واشنگٹن: امریکہ میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی سخت اسکریننگ اور ویٹنگ کیلئے نئے اقدامات کا اعلان کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ میں قانونی تحفظ حاصل کرنے والے تارکینِ وطن، بشمول مہاجرین، پناہ گزینوں اور دیگر کی ورک پرمٹ کی مدت کم کر رہی ہے۔ یہ اقدام امیگریشن پالیسیوں کو مزید سخت کرنے کی تازہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ نئی پالیسی اُن تارکینِ وطن پر بھی لاگو ہوگی جن کی پناہ یا گرین کارڈ (مستقل رہائش) کی درخواستیں زیرِ التوا ہیں، ایسے کیسز جو اکثر کئی سال تک مکمل نہیں ہو پاتے کیونکہ امیگریشن نظام میں شدید بیک لاگ موجود ہے۔ نئے قواعد کے تحت یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) اب ان تارکینِ وطن کو زیادہ سے زیادہ 18 ماہ کی مدت کے ورک پرمٹ جاری کرے گی، جب کہ موجودہ حد 5 سال تھی۔ محکمہ امیگریشن نے اپنے بیان میں گزشتہ ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں دو نیشنل گارڈ اہلکاروں پر ہونے والے حملے کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ ورک پرمٹ کی مدت کم کرنے سے ایجنسی کو تارکینِ وطن کی مزید بار بار اسکریننگ اور ویٹنگ کا موقع مل سکے گا۔ محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے اپنے بیان میں کہا کہ ورک پرمٹ کی زیادہ سے زیادہ مدت کم کرنے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکہ میں کام کرنے کے خواہش مند افراد نہ تو عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بنیں اور نہ ہی کسی انتہا پسند یا امریکا مخالف نظریے کو فروغ دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہمارے دارالحکومت میں نیشنل گارڈ اہلکاروں پر حملہ ایک ایسے تارک وطن نے کیا جسے سابقہ انتظامیہ نے داخل کیا تھا، تو یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ یو ایس سی آئی ایس زیادہ بار بار ویٹنگ کرے۔ اعلامیے کے مطابق یہ نئی پالیسی 5 دسمبر کے بعد جمع ہونے والی ورک پرمٹ درخواستوں اور ان درخواستوں پر بھی لاگو ہوگی جو اس تاریخ تک زیرِ التوا ہوں گی۔












