دیوبند، :سہارنپور میں ندی میں ٹریکٹر ٹرالی گرِنے سے رونما ہوئے دردناک حادثہ میں خواتین اور بچوں سمیت نو عقیدتمندوں کی موت ہوگئی،جبکہ ایک لاپتہ کی تلاش تا حال جاری ہے وہیں ایک درجن سے زائد شدید زخمیوںکا سرکاری اسپتال سمیت مختلف اسپتالوں میں علاج کیا جارہاہے، موقع پر پہنچے اعلیٰ افسران اور عوامی نمائندوں کی موجودگی میں گھنٹوں کے راحتی آپریش کے بعد متعدد لوگوں کو بچایا گیاہے،حادثہ سے پورے علاقہ میں ماتم پسرا ہواہے،وہیں صوبہ کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی سمیت سرکردہ لیڈران نے اس شدید حادثہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کنبوں کے تئیں ہمدردی کا اظہار کیاہے۔موصولہ اطلاع کے مطابق بدھ کی دیر شام سہارنپور کے جنتا روڈ پرواقع گاؤں بوندکی گاؤں کے نزدیک پانی کے تیز بواؤ سے گزرنے کے دوران ٹریکٹر ٹرالی بے قابو ہوکر ڈھمولہ ندی میں گرِ گئی ،جس میں قریب چالیس عقیدتمند مردو خواتین سوار سے تھے، حادثہ کے بعد موقع پر چیخ و پکار مچ گئی۔موقع پر علاقہ کے لوگوں کی بھاری بھیڑ جمع ہوگئی اور لوگوں ڈی ایم و ایس ایس پی سمیت اعلیٰ افسران موقع پر پہنچے اور عقیدتمندوں کو بچانے کے لئے لوگوں اور غوطہ خوروں کی مدد سے آپریشن شروع کیا،جس میں اب تعد مرنے والوں کی تعداد نو ہو گئی ہے،جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ سہارنپور میں تھانہ گاگلہیڑی علاقے کے تحت گاؤں بالے والی عرف بلیلی میں ایک معصوم بچی سمیت نو لوگوں کی موت سے کہرام مچ گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی گاؤں والے بھی ضلع اسپتال پہنچے۔ خمیوں اور جاں بحق افراد کی لاشیں دیکھ کر اہل خانہ کی خواتین کی چیخیں نکل گئیں۔ حادثے کے بعد گاؤں سمیت پورے علاقہ میں ماتم پسرا ہواہے۔ابھی تک نو لوگوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جبکہ ایک لاپتہ کی تلاش جاری ہے۔سٹی مجسٹریٹ گجیندر کمار نے بتایا کہ اب تک اس حادثے میں نو افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تمام کا پوسٹ مارٹم کر کے پیشگی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتی حکم کے مطابق تمام مرنے والوں کے لواحقین کو چار چار لاکھ روپے بطور امداد دیے جائیں گے۔جمعرات کو بالیلی کے رہائشی کرن (35) زوجہدھرم ویر، ایکتا (14) دختر دھرم ویر، اکشے کمار (22) ولد مہیپ ال، نتیش کمار (7) ولد اہول اور کامنی عرف مسٹی (8) دختر پون کمار کی لاشیںندی سے برآمد کی گئی ہیں۔ وہیں ایک نوجوان سوربھ ولد دھرم ویر ابھی تک لاپتہ ہے جس کی تلاش جاری ہے۔ حادثے کے وقت چار عقیدت مند منگلیش (55)، پتی آدیتی (3)، ٹینا (13)، سلوچنا (58) کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ دوسری طرف بالے والی رف بلیلی گاؤں سمیت پورے علاقہ میں ماتم پسرا ہواہے۔واقع کے مطابق گاؤں کے تقریباً پچاس مردو خواتین ضلع کے گاگلہیڑی کے تھانہ علاقے کے بالاولی عرف بلیلی گاؤں سے بابڑ جانے سے قبل ٹریکٹر ٹرالی میں سوار گاؤں رنڈول میں واقع رشتہ داری میں جا رہے تھے۔ جب یہ دیہات کوتوالی علاقے کے گاؤں بوندکی کے قریب پہنچے تو بارش کی وجہ سے ڈھمولا ندی کی سطح پر زیادہ پانی کی وجہ سے ٹریکٹر ٹرالی بے قابو ہوکر پلٹ گئی۔ایس ایس پی ڈاکٹر وپن ٹاڈا نے بتایا کہ پہلے چار اور اب مزید پانچ لاشیں ملی ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد نو ہو گئی ہے۔ ایک نوجوان ابھی تک لاپتہ ہے جس کی تلاش این ڈی آر ایف کی ٹیم کر رہی ہے۔ حادثہ میں گاؤں کے نو افراد کی موت سے گاؤں میں بھی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔











