امریکہ :اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے کانگریس سے خطاب کے دوران کانگریس کے اندر اور باہر دونوں جگہوں اور سطحوں پر احتجاج کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ کیپٹل ہل کے باہر ہزاروں امریکی مظاہرین نے نیتن یاہو کے خطاب کے دوران احتجاج کیا۔
کانگریس کی بلڈنگ کے باہر ہزاروں کی تعداد میں امریکی شہری جنگ زدہ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور نیتن یاہو کے خطاب سے پہلے ہی جمع ہو چکے تھے۔مظاہرین نیتن یاہو کی وجہ سے غزہ میں ہزاروں بے گناہ بچوں اور عورتوں کی ہلاکت کی وجہ سے نیتن یاہو کی جنگی جرائم میں گرفتاری کے وارنٹس گرفتاری جاری کر کے گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جیسا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے عندیہ دیا تھا۔
ان مظاہرین میں شامل ایک 58 سالہ شہری نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ‘ یہ ہمارے امریکی سیاستدانوں کی منافقت ہے جو تمام تر حدوں کو عبور کر گئی ہے۔
نیتن یاہو کو امریکی کانگریس سے خطاب کرنے کی دعوت دینے پر امریکی مظاہرین نے بدھ کے روز کیپٹل ہل کے باہر جمع ہو کر غم و غصے کا اظہارکیا۔ یہ مظاہرین امن کے خواہاں تھے اور اس کے تعاقب کا مطالبہ کر رہے تھے ، نیز نیتن یاہو کو مجرم قرار دینے کا کہہ رہے تھے۔
انہوں نے ایسے کتبے اور بینر اٹھائے تھے جن میں سے بعض پر مطلوب مجرم کی علامت ڈیزائن کر کے اس میں نیتن یاہو کی تصویر لگائی گئی تھی۔ایک اور شہری نے ایک کتبے پر لکھ رکھا تھا ‘ اس جنگی مجرم کو گرفتار کرو۔












