غزہ:غزہ پر اسرائیلی بمباری میں اپنی ایک ہمشیرہ کی ہلاکت کے بعد تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئی بھی ایسا معاہدہ جو جنگ کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں دیتا ناقابل قبول ہو گا۔
انہوں نے بیان میں مزید کہا ’’اگر اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ میرے خاندان کو نشانہ بنانے سے ہمارا موقف بدل جائے گا تو وہ دھوکے میں ہے‘‘۔
کل منگل کو العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشاطی کیمپ میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے گھر کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بم دھماکے میں ہنیہ کی بہن سمیت گھر میں موجود 13 افراد ہلاک ہوئے۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نےدعویٰ کیا کہ "اسرائیلی طیاروں نے ملٹری انٹیلی جنس اور شین بیت کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق شمالی غزہ میں دو عمارتوں پر بمباری کی۔اس میں حماس کے متعدد ارکان کو ہلاک کر دیا جن میں سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے اور لوگوں کو یرغمال بنانے میں حصہ لینے والے جنگجو بھی شامل تھے‘‘۔
خیال رہے کہ گذشتہ عیدالفطر کے روز غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری میں ھنیہ کے تین بیٹے حازم، امیر اور محمد کے ساتھ ان کے تین پوتے پوتیاں مارے گئے تھے۔ انہیں بھی غزہ میں الشاطی کیمپ میں ایک گاڑی پر سفر کرتے ہوئے نشانہ بنایا گیا تھا۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کے حملے کے بعد سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 37,626 فلسطینی جاں بحق جب کہ 86,098 زخمی ہوچکے ہیں۔
غزہ میں نو ماہ سے جاری جنگ روکنے کے لیے کی جانے والی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ دونوں فریق جنگ بندی کی مساعی کی ناکامی پر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔












