ڈھاکہ (یو این آئی) بنگلہ دیش میں جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کے خاندانوں کے لیے عوامی کوٹہ مختص کیے جانے کے بعد شروع ہونے والے احتجاج میں جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد 204 ہوگئی ہے۔احتجاج کرنے والے طلباء نے اعلان کیا کہ جب تک ان کے 9 مطالبات کو پورا نہیں کرلیا جاتا اس وقت تک مظاہروں میں ہلاکتوں کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور وزیر اعظم شیخ حسینہ ویسید کی معافی کی تکمیل تک وہ اپنےمظاہرے جاری رکھیں گے ۔ روزنامہ پرتھم آلو کے مطابق عوامی کوٹے کے فیصلے” کے احتجاج میں جانیں گنوانے والوں کی تعداد 204 ہو گئی ہے ۔بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال نے اعلان کیا کہ 19 جولائی کی رات پورے ملک میں نافذ ہونے والے کرفیو کی مدت کو ڈھاکہ اور 3 دیگر شہروں میں 28 جولائی تک بڑھا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پابندی پر کام کے اوقات کے بعد عمل درآمد جاری رہے گا اور کرفیو کو مزید چند شہروں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پولیس کے اعلان کے بعد کہ مظاہروں کی وجہ سے ملک بھر میں 5,500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا، وزیر داخلہ کمال نے زور دے کر کہا کہ اس تعداد میں اضافے ہونے کا خدشہ ہے۔بنگلہ دیش میں 1971 کی جنگ آزادی میں خدمات انجام دینے والوں کے بچوں کے لیے سرکاری کوٹہ مختص کرنے کے فیصلے کے بعد مظاہرے شروع ہوئے۔












