پٹنہ، (یو این آئی) بہار کے وزیر اعلی اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے قومی صدر نتیش کمار نے راجیہ سبھا جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسٹر کمار نے جمعرات کو ایکس پر لکھا، "دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے، آپ نے مسلسل اپنے اعتماد اور حمایت کو برقرار رکھا ہے اور اسی کے بل پر ہم نے پوری وفاداری کے ساتھ بہار اور آپ سب کی خدمت کی ہے۔ یہ آپ کے اعتماد اور تعاون کی وجہ سے ہے کہ بہار آج ترقی اور احترام کی ایک نئی جہت پیش کر رہا ہے۔ اس کے لیے پہلے بھی میں نے کئی بار آپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔”مسٹر کمار نے کہا، "اپنے پارلیمانی کیریئر کے آغاز سے ہی، میری خواہش تھی کہ میں بہار مقننہ کے دونوں ایوانوں کے ساتھ پارلیمنٹ کے بھی دونوں ایوانوں کا رکن بن سکوں۔ اس سلسلے میں، میں اس مرتبہ ہونے والے انتخابات میں راجیہ سبھا کا رکن بننا چاہ رہا ہوں۔”وزیر اعلیٰ مسٹر کمار نے کہا، "میں آپ کو پورے خلوص کے ساتھ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ میرا یہ رشتہ مستقبل میں بھی برقرار رہے گا اور آپ کے ساتھ مل کر ایک ترقی یافتہ بہار کی تعمیر کے لیے میرا عزم برقرار رہے گا۔ جو نئی حکومت بنے گی اسے میرا مکمل تعاون اور رہنمائی حاصل ہو گی۔”بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار سمیت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی جانب سے پانچ امیدواروں نے جمعرات کے روز راجیہ سبھا کے انتخابات کے لیے نامزدگی کے کاغذات داخل کیے۔ این ڈی اے کی طرف سے جنتا دل یونائیٹڈ کے قومی صدر اور وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار، موجودہ راجیہ سبھا رکن رام ناتھ ٹھاکر، بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین، شیو کمار اور راشٹریہ لوک مورچہ کے قومی صدر اپیندر کشواہا نے اپنے نامزدگی کے کاغذات جمع کرائے۔ وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار اور دیگر این ڈی اے امیدوار مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ بہار اسمبلی پہنچے، جہاں ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہوں نے راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی داخل کی۔ واضح رہے کہ بہار سے راجیہ سبھا کی پانچ نشستیں خالی ہو رہی ہیں۔ ان میں سے دو نشستیں جنتا دل یونائیٹڈ اور دو راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی ہیں جبکہ ایک نشست نیشنل پیپلز فرنٹ کی ہے۔ مرکزی وزیر رام ناتھ ٹھاکر اور راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین ہری ونش جنتا دل یونائیٹڈ کے موجودہ اراکین ہیں جبکہ امریندر دھاری سنگھ اور پریم چند گپتا آر جے ڈی سے تعلق رکھتے ہیں۔ نیشنل پیپلز فرنٹ کے صدر اپیندر کشواہا بھی موجودہ رکن ہیں جن کی مدتِ کار اپریل میں مکمل ہو جائے گی۔ ان پانچوں اراکین کی مدت آئندہ ماہ ختم ہو رہی ہے جس کے باعث ان نشستوں پر راجیہ سبھا کے انتخابات منعقد کیے جا رہے ہیں۔ دریں اثنا جھارکھنڈ کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف بابولال مرانڈی نے بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کے ٹویٹ پر ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ مسٹر مرانڈی نے لکھا کہ نتیش کمار گزشتہ تین سے چار دہائیوں سے بہار کی سیاست کے مرکز میں رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہار کو جنگل راج سے نکال کر اچھی حکمرانی (سوشاسن) کے قیام میں نتیش کمار کا کردار سب سے نمایاں رہا ہے۔ ان کی قیادت میں ریاست نے انتظامی استحکام، ترقی اور نظم و نسق کی ایک نئی سمت حاصل کی۔ انہوں نے مزید لکھا کہ عوامی زندگی میں نتیش کمار نے ہمیشہ شفافیت، وقار اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیا ہے۔ بہار کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے ان کا دورِ حکومت ریاست کی تاریخ میں ایک سنہری باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ بابولال مرانڈی نے کہا کہ اب راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے بھی ایوان ان کے تجربے، بصیرت اور قیادت سے یقیناً مستفید ہوگا۔












