گرین لینڈ، (یو این آئی) گرین لینڈ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آرکٹک جزیرے پر اسپتال شپ بھیجنے کے منصوبے کے لیے "نہیں شکریہ”! گرین لینڈ نے یہ انکار "قومی سلامتی” کی وجوہات کی بنا پر ڈنمارک کے خود مختار علاقے پر قبضہ کرنے کی بار بار دھمکی کے جواب میں دیا ہے۔ وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے اتوار کے روز فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکی طبی جہاز بھیجنے کی ٹرمپ کی تجویز کو "نوٹ” کیا گیا تھا لیکن ہمارے پاس صحت عامہ کا ایک نظام ہے جہاں شہریوں کے لیے علاج مفت ہے۔ نیلسن نے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ بات چیت اور تعاون کے لیے کھلا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر کم و بیش بے ترتیب اشتعال انگیزی کرنے کے بجائے ہم سے بات کریں۔ نیلسن نے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ بات چیت اور تعاون کے لیے کھلا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر کم و بیش بے ترتیب اشتعال انگیزی کرنے کے بجائے ہم سے بات کریں۔ امریکہ کو عملی جواب دیتے ہوئے کینیڈا اور فرانس نے گرین لینڈ میں قونصل خانے کھول لیے۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ نے دارالحکومت نوک میں سفارتخانے کا افتتاح کیا، اس موقع پر انھوں نے کہا کہ یہ اقدام آرکٹک خطے کے لیے سیاسی اور سفارتی حمایت کا واضح پیغام ہے۔ انھوں نے کہا کہ گرین لینڈ میں قونصل خانے کھولنے کا مقصد باہمی تعلقات، تجارتی روابط اور سیکیورٹی تعاون مضبوط بنانا ہے۔












