کانپور، پریس ریلیز،ہماراسماج:جمعیۃ علماء شہر و مجلس تحفظ ختم نبوتؐ کانپور کی جانب سے ڈاکٹر حلیم اللہ خان کی سرپرستی اور مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی کی نگرانی میں منائے جارہے رحمت عالمؐ مہینہ کے تحت جامعہ رحمت بکرمنڈی ڈھال میں شافع محشرؐ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔کانفرنس کی صدارت جمعیۃ علماء شہر کانپور کے نائب صدر مولانا محمد انیس خان قاسمی اور نگرانی قاضی شریعت مولانا محمد انعام اللہ قاسمی نے کی۔قاری محمد شمشاد کی تلاوت سے شروع ہونے والی کانفرنس میں مولانا بیت اللہ ثاقبی نے نعت پاک نذرانہ پیش کیا۔مولانا محمد انعام اللہ قاسمی نے کانفرنس کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ماہِ ربیع الاول حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کا مہینہ ہے، اس مہینہ میں ہر ایمان والے کا دل خوشی سے مسرور رہتا ہے۔ اسی خوشی کے اظہار کے طور پر مسلمان مختلف قسم کے پروگرام، روشنی، میلاد اور جلوس وغیرہ کے پروگرام کرتے ہیں۔ اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہوتا ہے کہ ہم خوشی میں کوئی ایسا کام نہ کرجائیں جو حضورؐ کی تعلیمات اور آپؐ کی منشاء کے خلاف ہو۔ چنانچہ اسی مقصد کے پیش نظر آپؐ کی حقیقی تعلیمات سے آگاہی کیلئے سابق قاضی شہر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمیؒ نے ان پروگراموں کی بنیاد رکھی تھی اور اللہ کے فضل سے آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور امت اس سے نفع اُٹھا رہی ہے۔مولانا محمد ذاکر قاسمی نے اپنے تفصیلی خطاب میں عشق نبویؐ کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنت تو حضورؐ سے محبت کی بنیاد پر ہی مل سکے گی۔ مولانا نے کہا کہ ہماری عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق عشق رسولؐ سے خالی ہوجائیں تو ہمارا کوئی بھی عمل اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں ہوگا۔ مولانا نے قرآن پاک کے حوالہ سے کہا کہ حضورؐ کی اتباع کے بغیر اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ اللہ نے اپنی اطاعت کو حضورؐکی اطاعت پر موقوف رکھا ہے۔ اگر ہم اللہ کا مقرب بندہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں حضور پاکؐ کی سیرت کو اپنانا ہوگا۔ مولانا نے حدیث کے حوالہ سے بتلایا کہ کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک حضور پاکؐ کی محبت اس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد اور ساری دنیا سے زیادہ نہ ہوجائے۔ مولانا محبت کے تقاضوں پر گفتگو کرتے ہوئے بتلایا کہ حضورؐ سے محبت کی علامت اور تقاضہ یہ ہے کہ حضور پاکؐ کی بھرپور اتباع کی جائے، آپؐ کی سنتوں کی پیروی کی جائے، اپنے زندگی کے ہر معاملہ میں آپؐ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کی جائے، آپؐ کے شاگرد اور جانثار حضرات صحابہ کرامؓ سے سچی عقیدت و محبت رکھی جائے اور ان کی زندگیوں کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالا جائے، اس کے بغیر محبت کے لاکھ دعوے کیے جائیں وہ سب فضول ہوں گے۔مولانا ظفر عالم ندوی نے خطاب کرتے ہوئے بتلایا کہ حضور پاکؐ کی تعلیمات میں ایک اہم چیز صفائی ہے۔ مذہب اسلام میں صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج مسلمانوں کے دلوں سے صفائی ستھرائی اہمیت بالکل ختم ہوتی جارہی ہے۔ ہمارے گلی محلوں میں پڑے کوڑوں کے ڈھیر ہماری بے ضمیری اور دین سے دوری کی گواہی دے رہے ہیں۔ مولانا نے بتلایا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے حضور پاکؐ کی تعلیمات کو عام کرنے کی غرض سے شہری جمعیۃ علماء کانپور کی جانب سے پورے ماہ صفائی مہم چلائی جارہی ہے۔ ہم سب کو چاہئے کہ آگے بڑھ کر اس مہم کا حصہ بنیں اور اپنے گھر و محلے میں صفائی کے حوالہ سے لوگوں کو بیدار کریں، کوڑا کرکٹ وغیرہ کوڑے دان میں ڈالیں اور جو صفائی والے کوڑا اٹھانے کیلئے آتے ہیں ان کا بھرپور تعاون کریں۔کانفرنس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور سیرت کے پیغام کو سن کر اس پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ مولانا انعام اللہ قاسمی کی دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر مولانا طاہر ندوی، مولانا توحید عالم ندوی، مولانا اعجاز ندوی، مولانا ـ ضمیر ندوی، مولانا ابوالکلام ندوی، مولانا قناعت اللہ مظاہری، حافظ منہاج السلام، حافظ انور اور مولانا عرفان مظاہری وغیرہ بطورِ خاص موجود تھے۔












