لندن: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جیل میں قید بانی عمران خان کے بیٹے قاسم خان کو خدشہ ہے کہ حکام ان کے والد کی حالت کے بارے میں کچھ ناقابلِ تلافی معاملہ چھپا رہے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی اور عمران خان کی بہنیں اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج اور دھرنے دے رہی ہیں، جہاں وہ قید ہیں، کیونکہ انہیں گزشتہ 3 ہفتوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ عدالتی حکم کے باوجود ملاقاتیں رکی ہوئی ہیں اور ممکنہ جیل منتقلی سے متعلق افواہیں گردش کر رہی ہیں، ایسے میں قاسم نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ خاندان کا سابق وزیراعظم سے نہ تو براہِ راست اور نہ ہی قابلِ تصدیق رابطہ ہے، حالانکہ عدالت نے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت دے رکھی ہے۔ انہوں نے تحریری بیان میں کہا کہ یہ نہ جاننا کہ آپ کے والد محفوظ ہیں، زخمی ہیں یا زندہ بھی ہیں یا نہیں، ذہنی اذیت کی ایک شکل ہے، انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے کوئی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ رابطہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے پاس ان کی حالت کے بارے میں کوئی قابلِ تصدیق معلومات نہیں، ہمارا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ ہم سے کچھ ایسا چھپایا جا رہا ہے جو ناقابل تلافی ہے۔ خاندان نے متعدد مرتبہ عمران کے ذاتی معالج کے لیے اجازت طلب کی ہے، لیکن انہیں ایک سال سے زائد عرصے سے عمران کا معائنہ کرنے نہیں دیا گیا۔ وزارتِ داخلہ نے اس معاملے پر رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا، تاہم ایک جیل اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ عمران خان کی صحت ٹھیک ہے اور وہ ایسی کسی تجویز سے واقف نہیں کہ انہیں زیادہ سیکیورٹی والی جیل میں منتقل کیا جائے۔ 72 سالہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں، انہیں متعدد مقدمات میں سزا سنائی گئی ہے، جنہیں وہ اپنی 2022 کی عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے برطرفی کے بعد سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہیں۔












