دنیا کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی اور نام نہاد عالمی لیڈر کی قوت کے سرچشمہ اڈانی پر راہل گاندھی کے کرارے حملے کی شدت ابھی برقرار ہی تھی کہ نتیش کمار بہار سے نکل کر دہلی آگئے اور ان کی کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن لیڈر سے ہونے والی میٹنگوں سے ہی ایوان سیاست کے شہنشاہ کی گھگھی بندھ گئی ہے۔اپنی ڈکٹیٹر شپ کی فطرت نے پہلے ہی شہنشاہ وقت کو تنہا کر رکھا ہے۔ اور وہ مسلسل جھوٹ کے غبار کے پیچھے چھپ کر اپنی کارکردگی کا نہ نظر آنے والا خاکہ عوام الناس کو دکھا دکھا کر واہ واہی لوٹ رہے ہیں۔لیکن اب ان کا اصل امتحان شروع ہو رہا ہے کیونکہ نتیش کمار صرف ایک ریاست کے وزیر اعلی ہی نہیں ہیں انہوں نے 2024کے انتخاب کے لئے ذات کی بنیاد پر مردم شماری کا جو آئٹم بم تیار کر رکھا ہے اس کا پہلا استعمال وہ عام انتخاب کے دوران ہی کرنے والے ہیں۔ اور پھر وہ شہنشاہ معظم کے ووٹ بینک سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہیںگے کہ اب بولو اس سنگھی مکھوٹے کے پیچھے کون سا چہرہ ہے جو تمہیں پانچ کیلو اناج دے کر اقتدار سے مسلسل دور رکھنے کی سازش کر رہا ہے۔ یہ مردم شماری جو بہار کی نتیش حکومت کرا رہی ہے پورے ملک کے سنگھی فکر کے فرستادہ افراد ،اور تنظیموں کی جڑوں میں مٹھا ڈالنے کا کام کرے گی۔
نتیش کمار کے اس ہتھیار کا کرشمہ ہی ہے جو شرد پوار سے لے کر کھڑگے تک اور کجریوال سے لے کر کے سی آر اور ممتا بنرجی تک کو ان کا عقیدتمند بنانے جا رہا ہے۔کئی لوگ کہتے ہیں کہ ملک میں مسلمانوں سے نفرت کا زہر اتنا گھولا جا چکا ہے کہ اب سیکولرزم کی بات کرنے والی ہر پارٹی کو لوگ مسلم نواز سمجھ کر اس سے دور بھاگتے ہیں۔بات کسی حد تک درست ہو سکتی ہے لیکن یہ پوری سچائی نہیں ہے۔نتیش کمار ایک طویل عرصہ سے بہار کے وزیر اعلی ہیں ،اس کے پہلے وہ مرکزی سرکار کے کیبنٹ وزیر بھی رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی سیکولرزم کے راستے کو نہیں چھوڑا ،وہ بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی کے ساتھ رہ کر بھی اپنے سیکولر نظریہ سے رو گردانی نہیں کرتے۔ابھی بہار میں رام نومی کے موقع پر ایک سازش کے تحت جس ہندو مسلم فساد کو پورے بہار میں پھیلانے کی سازش کی گئی تھی اس پر بروقت ایکشن لے کر اس سازش کا قلع قمع کرنے کے سلسلے میں نتیش کمار نے جو سخت فیصلے لئے ہیں وہ ایک مثال ہے۔شہنشاہ معظم کی گھبراہٹ کا اندازہ اس صوفی مشن سے بھی ہوتا ہے جو وہ پورے ملک میں کرنے والے ہیں اور جس کے ایک حصے کو انہوں نے درگاہوں اور خانقاہوں میں قوالی پروگرام منعقد کرانے کے لئے مختص کر رکھا ہے اور اس کے لئے خطیر بجٹ کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ صاف صاف نظر آ رہاہے کہ پسماندہ کارڈ کے ذریعہ ایک طرف تو وہ مسلمانوں کے ووٹ کو منتشر کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف ان کے ایک مخصوص مسلک کے لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے مزارات و قوالی کی محفلوں سے بڑی عقیدت رکھتے ہیں۔لیکن یہ سب وہ جس وقت اور جن حالات میں کر رہے ہیں اس سے ان کی گھبراہٹ کا اندازہ ہوتا ہے۔آخر ہندوؤ ں کا ہردئے سمراٹ بننے کے لئے گجرات میں قتل عام کرانے والے شخص کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔آج بھی پورے ملک میں مسلمانوں اور ان کے اداروں پر جس طرح بجرنگ دل اور دیگر ہندووادی تنظیموں نے ہلہ بولا ہوا ہے کیا ان سازشوں کے پیچھے ان کی سرکار کی قوت کام نہیں کر رہی ہے۔
مہنگائی،بیروزگاری اور ہر سطح کی بدعنوانی کا جو ریکارڈ ان نو سالوں میں مودی سرکار نے کھڑا کیا ہے اول تو وہی کافی ہے اس سرکار کے ہٹائے جانے کے لئے۔لیکن دوسری طرف ان کی چالبازیاں اور مذہبی و علاقائی تعصب کے ڈراموں کا پردہ اٹھانے کے لئے ہی راہل گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کر کے ان کی بنیاد کو بہت حد تک ہلا دیا ہے۔راہل گاندھی کے اس سنگین حملے کی جھنجھلاہٹ ہی ہے جو پوری سنگھی قوت انہیں نیست و نابود کرنے کے لئے جھونک دی گئی ہے لیکن عمل کے ردعمل کے نتیجے میں یہ ہوا کہ پورے ملک کی اپوزیشن پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے لگیں۔یعنی اب ایسا لگتا ہے کہ بادشاہ وقت کی بے چینی میں کم از کم سو گنا اضافہ اس لئے ہو جائے گا کہ مقابلے میں نتیش کمار ہیں جو اتنے طویل سیاسی کیرئر کے دوران کبھی بھی کسی قسم کی بدعنوانی میں ملوث نہیں ہوئے ،ان پر کوئی اقربا پروری کا بھی الزام نہیں لگا سکتا۔اصول کی سیاست کرنے کے سلسلے میں نتیش کمار ابھی پورے ملک کے اکلوتے ایسے لیڈر ہیں جن کے سامنے نریندر مودی ابھی پپو کی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔












