بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اپوزیشن اتحاد کو مزید مضبوط کرنے کیلئے مسلسل مختلف رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ان کامقصد صرف یہ ہے کہ بی جے پی اور سنگھی فکر کے مخالفین کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے اور 2024 میں بی جے پی کی کل سیٹوں میں تخفیف کرکے اسے اقتدار سے بے دخل کیا جائے ۔ نتیش کمار نے 9مئی کو اسی سلسلے کا ایک سفر اڑیسہ کی راجدھانی بھونیشور کا کیا جہاں انہوں نے اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک کے ساتھ لنچ کیا اور نہایت دوستانہ ماحول میں گفتگو کر کے جب باہر نکلے تو ان کے چہرے پر کامیابی کی مسکراہٹ تھی۔ انہوں نے خلاف توقع یہاں کوئی مشترکہ بیان تو نہیں دیا لیکن اس میٹنگ کی کامیابی ان کے چہرے سے مترشح ہو رہی تھی ۔ذرائع سے ملی خبر کے مطابق نوین پٹنائک نے بھونیشور میں بہار بھون بنانے کیلئے نتیش کمار کو مفت زمین دینے کی پیش کش بھی کی ہے ۔
نتیش کمار نے حال ہی میں دہلی میں ملکارجن کھرگے، راہول گاندھی، اروند کجریوال اور کئی لیفٹ فرنٹ کے لیڈروں سے بھی کامیاب ملاقات کی تھی۔ نتیش کمار کو کانگریس کی جانب سے یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ ان لوگوں سے بات چیت کرکے انہیں رضا مند کرنے کی کوشش کریں جن کا کانگریس پارٹی سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔اور پھر نتیش کمار نے پہلے مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی سے 9مئی منگل کو انہوں نے اوڈیشہ کے سی ایم نوین پٹنائک سے ملاقات کی۔خبر یہ بھی ہے کہ 11مئی کو وہ ممبئی جاکر شرد پوار اور اودھو ٹھاکرے سے بھی ملاقات کرینگے ۔ذرائع بتاتے ہیں کہ اس کے بعد نتیش کمار جنوبی ہندوستان میں جگن موہن ریڈی اور اور چندرا بابو نائیڈو سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں ۔
نتیش کمار گذشتہ 45 برس سے ملک کی فعال سیاست کا حصہ ہیں اور وزیر اعلی سے لے کر مرکزی حکومت کی وزارت کا بھی انہیں تجربہ ہے ۔نظریاتی سطح پر وہ لوہیا وادی ہیں اور جے پی آندولن سے ان کی سیاست کا خمیر اٹھا ہے ۔فی الحال وہ جس سیاسی محاذ کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں اس کی تحریک بھی انہیں بی جے پی سے ہی ملی ہے جس کے قومی صدر نڈا نے گذشتہ دنوں پٹنہ کے ایک عام جلسہ میں کہا تھا کہ بہت جلد ملک سے علاقائی پارٹیوں کا نام و نشان مٹ جائے گا ۔حالانکہ اس وقت نتیش کمار این ڈی اے میں تھے اور بی جے پی کی حمایت سے بہار میں جنتادل یونائٹیڈ کی سرکار تھی ۔لیکن پھر حالات تبدیل ہوئے اور اب بی جے پی سے الگ ہوکر نتیش کمار آر جے ڈی،کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے ساتھ بہار میں وزیر اعلی ہیں ۔نتیش کمار ایک خالص سیاستداں ہیں اور اصولوں کے پکے بھی ۔انہوں نے کبھی بھی فرقہ وارانہ سیاست نہیں کی اور غالبا یہی وجہ ہے کہ آج وہ پورے ملک کے سیکولر سیاستدانوں کی فہرست میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ملک کے موجودہ سیاسی ماحول میں نتیش کمار کی معنویت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مرکزی حکومت کی پوری سیاست سنگھی ہے اور وہ ملک میں نفرت کی کاشت کر کے محض اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتی ہے اور اس راہ میں اس کی جو بھی مخالفت کرتا ہے وہ اسے ملک دشمن قرار دینے سے نہیں چوکتی ۔تمام سرکاری ایجنسیوں کو موجودہ سرکار نے اپنے مخالفین کے خلاف فعال کر دیا ہے ۔اور آئے دن اپوزیشن لیڈروں کے یہاں چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں اور گرفتاریاں بھی ہو رہی ہیں ۔ایسے میں ایسے کسی محاذ کیلئے وہی شخص کوشش کر سکتا ہے جس کا ماضی پوری طرح ستھرا ہو اور جو ان ایجنسیوں سے خوفزدہ نہ ہو ۔ساتھ ہی بی جے پی کے موجودہ رہنماؤں کی سرشت سے پوری طرح واقف بھی ہو ۔اور نتیش کمار ان ساری خوبیوں کے مالک ہیں ۔نتیش کمار جانتے ہیں کہ ملک کے عام لوگ نوٹ بندی سے لے کر جی ایس ٹی تک ،بیروزگاری سے لے کر اگنی ویر تک ،ذات کی بنیاد پر سیاست سے لے کر پانچ کیلو راشن اور مفت گیس سلنڈر بانٹنے کی اصل وجوہات کو خوب سمجھتے ہیں ۔نتیش کمار انتخابی ہندوتوا کے نعرے کو ملک کی سالمیت کیلئے زہر سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ منافرت کےاس طوفان کو اگر جلد از جلد نہ روکا گیا تو پھر نہ تو آئین بچیگا اور نہ جمہوری اقدار ۔
کچھ لوگ آج بھی نتیش کمار کی اس کوشش کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔انہیں لگتا ہے کہ عام انتخاب سے قبل وزیر اعظم کا چہرہ پیش کئے بغیر نریندر مودی کو شکست نہیں دیا جاسکتا ۔اور پھر ایک ہی سانس میں وہ نریندر مودی کی عوام پر گرفت کے قصیدے پڑھنے لگتے ہیں ۔لیکن نتیش کمار اس سلسلے میں بالکل الگ ٹریک پر چل رہے ہیں ۔ان کے سامنے ابھی صرف ایک ہدف ہے اور وہ یہ کہ کسی بھی صورت مہاراشٹرا ،مدھیہ پردیش ،بہار ،بنگال ،جھارکھنڈ کرناٹک ،چھتیس گڈھ اڑیسہ اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں بی جے پی کے ممبران پارلیامنٹ کم سے کم کئے جائیں ۔اور اس کیلئے علاقائی پارٹیوں کا سمجھداری کے ساتھ دیا گیا تعاون بے حد ضروری ہے ۔ابھی کرناٹک کے اسمبلی انتخاب کا نتیجہ بھی آنے والا ہے اور اگر اس میں بی جے پی کو شکست ہوتی ہے تو نتیش کمار کے 2024کے انتخابی خاکے کے مکمل ہونے کی راہ مزید آسان ہوجائے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سال کے آخر میں ہونے والے تین ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان اورچھتیس گڈھ کے نتائج یہ صاف کر دیں کہ بی جے پی کا جانا طے ہے ۔












