اٹھائیس مئی کو پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب ہمارے جمہوری ملک کے لئے ایک تاریخی لمحہ تو تھا لیکن سیاسی مبصرین اس کو بی جے پی کے سیاسی مستقبل کے عزائم کے ساتھ جوڑ کر دیکھ رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اس کے افتتاحی تقریب میں مسابقت اپنی برتری کا رجحان اور بغض و عداوت کھلے عام دیکھی گئی۔ کہیں ضد و ہٹ دھرمی تھی تو کہیں غرور و تکبر جھلک رہا تھا۔ حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن دونوں میں سے کوئی بھی اپنے اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے تیار نہیں تھے۔ اگر بی جے پی نے اس موقع کو وزیر اعظم نریندر مودی کو ہی توجہ کا مرکز بنانے کے لئے بطور پروپگنڈہ استعمال کیا تو دوسری طرف ملک کی بڑی اور اہم اپوزیشن جماعتوں نے تقریب میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی غیر حاضری پر بطور احتجاج شرکت نہیں کی یعنی افتتاحی تقریب کا باضابطہ بائیکاٹ کیا ۔لیکن اس سب سے پرے کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے افتتاحی تقریب کو رسم و تقریب تاجپوشی میں تبدیل کردیا۔ لیکن نئی پارلیامنٹ اشارہ دے رہا ہے کہ پارلیمانی نشستوں کی نئی حد بندی اور نشستوں میں اضافہ ہونا طئے ہے ۔جو ملک کے سیاسی منظر نامہ میں اہم تبدیلی ثابت ہوگی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2026 میں پارلیمانی حلقوں کی نئی حدبندی کا اشارہ بھی دے دیا ہے یہ اور بات ہیکہ 2024 کے عام انتخابات میں کس کو کامیابی ملتی ہے کس کو شکست، وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر امور خارجہ مسٹر جئے شنکر بار بار یہ دعوے کررہے ہیں کہ 2024 میں بی جے پی مودی کو ہی کامیابی ملے گی۔ جہاں تک لوک سبھا کی موجودہ نشستوں کا سوال ہے 1951-52 کے عام انتخابات سے 1971 کے عام انتخابات تک پارلیمانی نشستوں میں اضافہ کیا گیا اور یہ اضافہ ابادی کی بنیاد پر کئے گئے ۔ تاہم سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے 1976 میں 42 ویں ترمیم مدون کرتے ہوئے پارلیمانی حلقوں کی نئی حد بندی کے عمل کو 25 برسوں کے لئے منجمد کردیا اور پھر اٹل بہاری واجپائی کی بطور وزیر اعظم میعاد کے دوران 84 ویں ترمیم کے ذریعہ سال 2001 میں نئی حد بندی کے عمل کو مزید 25 برسوں کے لئے آگے بڑھادیا گیا اور جب 2019 میں سنٹرل وسٹا ری ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے بارے میں اعلانات کئے گئے جس میں پارلیامنٹ کی نئی عمارت بھی شامل ہے تو پھر پارلیمانی نشستوں کی نئی حد بندی کا مسئلہ زور پکڑنے لگا۔ اس کی کئی وجوہات بھی بتائی جارہی ہیں ایک وجہ یہ بھی ہیکہ بی جے پی کو آئندہ 50 برسوں تک ہندوستان پر حکمرانی کرنے کا تیقن ہے ۔ اس ضمن میں سال 2018 میں ہی امیت شاہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ بی جے پی آئندہ 50 برسوں تک ملک پر حکومت کرے گی الغرض بی جے پی کو 2024 کے عام انتخابات میں بھی کامیابی ملتی ہے تو پھر وہ پارلیمانی نشستوں میں اضافہ کے لئے اپنے مفادات و سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے 2026 میں حلقوں کی نئی حد بندی بڑے پیمانے پر کرسکتی ہے اور بی جے پی یہ اس لئے کرے گی کہ ملک کی ہندی پٹی میں جہاں سے 2019 کے عام انتخابات میں بی جے پی نے اپنی 60 فیصد نشستیں حاصل کی تھیں ان ریاستوں میں اسے سیٹوں میں اضافہ سے زبردست فائدہ ہوگا۔ مثال کے طور پر اترپردیش جہاں سے 80 ارکان پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہوئے ہیں نئی حد بندی کے بعد ان کی تعداد 143 ہو جائے گی جبکہ کیرالا جیسی جنوبی ہند کی ریاست میں پارلیمانی نشستوں کی تعداد 20 ہی رہے گی۔ اگر دیکھا جائے تو پچھلے 50 برسوں کے دوران آبادی پر قابو پانے میں جنوبی ہند کی ریاستوں میں سرکاری منصوبوں پر بہتر انداز میں عمل آوری کی گئی جبکہ ہندی پٹی میں آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئی حد بندی سے جنوبی ہند کی ریاستوں کو کیسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بظاہر اس کا اندازہ 15 ویں فائننس کمیشن کی رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جس نے جنوبی ریاستوں کو مالیاتی حصہ داری میں کس طرح زوال سے دوچار کیا۔
اب تو ایسا لگ رہا ہیکہ حد بندی کے معاملہ میں جنوبی ریاستوں کو آبادی کنٹرول سے متعلق ان کی کامیابی کی سزا دی جارہی ہے کیونکہ شمالی ہند کی ریاستوں کے برخلاف جنوبی ہند کی ریاستوں میں آبادی پر بڑی سختی سے کنٹرول کیا گیا جس کا خمیازہ ان ریاستوں کو آنے والے برسوں میں بھگتنا پڑے گا جب پارلیمانی حلقوں کی حد بندی ہوگی۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے، بے شمار زبانوں کے بولنے والے، متعدد تہذیبوں کی نمائندگی کرنے والے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اگر ان سے مرکزی حکومت اس طرح کا تعصب برتے گی یا جانبداری کا مظاہرہ کرے گی تو پھر یہ علیحدگی پنسد تحریکوں کے آغاز کا باعث بن سکتی ہے جیسے پیر پار ای وی راماسوامی ڈراویڈا ناڈو کا احیاء اس کی مثال ہے۔ مدراس ہائی کورٹ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ تاملناڈو کے لوک سبھا پیٹس کو 39 تک محدود کردیا گیا ۔یار رہے کہ 1967 کے انتخابات میں 41 سے گھٹاکر ان نشستوں کی تعداد 39 کردی گئی تھی جو غیر واجبی اور غیر منصفانہ ہے ۔ پھر اس بات کی تجویز پیش کی گئی ریاست تاملناڈو کو اس کی بھر پائی کے لئے 5600 کروڑ روپے کا معاوضہ دیا جائے اور ساتھ ہی ریاست کے لئے راجیہ سبھا کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے اب یہ سوال بھی اٹھ سکتا ہے کہ آیا بی جے پی امریکی سیٹ کی طرز یا خطوط پر تمام ریاستوں کو راجیہ سبھا کی مساوی نشستیں فراہم کرے گی؟ کیونکہ ہمارے ملک میں مختلف ریاستوں کو دی گئی راجیہ سبھا نشستوں کی تعداد میں بھی زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ ایسے میں فی الوقت بی جے پی حکومت سے اس طرح کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔
جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے فی الوقت اس کی تمام تر توجہ 2024 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات پر مرکوز ہیں۔ یہ ایسے انتخابات ہیں جن میں کامیابی کا مطلب اپنے بڑے عزائم و ایجنڈہ کی تکمیل کی سمت پہلا قدم ہوگا۔ بی جے پی کو 2019 کے عام انتخابات میں شمالی ہند سے جو بھی نشستیں حاصل ہوئیں۔ اس کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی نشستوں کی تعداد میں خاص اضافہ نہیں ہوا۔ اس لئے اب اسے جنوب میں زیادہ سے زیادہ پارلیمانی نشستیں حاصل کرنا ضروری ہے۔ بی جے پی سردست تاملناڈو پر بھی بہت زیادہ توجہ مرکوز کررہی ہے چنانچہ وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ اقدامات سے اس کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے اس نے خود کو ایسا لگتا ہے کہ کاسی، ٹامل سنگھم کے فالوور کے طور پر ابھارنا شروع کردیا ہے۔ بی جے پی تاملوں میں ہندو ضمیر جگانے کے ایک بڑے آئیڈیا پر کام کررہی ہے اور خاص طور پر تاملناڈو میں شیو کے ماننے والوں کو کرناٹک میں لنگایت کو قریب کیا۔ اسے قریب کرنے کی کوشش کررہی ہے وہ دراصل تاملناڈو میں تامل۔ برہمن بنیاد کو مستحکم کرنا چاہتی ہے۔ اسی طرح وہ کیرالا میں چرچ سے قربت اختیار کرنے میں بھی مصروف ہے۔ دوسری طرف بی جے پی تلنگانہ میں سب سے بڑی اپوزیشن کے طور پر ابھرنے کا عزم رکھتی ہے جبکہ آندھرا پردیش میں 2024 لوک سبھا انتخابات کے لئے پارٹی اتحاد تشکیل دینے پر بھی غور کررہی ہے تاہم کرناٹک میں شکست کے بعد اس کے عزائم میں کئی رکاوٹیں پیدا ہوئیں ہیں ۔ بہرحال اگر بی جے پی جنوب نہیں جیت سکتی تو اس کی بھر پائی وہ مستقبل میں پارلیمانی حلقوں کی نئی حد بندی سے کرسکتی ہے۔












