قطر:غزہ کی پٹی میں فائر بندی سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے مصر، قطر، امریکا اور اسرائیل کے وفود آج بدھ کے روز دوحہ میں ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ بات القاہرہ نیوز چینل اور ذرائع نے بتائی۔
اعلیٰ سطح کے ذرائع نے بتایا ہے کہ مصری جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل کی قیادت میں مصری سیکورٹی وفد حماس اور اسرائیل کے بیچ نقطہ ہائے نظر کو قریب لانے کی کوشش کرے گا۔ اس کا مقصد جلد از جلد جنگ بندی کو ممکن بنانا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ بہت سے نکات کے حوالے سے اتفاق رائے پایا جاتا ہے”۔ مذاکرات کا اگلا دور کل جمعرات کے روز قاہرہ میں ہو گا۔
بات چیت کے قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ سرائیلی انٹیلی جنس (موساد) کے چیف ڈیوڈ برنیا بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
ادھر با خبر ذرائع نے ایجنسی کو بتایا ہے کہ امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم بیرنز بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس سے قبل منگل کے روز بیرنز نے قاہرہ میں مصری صدر عبد الفتاح السيسی سے ملاقات کی۔
مصری ایوان صدارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں صدر السیسی نے باور کرایا کہ مصر غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیوں کے جاری رہنے کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے غزہ کی لڑائی پھیلنے سے بچانے کے لیے "سنجیدہ اور مؤثر اقدامات” کی ضرورت پر زور دیا۔یاد رہے کہ مصر اور قطر اسرائیل اور حماس کے درمیان 9 ماہ سے جاری لڑائی میں مرکزی وساطت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس امید کے ساتھ کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کے مقابل لڑائی ختم ہو جائے اور غزہ میں یرغمال افراد کی رہائی عمل میں آ جائے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ غزہ کی جنگ نے تنازعہ فلسطین کے پرامن اور منصفانہ حل کوناگزیر بنا دیا ہے۔ انہوں نے مسئلہ فلسطین کےحوالے سے مملکت کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ہم موجودہ سیاسی افراتفری کے عالم میں بین الاقوامی نظام کے قوانین کے نفاذ پر زور دیتے رہیں گے‘۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی خطے میں امن اور سلامتی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری اس بات پر متفق ہے کہ خطے میں استحکام کا حل صرف فلسطینی ریاست کے قیام میں مضمر ہے۔
دوسری جانب غزہ کی پٹی پراسرائیلی جنگ کو روکنے اور ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکراتی کوششیں جاری ہیں۔ العربیہ/الحدث ذرائع نے کل دوحہ میں غزہ معاہدے کے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ تحریک حماس اور اسرائیل کے درمیان بہت سے نکات پر ایک معاہدہ زیر التوا ہے۔ اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ فلسطینی تحریک اور تل ابیب کے درمیان معاہدے میں کچھ متنازعہ امور پر پیش رفت ہوئی ہے۔












