہے، جس کے چلتے خطے میں اجتماعی موجودگی بڑھانا ضروری ہو گیا ہے۔ادھر ڈنمارک اور گرین لینڈ نے امریکہ کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے اور 1951 کے اس معاہدے کی نظر ثانی کا امکان ظاہر کیا ہے، جو گرین لینڈ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کو کنٹرول کرتی ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی اشارے دیے ہیں کہ نیٹو ممالک آرکٹک، خاص کر گرین لینڈ کے آس پاس، مستقل سیکورٹی موجودگی کے حق میں ہیں۔ماہرین مانتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے آرکٹک خطے کی اسٹریٹجک اور اقتصادی اہمیت بڑھ رہی ہے، جس سے عالمی طاقتوں کی دلچسپی بھی لگاتار بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں نیٹو کا یہ نیا مشن آنے والے وقت میں جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاسی) مساوات کو متاثر کر سکتا ہے۔












