
نئی دہلی 21نومبر، پریس ریلیز، ہمارا سماج:حج 2024 کے انتظامات کے سلسلے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے، جس کےلیے مرکزی وزارت اقلیتی امور و حج پوری طرح ذمہ دار ہے۔ فروری میں حج 2023 کا اختتام ہوا تھا جس میں ملک کے عازمین حج کو پورے سفر کے دوران ہرشعبہ میں ریکارڈ پریشانیاں اٹھانی پڑی تھیں۔ بہت افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک گذشتہ حج کی جائزہ میٹنگ بھی نہيں ہوسکی ہے، جس سےوزارت اقلیتی امور اور حج کے انتظامات سے وابستہ ایجنسیوں کی سخت لاپرواہی اور بے حسی ثابت ہوتی ہے۔ حکومت کی اس غیر سنجیدگی سے حج ایکٹ 2002 کی صریح خلاف ورزی ہورہی ہے، جس کے مطابق سفر حج سے پہلے اور اس کے فورا بعد جائزہ میٹنگ ہونی چاہئے اور اب تک یہی روایت رہی ہے۔ واضح رہے کہ حج کی ادائیگی میں بیرون ملک کا سفر ہوتا ہے اور اس کے بندوبست کا کام برسوں سے وزارت خارجہ کے تحت انجام پاتا تھا۔ وزارت خارجہ ایک نوڈل ایجنسی ہونے کے ناطے حج ایکٹ اور قدیمی روایت کے مطابق متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر پوری ذمہ داری سے کام کرتی تھی جس کے حسن انتظام سے ملک کے عازمین حج مطمئن رہتے تھے۔ 2016 میں وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے خصوصی آرڈر سے حج کے انتظامات کا کام وزارت اقلیتی امور کو سونپا گیا اور اسی سال سے حج کے انتظامات میں کوتاہی ہونے لگی اور نوڈل ایجنسی کی بد انتظامی کے سبب حج کے انتظامات اور سہولیات کا بندوبست بہت تاخیر سے اور سست رفتاری سے کیا جانے لگا جس سے ملک کے عازمین حج کے لیے سفر حج بے تحاشا مہنگا اور پریشان کن ہوگیا۔ اس وقت مرکزی حج کمیٹی آف انڈیا کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈالیں تو ایک سال سے بھی زائد عرصے سے حج کمیٹی آف انڈیا میں دو ڈپٹی سی ای او کے عہدے خالی پڑے ہيں اور گذشتہ دو مہینے سے اکاؤنٹ آفیسر بھی نہیں ہیں، جس کی وجہ سے حج 2023 کے حاجیوں کا بہت سارا فنڈ جو حج کمیٹی کے پاس باقی پڑا ہے انہيں ریفنڈ نہیں کیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے حاجیوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ وزارت اقلیتی امور کے ایک ڈائریکٹر کو مرکزی حج کمیٹی کے سی ای او کے عہدے کا اضافی چارج سونپا گیا ہے، جنہوں نے چارج سنبھالنے کے بعد کئی مہینوں میں صرف دو مرتبہ حج کمیٹی کے دفتر میں حاضری دی ہے۔ اور بھی دیگر مسائل ہیں جو حکومت اور متعلقہ وزارت کی تساہلی اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے پیدا ہورہے ہيں۔ یاد رہے کہ 27 مارچ 2023 کو عدالت عظمی کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی والی بنچ میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ وزارت اقلیتی امور تین ماہ کے اندر حج ایکٹ کے مطابق حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل کا کام مکمل کرلے اور سات ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی اب تک اس سلسلے میں وزارت اقلیتی امور کی طرف سے حج کمیٹی کی تشکیل کے لیے کوئی اقدام نہیں ہوا، جبکہ اس فیصلے کی پیروی کرنے والے معروف سماجی کارکن اور حج کمیٹی کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی نے اس سلسلے میں کابینہ سکریٹری، وزارت اقلیتی امور کے سکریٹری اور حج کمیٹی کے انجارج سی ای او کو مکتوب بھیجا تھا اور تین ماہ بعد یاد دہانی کا مکتوب بھی بھیجا تھا۔ مگر صد افسوس کہ اس سلسلے میں مرکزی حکومت کا رویہ غیر سنجیدہ ہے اور اس سفر حج کے بارے میں وہ کیا رائے رکھتی ہے یہ سمجھ سے پرے ہے۔ یہ سوسالہ ادارہ جو خالص مسلمانوں کے پیسے سے اقلیتی طبقہ کے سفر حج کا انتظام کرتا آرہا ہے، اس حکومت میں وہ بے سہارا اور لاچار ہوکر رہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حج 2024 کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حج کمیٹی آف انڈیا کی فوری تشکیل ہو اور قدیمی روایات کے مطابق سارے کام کیے جائيں۔ گلوبل ٹینڈرنگ کے ذریعہ سفر حج کا کرایہ طے کرنے کا نظم کیا جائے اور کم سے کم چار ماہ قبل مکہ اور مدینہ میں رہائش کی سہولیات حاصل کی جائيں تاکہ سستا اور اچھا مکان مل سکے۔












