امریکا:امریکی انتظامیہ کے ایک اعلی عہدے دار کے مطابق غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے لیے امریکا کا نیا منصوبہ واقعتا 90% منظور ہو چکا ہے۔
مذکورہ عہدے دار نے انٹرنیٹ کے ذریعے ایک خصوصی پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ سمجھوتا صرف 18 پیراگراف پر مشتمل ہے۔ ان میں سے 14 پیراگراف پر کام مکمل کر لیا گیا ہے اور یہ سابقہ تجاویز سے مطابقت رکھتے ہیں۔
عہدے دار نے واضح کیا کہ بقئی چار میں سے ایک پیراگراف میں خالصتا تکنیکی ترمیم ہے اور دیگر تین کا تعلق قیدیوں کے تبادلے سے ہے۔ حماس کے 2 جولائی کے بیان کی روشنی میں انھیں اب بھی زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔امریکی انتظامیہ کے عہدے دار کے مطابق اس سمجھوتے میں فلاڈلفیا راہ داری کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس میں تمام گنجان علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلا کو فرض کیا گیا ہے۔عہدے دار کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی کے حوالے سے نئی امریکی تجاویز پر عمل درآمد کے نتیجے میں وہاں جاری جنگ مکمل طور پر رک جائے گی۔ جیل میں موجود قیدی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے علاقے یہ دو امور سمجھوتے تک پہنچنے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ غزہ کے حوالے سے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں اسرائیل کی سلامتی زیادہ بڑے خطرے میں ہو گی۔یاد رہے کہ با خبر امریکی ذمے داران نے یہ اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن غزہ کی بات چیت سے دست بردار نہیں ہو گا کیوں کہ وہ 11 ماہ سے جاری جنگ ختم کرانا چاہتا ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ذمے داران نے مزید کہا کہ اسرائیل نے کئی رعائتیں پیش کیں تا کہ کسی سمجھوتے تک پہنچ کر حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے اور فائر بندی کو ممکن بنایا جا سکے۔
امریکی ذمے داران کے مطابق مذاکرات کی میز پر پیش کردہ سمجھوتے میں حماس کی زیادہ تر مانگیں پوری ہو رہی ہیں۔ تاہم تنظیم خلیج کم کرنے کے لیے پیش کردہ سمجھوتے پر آمادگی کے لیے نسبتا کم تیار ہے۔
دریں اثنا فلسطینی تحریک مزاحمت اور گیارہ ماہ سے اسرائیلی جنگ کا مقابلہ کرنے والی حماس نے کہا ہے کہ اب مذاکرات کے نام پر نئی نئی تجاویز سننے اور جنگ بندی کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ جو چل رہا ہے اسے چلنے دیا جائےتاکہ اسرائیل پر دباؤ جائے۔
حماس کی طرف سے یہ بات اسرائیل کی طرف سے مذاکرات میں سامنے آنے والی بار بار کی کہہ مکرنیوں اور مذاکرات کی آڑ میں فلسطینیوں پر بمباری جاری رکھنے کے علاوہ جنگی دائرہ وسیع تر کرتے جانے کی حکمت عملی کے دوران جمعرات کے روز کہی گئی ہے۔حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسرائیل کو امریکی صدر جوبائیڈن کے جنگ بندی منصوبے پر لانے کے لیے اب نئی نئی تجاویز نہ دی جائیں بلکہ اسرائیل کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جائے۔












