غزہ (ہ س)۔اگرچہ غزہ کی پٹی میں فائر بندی اور حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے زمینی حالات حوصلہ افزا نہیں ہیں تاہم بعض امریکی ذمے داران باور کرا رہے ہیں کہ بات چیت کی فضا مثبت ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ axios کے مطابق ایک امریکی ذمے دار نے ہفتے کے روز انکشاف کیا ہے کہ چند روز قبل دوحہ میں شروع ہونے والی بات چیت تفصیلی اور تعمیری تھی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ رواں ہفتے کی ملاقاتوں میں تمام فریقوں کی نمائندگی تھی اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی ذمے دار کا کہنا ہے کہ "ہم اس وقت سمجھوتے پر عمل درامد کی تفصیلات پر بحث کر رہے ہیں۔سینئر امریکی اور اسرائیلی ذمے داران نے بھی گذشتہ روز حوصلہ افزا اشارے دیے۔ انھوں بتایا کہ فریقین بالوسطہ بات چیت میں آگے بڑھے ہیں تاہم وہ ابھی تک مکمل معاہدے تک نہیں پہنچے۔ذمے داران کے مطابق حماس نے اسرائیل کو اپنے پاس یرغمال اسرائیلیوں کی فہرست دے دی ہے جو آئندہ سمجھوتے کے پہلے مرحلے میں رہا ہو سکتے ہیں۔ادھر اسرائیلی حکومت نے فلاڈلفیا (صلاح الدین) راہ داری میں اپنے فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا منصوبہ منظور کر لیا اور فوجیوں کی تعیناتی کے نقشوں کی تصدیق کر دی۔ تاہم وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کی جانب سے اس کی مخالفت سامنے آئی ہے۔ یہ امر بات چیت میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے کیوں کہ حماس تنظیم غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج کے رہنے کو بارہا مسترد کر چکی ہے۔فلاڈلفیا راہ داری کے علاوہ رفح کی گزر گاہ اور نتساریم راہ داری میں اسرائیلی فوجی موجودگی ان اہم مسائل میں سے ایک ہے جو دوحہ اور قاہرہ میں کئی ہفتوں کے مذاکرات کے بعد ابھی تک معلق ہیں۔ فلاڈلفیا راہ داری مصر کے ساتھ غزہ کی پٹی کی جنوبی سرحد پر پھیلی ہوئی 14.5 کلو میٹر طویل ایک تنگ پٹی ہے۔اس سے قبل ایک مصری عہدے دار تصدیق کر چکے ہیں کہ مذاکرات میں وساطت کاروں نے مذکورہ مقامات پر اسرائیلی فوج کی موجودگی کے متعدد متبادل پیش کیے ہیں تاہم اسرائیل اور حماس دونوں نے انھیں قبول نہیں کیا۔اسی طرح معلق امور میں اْن گرفتار شدگان کی تعداد بھی شامل ہے جن کی رہائی کا حماس مطالبہ کر رہی ہے۔ اسرائیلی وفد کا مطالبہ ہے کہ ان افراد کی رہائی کی صورت میں انھیں غزہ سے باہر بھیجا جائے۔












