نئی دہلی؛”یوم برائے اقلیتوں کے حقوق“ کے موقع پراقلیتوں، مظلوم اور پسماندہ طبقات کے حقوق کا تحفظ بہت اہم ہوگیا ہے۔ان کی ضروریات اور ان کے حقوق کے لئے سال کا صرف ایک دن مقرر کرنا ہی کافی نہیں ہے۔بلکہ اس پر مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے۔یہ باتیں سید تنویر احمد ڈائریکٹر مرکزی تعلیمی بورڈنے ’عالمی اقلیتی حقوق کا دن‘ کے موقع پر منعقدہ ویبنار میں اپنے صدارتی کلمات میں کہیں۔ اس ویبنار کا اہتمام ’بھارتی آئین اور اقلیتوں کے حقوق بالخصوص تعلیم کے حوالے سے‘ کے عنوان پر متعدد تنظیموں کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔ سید تنویر احمد نے ”مدارس، اقلیتوں کے زیر انتظام چلنے والے اداروں، اسکولوں، کالجوں، اقلیتی وظائف اور فیلو شپس کے بارے میں موجودہ حکومت کے رویوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”اقلیتوں کو اپنے حقوق اور اپنی ضروریات سے آگاہ رہنا چاہئے اور ان سرگرمیوں پر بھی نظر رکھنی چاہئے جو ان حقوق کی پامالی کیلئے انجام دی جارہی ہیں۔آج ملک میں اقلیتوں کے حقوق کی عدم ادائیگی اور پامالی کے واقعات کا صحیح ڈیٹا موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس کے حصول و جمع کے لئے کوئی باضابطہ ادارہ موجود ہے۔راجندر سچر کمیٹی نے جو ڈیٹا جمع کیا تھا،وہ کافی قدیم ہے،اگر اقلیتوں کی کثیر آبادی کو ملک کی ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے تو انہیں ترقی کے تمام کاموں میں متناسب حصہ دار بنانا ہوگا۔اس کے لئے حقیقت سے قریب ڈیٹا کو جمع کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔اگر یہ کام حکومت نہیں کرتی ہے تو سول سوسائٹی کو اپنے ذمہ لینا چاہئے۔ انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ’نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کی خامیوں کو بیان کرتے ہوئے تمام متعلقہ تنظیموں کو اکٹھے ہونے اور اس کا حل تلاش کرنے پر زور دیا“۔
ویبنار کو خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جان دیال،آل انڈیا کرسچن کونسل کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کو درپیش چیلنجز، ا قلیتوں اور پسماندہ افراد کے تحفظ کے لئے بنائے گئے کمیشنوں کا خاتمہ بھی خدشات کو جنم دیتا ہے۔تعلیم میں فرقہ واریت کے رجحان کی بھی مزاحمت کی جانی چاہئے“۔ سپریم کورٹ کے وکیل ایم آر شمشاد نے ان آئینی دفعات کے بارے میں بات کی جو اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں اور اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان کا آئین ایک سیاسی دستاویز ہے جس سے اقلیتوں کو متعدد حقوق حاصل ہوتے ہیں جن میں آرٹیکل 19,25,29 اور 30 شامل ہیں۔ان آئینی دفعات کو مطلوبہ روح کے مطابق نافذ کرنے اور ان کی تشریح پر توجہ دینے کی ضرورت ہ“۔امیر اللہ خاں،بانی سینٹر فار ڈیولپمنٹ پالیسی اینڈ پریکٹس نے اقلیتوں اور کمزور آبادیوں کے حقوق اور ثقافت پر برسراقتدار پارٹی کے حملوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اقلیتوں کے حقوق میں مسلسل کمی سے ہندوستان کی شناخت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔آج معاشی خدشات اور غربت کی سطح پر توجہ نہیں دی جارہی ہے“۔اشوک بھارتی، چیئرمین ’نیشنل کنفیڈریشن آف دلت اینڈ آدیواسی آرگنائزیشن‘ نے تمام پسماندہ طبقات کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے اقلیتی تحفظات سے متعلق مباحثوں اور درست اعدادو شمار کی ضرورت پر بات کی“۔ حیدرآباد کی ایک آزاد ریسرچر ڈاکٹر اے سنیتا نے کہا کہ آزاد ہندوستان میں اعلیٰ تعلیمی ادارے بالخصوص سرکاری یونیورسٹیوں کا مقصد عوامی شعبوں کے طور پر کام کرنا تھا ،تاہم مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ و دیگراسکالر شپس پر پابندیوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان اداروں کے اصل مقصد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے۔ڈاکٹر سنیتا نے اقلیتوں خاص طور پر مسلم خواتین کے مسائل پر روشنی ڈالی“۔ پروگرام کی نظامت انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اینڈ ایڈوکیسی کے سینئر ریسرچر ڈاکٹر جاوید عالم خاں کررہے تھے۔انسٹی ٹیوٹ کے صدر ڈاکٹر عبد الرشید اگوان نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جس میں اقلیتی حقوق کے عالمی دن کی ابتدا کے سیاق و سباق اور حکومت کے پائیدار ترقی کے اہداف کو اجاگر کیا گیا جس میں اقلیتوں کے حقوق کو ایک اہم بتایا گیا۔ ڈاکٹر خالد خاں، ریسرچر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف دلت اسٹڈیز، آل انڈیا ایجوکیشن موومنٹ کے ایڈوکیٹ اسلم اور گری انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیر کے ڈاکٹر منظور علی، نے بھی












