شعیب رضا فاطمی
نئی دہلی:مبینہ گئو رکھشکوں کے ہاتھوں بے رحمانہ قتل کی رپورٹنگ اور احتجاج سرکار کو پسند نہیں آیا۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک صحافی جس نے اس واقعے کی رپورٹنگ کی اور راجستھان کے بھرت پور میں ایک درجن مقامی باشندوں کو جنید اور ناصر کے لیے انصاف کی خاطر احتجاج کرنے پر نوٹس بھیجے گئے ہیں۔خبر کے مطابق سب ڈویڑنل مجسٹریٹ نے سیکشن 107 کے تحت نوٹس جاری کیا، جو حکام کو ان لوگوں کے خلاف احتیاطی کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے جو ممکنہ طور پر عوامی امن کو خراب کر سکتے ہیں جنید کے خاندان کے ایک رکن حافظ جابر جو دھرنے پر گاؤں والوں کے ساتھ بیٹھے ہیں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ موہت عرف مونو مانیسر کو دفعہ 302 کے تحت گرفتار کرے۔جبکہ میرے خلاف نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ میں حکومت سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس قتل کیس میں کسی کو گرفتار کرنا ہے تو موہت عرف مونو مانیسر کو دفعہ 302 کے تحت گرفتار کریں۔ وہ میرے بھائی کا قاتل ہے۔مقامی میڈیا آؤٹ لیٹ justAj کے ایڈیٹر وسیم اکرم کو بھی ایک نوٹس موصول ہوا ان کا کہنا ہے کہ’’میں مسلسل اس احتجاج کی کوریج دنیا کو دکھا رہا ہوں۔ آج میڈیا والوں کو آواز اٹھانے سے ڈرایا جا رہا ہے جو جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔جن 12 افراد کو نوٹس جاری کیا گیا ہے ان میں مولانا حنیف۔ جابر گھٹمیکا، مختار احمد، فخر الدین ماسٹر، کامل، وسیم اکرم، نثار احمد، اثار احمد، صدام حسین، چاند، رئیس اور صدام شامل ہیں۔واضح ہو کہ گذشتہ پندرہ فروری کو ہریانہ کے بھوانی میں بھرت پور (راجستھان) کے دو نوجوانوں کو ان کی بولیرو سمیت زندہ جلانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ گھروالوں کا الزام ہے کہ جنید اور ناصر کو بدھ کے روز گوپال گڑھ تھانہ علاقے کے پیروکا گاؤں کے کچھ لوگوں نے مار پیٹ کر اغوا کر لیا تھا۔ اس کے بعد ہریانہ لے جا کر زندہ جلانے کی خبر آئی۔ نیوز ویب سائٹ سب رنگ انڈیا (sabrang india )نے یہ خبر دی اور تفصیلات بھی بتائی تھی۔مقتول کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ بجرنگ دل کے لوگوں نے انہیں اغوا کیا اور پھر زندہ جلا دیا۔ دونوں لاشیں بری طرح جلی ہوئی گاڑی کے اندر پڑی ملی تھیں۔ صرف ہڈیاں رہ گئی تھیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دونوں نوجوان جنید اور ناصر تھے جو بھرت پور کے پہاڑی تھانہ علاقے کے رہائشی ہیں۔ جنید کے کزن اسماعیل نے بدھ کو گوپال گڑھ پولیس اسٹیشن ( بھرت پور) میں دونوں کی گمشدگی اور مارپیٹ کی شکایت درج کرائی۔بتایا گیا کہ15 فروری بدھ کی صبح 5 بجے کے قریب کزن جنید اور ناصر اپنی بولیرو گاڑی میں کام سے باہر گئے تھے۔ اس کے بعد وہ واپس نہیں آئے۔ صبح تقریباً 9 بجے ایک چائے کے اسٹال پر ایک اجنبی نے اسے بتایا کہ بدھ کی صبح 6 بجے دو نوجوان گوپال گڑھ تھانہ کے پیروکا گاؤں کے جنگل سے ایک بولیرو میں جا رہے تھے، جنہیں 8-10 لوگوں نے بری طرح پیٹا اور انہیں زخمی حالت میں بولیرو میں ڈال کر لے گئے۔اسماعیل کا کہنا ہے کہ اسے جیسے ہی اس بات کا علم ہوا اس نے جنید اور ناصر کو فون کیا لیکن دونوں کے موبائل بند تھے۔ اسماعیل نے اس کی اطلاع اپنے گاؤں گھٹمیکا میں اپنے گھر والوں کو دی۔ جس کے بعد اہل خانہ اسماعیل کے یہاں پہنچ گئے۔ جب اسماعیل اپنے اہل خانہ کے ساتھ پیروکا گاؤں کے جنگل میں بتائی گئی جگہ پر گیا تو اسے وہاں ٹوٹے ہوئے شیشے پڑے ملے۔ اسماعیل نے اپنی شکایت میں بجرنگ دل سے وابستہ مانیسر کے رہنے والے انیل، سری کانت، رنکو سینی، لوکیش سنگلا پر الزام لگایا ہے۔لو ہارو کے ڈی ایس پی جگت سنگھ موڑ نے بتایا کہ گاؤں والوں کے ذریعے ڈائل 112 پر اطلاع ملی کہ بارواس گاؤں میں ایک جلی ہوئی گاڑی کھڑی ہے۔ جب پولیس موقع پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ کار کے اندر دو افراد کے کنکال موجود ہیں۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ گاڑی کے چیسس نمبر کی بنیاد پر گاڑی کے مالک کا سراغ لگانے کی کوشش کی گئی۔لیکن اب پورا معاملہ ہندو بنام مسلم ہوچکا ہے اور جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کئی ہندو تنظیموں نے گاؤں گاؤں میں پنچایتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور پولیس کو دھمکی بھی دی جا رہی ہے۔












