واشنگٹن (یو این آئی) ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی انتظامیہ نے پورے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے ،ہم امن کے ضامن ملک بن سکتے ہیں۔صدر نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد اپنے بیان میں ایک بار پھر اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف قتل عام پر توجہ دلوائی۔ ایردوان نے کہا کہ اسرائیلی انتظامیہ اور نیٹو کے مابین شراکت داری ممکن نہیں ہے، ترکیہ اُس وقت تک نیٹو میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کی کوششوں کو منظور نہیں کرے گا جب تک کہ فلسطینی علاقوں میں جامع اور پائیدار امن قائم نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ بطور ترکیہ مستقل حل کے لیے ہر طرح کی حمایت جاری رکھیں گے، میں اس بات کا اعادہ کرنا چاہوں گا کہ ہم ضمانت سمیت امن کے لیے جو بن پڑا وہ کرنے کے لیے تیار ہیں، میں اپنے تمام اتحادیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جنگ بندی اور غزہ کی بھوکی عوام کے لیے انسانی امداد کی بحالی کے لیے نیتین یاہو انتظامیہ پر اپنا دباو بڑھائیں ۔ صدر نے کہا کہ ترکیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے اتحادیوں سے یکجہتی کی توقع رکھتا ہے، بالخصوص شام میں پی کےکے کی ذیلی دہشتگرد شاخوں پی وائی ڈی اور وائی پی جی کے ساتھ ہمارے چند اتحادی ممالک نے تعلقات بڑھا رکھے ہیں جو ہمیں قبول نہیں ہیں۔ روس- یوکرین جنگ کا ذکر کرتے ہوئے ایردوان نے زور دے کر کہا کہ ترکیہ نے روز اول سے جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔صدر نے کہا کہ یہ ہماری مخلصانہ خواہش ہے کہ ہم بحیرہ اسود کے سلسلے میں اُن سفارتی رابطوں کو دوبارہ شروع کریں جن کا آغاز ہم نے استنبول سے کیا تھا ،ہمیں یقین ہے کہ منصفانہ امن میں کوئی نقصان نہیں اٹھائے گا۔












