ہوبلی، (یو این آئی) "ٹیم میں کوئی اسٹار کلچر نہیں ہے۔” یہی سادہ سی سوچ جموں و کشمیر کے رنجی ٹرافی فائنل تک کے تاریخی سفر کی بنیاد بنی، جس نے نوجوان کرکٹرز کے ایک گروپ کو ہندوستانی ڈومیسٹک کرکٹ کی سب سے متاثر کن ‘انڈر ڈاگ کامیابی کی کہانیوں میں بدل دیا۔جہاں کئی ٹیمیں اکیلے دم پر میچ جتوانے والے کھلاڑیوں پر بھروسہ کرتی ہیں، وہیں جموں و کشمیر نے اپنی مہم اتحاد، نظم و ضبط اور کردار پر مبنی کارکردگی (رول بیسڈ پرفارمنس) پر استوار کی۔ ہیڈ کوچ اجے شرما نے کہا کہ کھلاڑیوں کا انتخاب شہرت یا فرنچائز کرکٹ کی چکا چوند کے بجائے مستقل مزاجی، مزاج اور میچ کی سمجھ بوجھ کی بنیاد پر کیا گیا۔اس اندازِ فکر کا بڑا فائدہ ہوا کیونکہ جموں و کشمیر نے اپنی مہم کے دوران کئی سابق رنجی ٹرافی چیمپئنز کو شکست دی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اجتماعی کوشش اکثر اسٹارز پر مبنی ڈھانچے سے بہتر نتائج دے سکتی ہے۔ کوچنگ کا محور کھلاڑیوں میں کردار اور ذہنی مضبوطی پیدا کرنے پر تھا۔ کرکٹرز کو بار بار یاد دلایا گیا کہ ڈومیسٹک کرکٹ ہی ٹیلنٹ کا اصل امتحان ہے، اور صرف مسلسل اچھی کارکردگی ہی پہچان دلائے گی۔ نوجوان کھلاڑیوں کو فوری شہرت یا ریکارڈ کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ‘پراسیس پر توجہ دینے کی ترغیب دی گئی۔گزشتہ سیزن میں کوارٹر فائنل میں ایک رن سے ہونے والی دل شکن ہار کے بعد یہ ‘ٹیم فرسٹ کلچر خاص طور پر نمایاں ہوا۔ اس معمولی ہار سے ٹیم کا حوصلہ ٹوٹنے کے بجائے کوچنگ اسٹاف نے اسے میچ کی آگاہی اور دباؤ کو سنبھالنے کے سبق کے طور پر لیا۔ کھلاڑیوں کو سکھایا گیا کہ ہر رن، فیلڈنگ کی ہر کوشش اور ہر گیند بڑے میچوں کا نتیجہ بدل سکتی ہے۔












