• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
اتوار, مارچ 15, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

شمال مشرقی ریاستوں کے انتخابات کا پیغام

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 12, 2023
0 0
A A
شمال مشرقی ریاستوں کے انتخابات کا پیغام
Share on FacebookShare on Twitter

شمال مشرق کی ریاستوں میں ہوئے انتخابات کے نتائج آ چکے ہیں۔ ترپورہ، ناگالینڈ اور میگھالیہ پر بی جے پی یا اس کی اتحادی جماعتوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔ اسی کے ساتھ ملک کے 4033 ممبران اسمبلی میں سے کانگریس کے پاس صرف 658 ممبران بچے ہیں۔ 2014 میں اس کے 24 فیصد ایم ایل اے تھے۔ اب 16 فیصد ہی رہ گئے ہیں۔ مودی کے دور اقتدار میں کانگریس 331 ایم ایل اے گنوا چکی ہے۔ جبکہ بی جے پی کے کھاتے میں 474 کا اضافہ ہوا ہے۔ آندھرا پردیش، ناگالینڈ، سکم، مغربی بنگال اور دہلی میں اس کا ایک بھی ایم ایل اے نہیں ہے۔ گزشتہ نو سال میں کانگریس کا اقتدار 11 ریاستوں سے گھٹ کر 6 میں سمٹ گیا ہے۔ ان میں سے بھی تین بہار، جھارکھنڈ اور تمل ناڈو میں وہ اتحادی حکومت کا حصہ ہے۔ انتخابات کو لے کر کانگریس کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں کے انتخابات کے وقت وہ چھتیس گڑھ کے اجلاس کو کامیاب بنانے میں لگی تھی۔ لیکن وہیں دوسری طرف وزیراعظم اور ان کی ٹیم تریپورہ، ناگالینڈ اور میگھالیہ میں ووٹ مانگ رہے تھے۔ گزشتہ پانچ سال میں اکیلے نریندرمودی نے شمال مشرق کی ریاستوں کا 47 مرتبہ دورہ کیا ہے۔ اس میں وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزراءکو شامل کر لیا جائے تو اوسطاً ہر پندرہ دن میں بی جے پی کا کوئی وزیر شمال مشرق کی کسی ریاست کے دورے پر رہا ہے۔ نتیجہ کے طور پر جہاں 2014 میں کانگریس اور بی جے پی کو وہاں کی 25 پارلیمانی سیٹوں میں سے 8 – 8 سیٹیں ملی تھیں۔ وہیں 2019 میں بی جے پی نے 14 سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔
ترپورہ میں بی جے پی کی فتح میں وہاں کے وزیر اعلیٰ مانک ساہا کا اہم رول مانا جا رہا ہے۔ بی جے پی نے یہاں ڈھائی دہائی سے اقتدار پر قابض لیفٹ فرنٹ کو ہرا کر 2018 میں پہلی مرتبہ حکومت بنائی تھی۔ اس مرتبہ لیفٹ فرنٹ نے کانگریس کے ساتھ مل کر بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس سے قبل کانگریس مغربی بنگال میں بھی لیفٹ کے ساتھ مل کر الیکشن لڑ کر ناکام ہو چکی ہے۔ البتہ بہار کے الیکشن میں لیفٹ نے اچھا مظاہرہ کیا تھا۔ کیرالہ میں لیفٹ فرنٹ کانگریس کے مد مقابل ہے۔یہاں تک کہ بھارت جوڑو یاترا کے یاتریوں کو لیفٹ نے اپنے زیر اثر علاقہ میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ترپورہ میں کانگریس کا ووٹ فیصد 1.41 سے بڑھ کر 8.56 ہو گیا لیکن اسے تین سیٹیں ہی مل پائیں۔ وہیں سی پی آئی ایم 11 سیٹوں پر سمٹ گئی۔ اس کا ووٹ فیصد 42.70 سے گھٹ کر 24 فیصد رہ گیا۔ حکومت کے خلاف ناراضگی کو ایک طرف ماڑک ساہا کم کرنے میں کامیاب رہے۔ دوسری طرف مقامی پارٹی ٹپراموتھا پارٹی کے الیکشن کو سہ رخی بنانے کا بی جے پی کو فائدہ ملا۔ لیفٹ اور کانگریس ٹپراموتھا پارٹی سے اتحاد نہیں کرپایا۔ جبکہ بی جے پی نے یہ یقین دلا دیا کہ اسے ٹپرا موتھا کی تمام شرائط منظور ہیں اور وہ اس کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی بھلے ہی اس کی اکثریت کیوں نہ آجائے۔
ناگالینڈ کے مقابلے میں کانگریس میگھالیہ میں مضبوط تھی۔ 2014 میں 29 سیٹوں کے ساتھ میگھالیہ میں کانگریس کی حکومت تھی۔ 2018 کے الیکشن میں کانگریس کو 8 سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ وہ یونائیٹڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتی تھی۔ لیکن دو سیٹ جیتنے والی بی جے پی نے این پی پی کی حکومت بنوا دی۔ جبکہ اس کے پاس صرف 19 سیٹ تھی۔ اس مرتبہ کانگریس 21 سے کھسک کر 5 سیٹ پر آگئی۔ ناگالینڈ میں 80 اور میگھالیہ میں 75 فیصد آبادی عیسائی ہے۔ 2014 کے بعد بھاجپا کے حمایت یافتہ ہندو شدت پسند عیسائی مبلغوں اور چرچوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ مگر حالیہ انتخابات پر ان واقعات کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عیسائی آبادی نے انہیں بھلا دیا، کیا مرکزی اقتدار کے ساتھ رہنے میں اپنی بھلائی محسوس کرتی ہے یا پھر حکومت کی اسکیمیں اس سب پر بھاری پڑی ہیں۔ یہ تو تحقیق سے معلوم ہوگا لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں میں بی جے پی کا اثر بڑھ رہا ہے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت شمال مشرقی ریاستوں پر فوکس کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ ہندی پٹی پراگر اسے نقصان ہوا تو اس کی یہاں سے بھر پائی کرنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف آئین میں بنیادی تبدیلی میں یہ ریاستیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ آئین کے بنیادی حقوق، صدر جمہوریہ کو منتخب کرنے طریقہ اور دوسری اہم ترامیم کےلئے ملک کی آدھی سے زیادہ ریاستوں کی منظوری درکار ہے۔ یہ ریاستیں بھلے ہی چھوٹی ہیں لیکن طاقت کے لحاظ سے انہیں وہی درجہ حاصل ہے جو بڑی ریاستوں کو۔ شاید اسی لئے بی جے پی ان پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ وہاں کی چھوٹی پارٹیوں کی شرائط منظور کرنے میں بھی اسے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ کیوں اسے معلوم ہے کہ طاقت ملنے کے بعد ان شرائط کو نظر انداز کرنے میں اسے کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ اگر کوئی جماعت اس کے منصوبہ کو ناکام کرنے کی کوشش کرے گی تو ایجنسیاں اسے حد سے آگے نہیں بڑھنے دیں گی۔ ابھی تک حالات تو یہی بتاتے ہیں کہ جو بھی بی جے پی اقتدار کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ ایجنسیاں اس کا اگلا پچھلا ریکارڈ چھاننے میں لگ جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جو بھاجپا کی کشتی میں سوار ہو جاتا ہے اس کے بڑے سے بڑے معاملے ٹھنڈے بستے میں چلے جاتے ہیں۔
بی جے پی اور کانگریس کے درمیان یہی فرق ہے۔ بی جے پی کی پوری توجہ اپنے کنبے کو جوڑنے اور ووٹوں کو بڑھانے پر ہے۔ جبکہ طاقت ملنے کے بعد وہ اپنے اتحادیوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بی ایس پی، اکالی دل، جے ڈی یو، ایل جے پی، شیو سینا وغیرہ اس کی مثال ہیں۔ لیکن کانگریس اپنے ساتھیوں کو مطمئن کرنے، کنبہ کو بڑا کرنے اور ووٹوں کو جوڑ کر رکھنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ کانگریس کے 85 ویں اجلاس سے ملک کو بڑی امید تھی۔ ملک یہاں سے بے روزگاری، مہنگائی، کرپشن اور آئینی اداروں کو مفلوج کئے جانے کے خلاف مضبوط آواز کے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا۔ لیکن راہل گاندھی کے میرے پاس گھر نہیں ہے والے بیان نے لوگوں کو مایوس کیا۔ اس اجلاس میں نوجوانوں، خواتین، اقلیت، دلتوں اور پسماندہ کو تنظیم میں ریزرویشن دینے اور گاو¿ں تک کانگریس کارکنوں کے پہنچنے کی تجویز پاس کی گئی ہے۔ مگر اس نے اپنے137 سالہ نظریاتی سفر پر مشتمل اشتہار میں کسی مسلمان کو جگہ نہیں دی۔ جبکہ مسلمان جہاں ریجنل پارٹیاں نہیں ہیں وہاں کانگریس کو ووٹ دیتے ہیں۔
چھتیس گڑھ اجلاس میں کانگریس کارکنان کے گاو¿ں، پنچایت تک پہنچنے اور اپوزیشن کو متحد کرنے کا عہد کیا تھا۔ اسی کے بعد بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا تھا کہ کانگریس سمیت پورا اپوزیشن اگر متحد ہو جائے تو اگلے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی100 سیٹوں پر سمٹ جائے گی۔ لیکن ابھی تک کانگریس کی طرف سے اتحاد کا کوئی فارمولا سامنے نہیں آیا ہے۔ جبکہ سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ منیش سشودیا کی گرفتاری پر اپوزیشن پارٹیوں کے نو لیڈران نے اپنے دستخط کے ساتھ وزیراعظم کو خط بھیجا ہے۔ اس میں کانگریس کا کوئی شخص موجود نہیں ہے۔ دستخط کرنے والوں میں ممتا بنرجی، چندر شیکھر راو¿، فاروق عبداللہ، ادھو ٹھاکرے، شرد پوار، اکھلیش یادو، بھگوت مان اور اروند کجریوال شامل ہیں۔ اس خط میں وہ سارے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کا کانگریس نے اپنے اجلاس میں ذکر کیا تھا۔ لیکن خط میں کہیں بھی اڈانی کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ اس خط سے تیسرے مورچہ امکان کو ہوا دی ہے۔ کانگریس کے اجلاس میں صاف طور پر کہا گیا تھا کہ تیسرے مورچہ سے بی جے پی کو ہی فائدہ ہوگا۔ سوال یہ ہے کانگریس اس فرنٹ پر کیا کر رہی ہے۔ اسی سال کے آخر میں چھ اور ریاستوں کے انتخابات ہونے ہیں۔ بی جے پی وہاں اپنی انتخابی مہم شروع کر چکی ہے۔ مگر کانگریس کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ اگر وقت رہتے اپوزیشن نہیں سنبھلا اور کامن روڈ میپ تیار نہیں کیا تو ہاتھ آئے موقع کے باوجود کامیابی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ شمال مشرقی ریاستوں کے انتخابات کا یہی پیغام ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن اسے کب سمجھتا ہے۔
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
شمال مشرقی ریاستوں کے انتخابات کا پیغام
شمال مشرق کی ریاستوں میں ہوئے انتخابات کے نتائج آ چکے ہیں۔ ترپورہ، ناگالینڈ اور میگھالیہ پر بی جے پی یا اس کی اتحادی جماعتوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔ اسی کے ساتھ ملک کے 4033 ممبران اسمبلی میں سے کانگریس کے پاس صرف 658 ممبران بچے ہیں۔ 2014 میں اس کے 24 فیصد ایم ایل اے تھے۔ اب 16 فیصد ہی رہ گئے ہیں۔ مودی کے دور اقتدار میں کانگریس 331 ایم ایل اے گنوا چکی ہے۔ جبکہ بی جے پی کے کھاتے میں 474 کا اضافہ ہوا ہے۔ آندھرا پردیش، ناگالینڈ، سکم، مغربی بنگال اور دہلی میں اس کا ایک بھی ایم ایل اے نہیں ہے۔ گزشتہ نو سال میں کانگریس کا اقتدار 11 ریاستوں سے گھٹ کر 6 میں سمٹ گیا ہے۔ ان میں سے بھی تین بہار، جھارکھنڈ اور تمل ناڈو میں وہ اتحادی حکومت کا حصہ ہے۔ انتخابات کو لے کر کانگریس کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں کے انتخابات کے وقت وہ چھتیس گڑھ کے اجلاس کو کامیاب بنانے میں لگی تھی۔ لیکن وہیں دوسری طرف وزیراعظم اور ان کی ٹیم تریپورہ، ناگالینڈ اور میگھالیہ میں ووٹ مانگ رہے تھے۔ گزشتہ پانچ سال میں اکیلے نریندرمودی نے شمال مشرق کی ریاستوں کا 47 مرتبہ دورہ کیا ہے۔ اس میں وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزراءکو شامل کر لیا جائے تو اوسطاً ہر پندرہ دن میں بی جے پی کا کوئی وزیر شمال مشرق کی کسی ریاست کے دورے پر رہا ہے۔ نتیجہ کے طور پر جہاں 2014 میں کانگریس اور بی جے پی کو وہاں کی 25 پارلیمانی سیٹوں میں سے 8 – 8 سیٹیں ملی تھیں۔ وہیں 2019 میں بی جے پی نے 14 سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔
ترپورہ میں بی جے پی کی فتح میں وہاں کے وزیر اعلیٰ مانک ساہا کا اہم رول مانا جا رہا ہے۔ بی جے پی نے یہاں ڈھائی دہائی سے اقتدار پر قابض لیفٹ فرنٹ کو ہرا کر 2018 میں پہلی مرتبہ حکومت بنائی تھی۔ اس مرتبہ لیفٹ فرنٹ نے کانگریس کے ساتھ مل کر بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس سے قبل کانگریس مغربی بنگال میں بھی لیفٹ کے ساتھ مل کر الیکشن لڑ کر ناکام ہو چکی ہے۔ البتہ بہار کے الیکشن میں لیفٹ نے اچھا مظاہرہ کیا تھا۔ کیرالہ میں لیفٹ فرنٹ کانگریس کے مد مقابل ہے۔یہاں تک کہ بھارت جوڑو یاترا کے یاتریوں کو لیفٹ نے اپنے زیر اثر علاقہ میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ترپورہ میں کانگریس کا ووٹ فیصد 1.41 سے بڑھ کر 8.56 ہو گیا لیکن اسے تین سیٹیں ہی مل پائیں۔ وہیں سی پی آئی ایم 11 سیٹوں پر سمٹ گئی۔ اس کا ووٹ فیصد 42.70 سے گھٹ کر 24 فیصد رہ گیا۔ حکومت کے خلاف ناراضگی کو ایک طرف ماڑک ساہا کم کرنے میں کامیاب رہے۔ دوسری طرف مقامی پارٹی ٹپراموتھا پارٹی کے الیکشن کو سہ رخی بنانے کا بی جے پی کو فائدہ ملا۔ لیفٹ اور کانگریس ٹپراموتھا پارٹی سے اتحاد نہیں کرپایا۔ جبکہ بی جے پی نے یہ یقین دلا دیا کہ اسے ٹپرا موتھا کی تمام شرائط منظور ہیں اور وہ اس کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی بھلے ہی اس کی اکثریت کیوں نہ آجائے۔
ناگالینڈ کے مقابلے میں کانگریس میگھالیہ میں مضبوط تھی۔ 2014 میں 29 سیٹوں کے ساتھ میگھالیہ میں کانگریس کی حکومت تھی۔ 2018 کے الیکشن میں کانگریس کو 8 سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ وہ یونائیٹڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتی تھی۔ لیکن دو سیٹ جیتنے والی بی جے پی نے این پی پی کی حکومت بنوا دی۔ جبکہ اس کے پاس صرف 19 سیٹ تھی۔ اس مرتبہ کانگریس 21 سے کھسک کر 5 سیٹ پر آگئی۔ ناگالینڈ میں 80 اور میگھالیہ میں 75 فیصد آبادی عیسائی ہے۔ 2014 کے بعد بھاجپا کے حمایت یافتہ ہندو شدت پسند عیسائی مبلغوں اور چرچوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ مگر حالیہ انتخابات پر ان واقعات کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عیسائی آبادی نے انہیں بھلا دیا، کیا مرکزی اقتدار کے ساتھ رہنے میں اپنی بھلائی محسوس کرتی ہے یا پھر حکومت کی اسکیمیں اس سب پر بھاری پڑی ہیں۔ یہ تو تحقیق سے معلوم ہوگا لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں میں بی جے پی کا اثر بڑھ رہا ہے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت شمال مشرقی ریاستوں پر فوکس کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ ہندی پٹی پراگر اسے نقصان ہوا تو اس کی یہاں سے بھر پائی کرنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف آئین میں بنیادی تبدیلی میں یہ ریاستیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ آئین کے بنیادی حقوق، صدر جمہوریہ کو منتخب کرنے طریقہ اور دوسری اہم ترامیم کےلئے ملک کی آدھی سے زیادہ ریاستوں کی منظوری درکار ہے۔ یہ ریاستیں بھلے ہی چھوٹی ہیں لیکن طاقت کے لحاظ سے انہیں وہی درجہ حاصل ہے جو بڑی ریاستوں کو۔ شاید اسی لئے بی جے پی ان پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ وہاں کی چھوٹی پارٹیوں کی شرائط منظور کرنے میں بھی اسے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ کیوں اسے معلوم ہے کہ طاقت ملنے کے بعد ان شرائط کو نظر انداز کرنے میں اسے کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ اگر کوئی جماعت اس کے منصوبہ کو ناکام کرنے کی کوشش کرے گی تو ایجنسیاں اسے حد سے آگے نہیں بڑھنے دیں گی۔ ابھی تک حالات تو یہی بتاتے ہیں کہ جو بھی بی جے پی اقتدار کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ ایجنسیاں اس کا اگلا پچھلا ریکارڈ چھاننے میں لگ جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جو بھاجپا کی کشتی میں سوار ہو جاتا ہے اس کے بڑے سے بڑے معاملے ٹھنڈے بستے میں چلے جاتے ہیں۔
بی جے پی اور کانگریس کے درمیان یہی فرق ہے۔ بی جے پی کی پوری توجہ اپنے کنبے کو جوڑنے اور ووٹوں کو بڑھانے پر ہے۔ جبکہ طاقت ملنے کے بعد وہ اپنے اتحادیوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بی ایس پی، اکالی دل، جے ڈی یو، ایل جے پی، شیو سینا وغیرہ اس کی مثال ہیں۔ لیکن کانگریس اپنے ساتھیوں کو مطمئن کرنے، کنبہ کو بڑا کرنے اور ووٹوں کو جوڑ کر رکھنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ کانگریس کے 85 ویں اجلاس سے ملک کو بڑی امید تھی۔ ملک یہاں سے بے روزگاری، مہنگائی، کرپشن اور آئینی اداروں کو مفلوج کئے جانے کے خلاف مضبوط آواز کے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا۔ لیکن راہل گاندھی کے میرے پاس گھر نہیں ہے والے بیان نے لوگوں کو مایوس کیا۔ اس اجلاس میں نوجوانوں، خواتین، اقلیت، دلتوں اور پسماندہ کو تنظیم میں ریزرویشن دینے اور گاو¿ں تک کانگریس کارکنوں کے پہنچنے کی تجویز پاس کی گئی ہے۔ مگر اس نے اپنے137 سالہ نظریاتی سفر پر مشتمل اشتہار میں کسی مسلمان کو جگہ نہیں دی۔ جبکہ مسلمان جہاں ریجنل پارٹیاں نہیں ہیں وہاں کانگریس کو ووٹ دیتے ہیں۔
چھتیس گڑھ اجلاس میں کانگریس کارکنان کے گاو¿ں، پنچایت تک پہنچنے اور اپوزیشن کو متحد کرنے کا عہد کیا تھا۔ اسی کے بعد بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا تھا کہ کانگریس سمیت پورا اپوزیشن اگر متحد ہو جائے تو اگلے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی100 سیٹوں پر سمٹ جائے گی۔ لیکن ابھی تک کانگریس کی طرف سے اتحاد کا کوئی فارمولا سامنے نہیں آیا ہے۔ جبکہ سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ منیش سشودیا کی گرفتاری پر اپوزیشن پارٹیوں کے نو لیڈران نے اپنے دستخط کے ساتھ وزیراعظم کو خط بھیجا ہے۔ اس میں کانگریس کا کوئی شخص موجود نہیں ہے۔ دستخط کرنے والوں میں ممتا بنرجی، چندر شیکھر راو¿، فاروق عبداللہ، ادھو ٹھاکرے، شرد پوار، اکھلیش یادو، بھگوت مان اور اروند کجریوال شامل ہیں۔ اس خط میں وہ سارے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کا کانگریس نے اپنے اجلاس میں ذکر کیا تھا۔ لیکن خط میں کہیں بھی اڈانی کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ اس خط سے تیسرے مورچہ امکان کو ہوا دی ہے۔ کانگریس کے اجلاس میں صاف طور پر کہا گیا تھا کہ تیسرے مورچہ سے بی جے پی کو ہی فائدہ ہوگا۔ سوال یہ ہے کانگریس اس فرنٹ پر کیا کر رہی ہے۔ اسی سال کے آخر میں چھ اور ریاستوں کے انتخابات ہونے ہیں۔ بی جے پی وہاں اپنی انتخابی مہم شروع کر چکی ہے۔ مگر کانگریس کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ اگر وقت رہتے اپوزیشن نہیں سنبھلا اور کامن روڈ میپ تیار نہیں کیا تو ہاتھ آئے موقع کے باوجود کامیابی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ شمال مشرقی ریاستوں کے انتخابات کا یہی پیغام ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن اسے کب سمجھتا ہے۔
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
شمال مشرقی ریاستوں کے انتخابات کا پیغام
شمال مشرق کی ریاستوں میں ہوئے انتخابات کے نتائج آ چکے ہیں۔ ترپورہ، ناگالینڈ اور میگھالیہ پر بی جے پی یا اس کی اتحادی جماعتوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔ اسی کے ساتھ ملک کے 4033 ممبران اسمبلی میں سے کانگریس کے پاس صرف 658 ممبران بچے ہیں۔ 2014 میں اس کے 24 فیصد ایم ایل اے تھے۔ اب 16 فیصد ہی رہ گئے ہیں۔ مودی کے دور اقتدار میں کانگریس 331 ایم ایل اے گنوا چکی ہے۔ جبکہ بی جے پی کے کھاتے میں 474 کا اضافہ ہوا ہے۔ آندھرا پردیش، ناگالینڈ، سکم، مغربی بنگال اور دہلی میں اس کا ایک بھی ایم ایل اے نہیں ہے۔ گزشتہ نو سال میں کانگریس کا اقتدار 11 ریاستوں سے گھٹ کر 6 میں سمٹ گیا ہے۔ ان میں سے بھی تین بہار، جھارکھنڈ اور تمل ناڈو میں وہ اتحادی حکومت کا حصہ ہے۔ انتخابات کو لے کر کانگریس کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں کے انتخابات کے وقت وہ چھتیس گڑھ کے اجلاس کو کامیاب بنانے میں لگی تھی۔ لیکن وہیں دوسری طرف وزیراعظم اور ان کی ٹیم تریپورہ، ناگالینڈ اور میگھالیہ میں ووٹ مانگ رہے تھے۔ گزشتہ پانچ سال میں اکیلے نریندرمودی نے شمال مشرق کی ریاستوں کا 47 مرتبہ دورہ کیا ہے۔ اس میں وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزراءکو شامل کر لیا جائے تو اوسطاً ہر پندرہ دن میں بی جے پی کا کوئی وزیر شمال مشرق کی کسی ریاست کے دورے پر رہا ہے۔ نتیجہ کے طور پر جہاں 2014 میں کانگریس اور بی جے پی کو وہاں کی 25 پارلیمانی سیٹوں میں سے 8 – 8 سیٹیں ملی تھیں۔ وہیں 2019 میں بی جے پی نے 14 سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔
ترپورہ میں بی جے پی کی فتح میں وہاں کے وزیر اعلیٰ مانک ساہا کا اہم رول مانا جا رہا ہے۔ بی جے پی نے یہاں ڈھائی دہائی سے اقتدار پر قابض لیفٹ فرنٹ کو ہرا کر 2018 میں پہلی مرتبہ حکومت بنائی تھی۔ اس مرتبہ لیفٹ فرنٹ نے کانگریس کے ساتھ مل کر بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس سے قبل کانگریس مغربی بنگال میں بھی لیفٹ کے ساتھ مل کر الیکشن لڑ کر ناکام ہو چکی ہے۔ البتہ بہار کے الیکشن میں لیفٹ نے اچھا مظاہرہ کیا تھا۔ کیرالہ میں لیفٹ فرنٹ کانگریس کے مد مقابل ہے۔یہاں تک کہ بھارت جوڑو یاترا کے یاتریوں کو لیفٹ نے اپنے زیر اثر علاقہ میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ترپورہ میں کانگریس کا ووٹ فیصد 1.41 سے بڑھ کر 8.56 ہو گیا لیکن اسے تین سیٹیں ہی مل پائیں۔ وہیں سی پی آئی ایم 11 سیٹوں پر سمٹ گئی۔ اس کا ووٹ فیصد 42.70 سے گھٹ کر 24 فیصد رہ گیا۔ حکومت کے خلاف ناراضگی کو ایک طرف ماڑک ساہا کم کرنے میں کامیاب رہے۔ دوسری طرف مقامی پارٹی ٹپراموتھا پارٹی کے الیکشن کو سہ رخی بنانے کا بی جے پی کو فائدہ ملا۔ لیفٹ اور کانگریس ٹپراموتھا پارٹی سے اتحاد نہیں کرپایا۔ جبکہ بی جے پی نے یہ یقین دلا دیا کہ اسے ٹپرا موتھا کی تمام شرائط منظور ہیں اور وہ اس کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی بھلے ہی اس کی اکثریت کیوں نہ آجائے۔
ناگالینڈ کے مقابلے میں کانگریس میگھالیہ میں مضبوط تھی۔ 2014 میں 29 سیٹوں کے ساتھ میگھالیہ میں کانگریس کی حکومت تھی۔ 2018 کے الیکشن میں کانگریس کو 8 سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ وہ یونائیٹڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتی تھی۔ لیکن دو سیٹ جیتنے والی بی جے پی نے این پی پی کی حکومت بنوا دی۔ جبکہ اس کے پاس صرف 19 سیٹ تھی۔ اس مرتبہ کانگریس 21 سے کھسک کر 5 سیٹ پر آگئی۔ ناگالینڈ میں 80 اور میگھالیہ میں 75 فیصد آبادی عیسائی ہے۔ 2014 کے بعد بھاجپا کے حمایت یافتہ ہندو شدت پسند عیسائی مبلغوں اور چرچوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ مگر حالیہ انتخابات پر ان واقعات کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عیسائی آبادی نے انہیں بھلا دیا، کیا مرکزی اقتدار کے ساتھ رہنے میں اپنی بھلائی محسوس کرتی ہے یا پھر حکومت کی اسکیمیں اس سب پر بھاری پڑی ہیں۔ یہ تو تحقیق سے معلوم ہوگا لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں میں بی جے پی کا اثر بڑھ رہا ہے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت شمال مشرقی ریاستوں پر فوکس کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ ہندی پٹی پراگر اسے نقصان ہوا تو اس کی یہاں سے بھر پائی کرنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف آئین میں بنیادی تبدیلی میں یہ ریاستیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ آئین کے بنیادی حقوق، صدر جمہوریہ کو منتخب کرنے طریقہ اور دوسری اہم ترامیم کےلئے ملک کی آدھی سے زیادہ ریاستوں کی منظوری درکار ہے۔ یہ ریاستیں بھلے ہی چھوٹی ہیں لیکن طاقت کے لحاظ سے انہیں وہی درجہ حاصل ہے جو بڑی ریاستوں کو۔ شاید اسی لئے بی جے پی ان پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ وہاں کی چھوٹی پارٹیوں کی شرائط منظور کرنے میں بھی اسے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ کیوں اسے معلوم ہے کہ طاقت ملنے کے بعد ان شرائط کو نظر انداز کرنے میں اسے کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ اگر کوئی جماعت اس کے منصوبہ کو ناکام کرنے کی کوشش کرے گی تو ایجنسیاں اسے حد سے آگے نہیں بڑھنے دیں گی۔ ابھی تک حالات تو یہی بتاتے ہیں کہ جو بھی بی جے پی اقتدار کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ ایجنسیاں اس کا اگلا پچھلا ریکارڈ چھاننے میں لگ جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جو بھاجپا کی کشتی میں سوار ہو جاتا ہے اس کے بڑے سے بڑے معاملے ٹھنڈے بستے میں چلے جاتے ہیں۔
بی جے پی اور کانگریس کے درمیان یہی فرق ہے۔ بی جے پی کی پوری توجہ اپنے کنبے کو جوڑنے اور ووٹوں کو بڑھانے پر ہے۔ جبکہ طاقت ملنے کے بعد وہ اپنے اتحادیوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بی ایس پی، اکالی دل، جے ڈی یو، ایل جے پی، شیو سینا وغیرہ اس کی مثال ہیں۔ لیکن کانگریس اپنے ساتھیوں کو مطمئن کرنے، کنبہ کو بڑا کرنے اور ووٹوں کو جوڑ کر رکھنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ کانگریس کے 85 ویں اجلاس سے ملک کو بڑی امید تھی۔ ملک یہاں سے بے روزگاری، مہنگائی، کرپشن اور آئینی اداروں کو مفلوج کئے جانے کے خلاف مضبوط آواز کے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا۔ لیکن راہل گاندھی کے میرے پاس گھر نہیں ہے والے بیان نے لوگوں کو مایوس کیا۔ اس اجلاس میں نوجوانوں، خواتین، اقلیت، دلتوں اور پسماندہ کو تنظیم میں ریزرویشن دینے اور گاو¿ں تک کانگریس کارکنوں کے پہنچنے کی تجویز پاس کی گئی ہے۔ مگر اس نے اپنے137 سالہ نظریاتی سفر پر مشتمل اشتہار میں کسی مسلمان کو جگہ نہیں دی۔ جبکہ مسلمان جہاں ریجنل پارٹیاں نہیں ہیں وہاں کانگریس کو ووٹ دیتے ہیں۔
چھتیس گڑھ اجلاس میں کانگریس کارکنان کے گاؤ ں، پنچایت تک پہنچنے اور اپوزیشن کو متحد کرنے کا عہد کیا تھا۔ اسی کے بعد بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا تھا کہ کانگریس سمیت پورا اپوزیشن اگر متحد ہو جائے تو اگلے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی100 سیٹوں پر سمٹ جائے گی۔ لیکن ابھی تک کانگریس کی طرف سے اتحاد کا کوئی فارمولا سامنے نہیں آیا ہے۔ جبکہ سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ منیش سشودیا کی گرفتاری پر اپوزیشن پارٹیوں کے نو لیڈران نے اپنے دستخط کے ساتھ وزیراعظم کو خط بھیجا ہے۔ اس میں کانگریس کا کوئی شخص موجود نہیں ہے۔ دستخط کرنے والوں میں ممتا بنرجی، چندر شیکھر راؤ ، فاروق عبداللہ، ادھو ٹھاکرے، شرد پوار، اکھلیش یادو، بھگوت مان اور اروند کجریوال شامل ہیں۔ اس خط میں وہ سارے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کا کانگریس نے اپنے اجلاس میں ذکر کیا تھا۔ لیکن خط میں کہیں بھی اڈانی کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ اس خط سے تیسرے مورچہ امکان کو ہوا دی ہے۔ کانگریس کے اجلاس میں صاف طور پر کہا گیا تھا کہ تیسرے مورچہ سے بی جے پی کو ہی فائدہ ہوگا۔ سوال یہ ہے کانگریس اس فرنٹ پر کیا کر رہی ہے۔ اسی سال کے آخر میں چھ اور ریاستوں کے انتخابات ہونے ہیں۔ بی جے پی وہاں اپنی انتخابی مہم شروع کر چکی ہے۔ مگر کانگریس کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ اگر وقت رہتے اپوزیشن نہیں سنبھلا اور کامن روڈ میپ تیار نہیں کیا تو ہاتھ آئے موقع کے باوجود کامیابی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ شمال مشرقی ریاستوں کے انتخابات کا یہی پیغام ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن اسے کب سمجھتا ہے۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے

    اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے

    مارچ 14, 2026
    پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کرتا ہے:شہباز شریف

    پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کرتا ہے:شہباز شریف

    مارچ 14, 2026
    ایران کے خلاف جنگ کا امریکی معیشت پر اثر

    ایران کے خلاف جنگ کا امریکی معیشت پر اثر

    مارچ 14, 2026
    اے آئی ایف ایف کے سابق سیکرٹری جنرل کشل داس 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    اے آئی ایف ایف کے سابق سیکرٹری جنرل کشل داس 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    مارچ 14, 2026
    اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے

    اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے

    مارچ 14, 2026
    پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کرتا ہے:شہباز شریف

    پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کرتا ہے:شہباز شریف

    مارچ 14, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist