چھتیس گڑھ، چھتیس گڑھ پولس نے جمعہ کو کہا کہ بی جے پی کی ریاستی اکائی کے ترجمان سمیت آٹھ عہدیداروں کو سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں نوٹس بھیجے گئے ہیں۔انڈین ایکسپریس کے مطابق پولس نے کہا کہ بی جے پی کے آٹھ عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ پولس کے سامنے پیش ہوں اور ایسی پوسٹوں سے متعلق حقائق پر مبنی بیانات پیش کریں۔دی وائر کی خبر کے مطابق پارٹی کے آٹھ عہدیداروں میں خزانچی نندن جین، چھتیس گڑھ بی جے پی آئی ٹی سیل کے انچارج سنیل پلئی، ترجمان سنجے سریواستو، بی جے پی بزنس سیل کے صدر اور ترجمان کیدارناتھ گپتا، بی جے پی یوا مورچہ بورڈ کے صدر یوگی ساہو، یووا مورچہ کے ڈویڑنل کوآرڈینیٹر کمل شرما، ڈی ڈی نگر یوتھ مورچہ کے صدر شوبھنکر اور پارٹی کارکن بٹو پانیگراہی شامل ہیں۔نوٹس سے چار دن پہلے کانگریس پارٹی نے رائے پور پولس سے شکایت کی تھی اور بی جے پی کے ارکان پر پارٹی کے سرکاری ہینڈل سمیت سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلانے کا الزام لگایا تھا۔پولس کی طرف سے بھیجے گئے نوٹسوں میں سے ایک بیمترا ضلع کے بیران پور گاؤں میں فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق ہے، جہاں ایک 23 سالہ نوجوان مارا گیا تھا۔ تین دن بعد گاؤں کے مضافات میں مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے باپ بیٹے کی لاشیں ملی تھیں۔نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بی جے پی کے عہدیداروں نے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کیا تھا۔دی ہندو کے مطابق، حکمراں کانگریس کی شکایت میں ’بھوپیش کا جہاد گڑھ‘ اور’طالبانی راج‘ کے الفاظ پر اعتراض کیا گیا ہے، جس میں بھوپیش بگھیل کی سربراہی والی ریاستی حکومت اور اس کی حکمرانی کا حوالہ دیا گیا ہے۔رائے پور پولس نے بی جے پی کے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے قریبی تھانوں میں حاضر ہوں اور اپنے آن لائن تبصروں کو ثابت کرنے کیلئے حقائق فراہم کریں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’آپ کی پوسٹ سے عوامی امن پر برا اثر پڑے گا، عام لوگوں کے ذہنوں میں انتشار اور ناراضگی پیدا ہو گی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب ہو گی‘۔












