عالمی سیاسی تاریخ میں بعض مواقع محض آئینی تقاریب نہیں ،بلکہ تہذیبی، فکری اور علامتی سطح پر ایک نئے عہد کا اعلان بن جاتے ہیں۔ سٹی ہال کے ایک متروک سب وے اسٹیشن میں ظہران ممدانی کی حلف برداری بھی ایسا ہی ایک موقع ہے، جب نیو یارک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مسلم سیاست دان ،قرآنِ مجید پر حلف اٹھاتے ہوئے شہرِ نیو یارک کے مئیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔ یہ منظر محض ایک فرد کی کامیابی نہیں ،بلکہ اُس امریکہ کی تصویر ہے جو طویل عرصے تک اسلام کو اجنبیت، خوف اور شک کی نگاہ سے دیکھتا رہا۔ قرآن پر حلف اٹھانا ایک طرف مذہبی شناخت کے وقار کا اعلان ہے، تو دوسری طرف امریکی آئینی ڈھانچے کی اُس وسعت کا اظہار بھی، جو نظری طور پر ہر شہری کو مساوی سیاسی شراکت کا حق دیتا ہے۔ ظہران ممدانی کی یہ حلف برداری دراصل اس سوال کو جنم دیتی ہے،کہ کیا امریکہ اب اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں مذہبی و نسلی تنوع محض برداشت نہیں،بلکہ قیادت کی سطح پر قبول کیا جانے لگا ہے؟
اسی علامتی پس منظر میں ظہران ممدانی کی سیاسی حیثیت کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ وہ اب بحیثیت نیو یارک مئیر،محض ایک منتخب نمائندہ نہیں،بلکہ امریکی سیاست میں ابھرنے والی اُس نئی فکری لہر کا حصہ ہیں،جو سرمایہ دارانہ عدم توازن، سماجی نابرابری اور ریاستی بے حسی کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف رکھتی ہے۔ نیویارک جیسے شہر میں ایک نوجوان مسلم سیاست دان کا ڈیموکریٹک سوشلسٹ بیانیے کے ساتھ آگے آنا اس بات کی علامت ہے کہ سیاست کا مرکز رفتہ رفتہ اشرافیہ سے عوام کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ ممدانی کی سیاست،شناخت کے سوال سے شروع ضرور ہوتی ہے، مگر وہیں ختم نہیں ہو جاتی؛ وہ شناخت کو سماجی انصاف کے وسیع تر ایجنڈے سے جوڑتے ہیں۔
ان کی انتخابی مہم کے وعدے نیویارک کے ان بنیادی مسائل کا احاطہ کرتے ہیں جو دہائیوں سے حل طلب ہیں۔ رہائش کا بحران، جو اس شہر میں متوسط اور نچلے طبقے کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے، ممدانی کے منشور میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ کرایوں میں بے لگام اضافے پر قدغن، عوامی ہاؤسنگ میں براہِ راست سرکاری سرمایہ کاری، اور رئیل اسٹیٹ کے منافع پر مبنی ماڈل پر تنقید اُن کی سیاست کی بنیاد ہے۔ اسی طرح شہری ٹرانسپورٹ کو عوامی حق قرار دینا، صحت کو منڈی کے بجائے ریاستی ذمہ داری بنانا، اور ماحولیاتی انصاف کو سماجی انصاف کے ساتھ جوڑنا،اُن کے وعدوں کی فکری جہت کو واضح کرتا ہے۔
تاہم یہ تمام وعدے ایک ایسے سیاسی و معاشی نظام میں کیے گئے ہیں جو بنیادی طور پر سرمایہ دارانہ مفادات کے تحفظ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو ظہران ممدانی کے لیے سب سے بڑا عملی چیلنج بن کر سامنے آتا ہے۔ نیویارک کی سیاست میں رئیل اسٹیٹ لابی، مالیاتی ادارے اور کارپوریٹ سرمایہ دار فیصلہ سازی پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔ ایسے میں کرایہ کنٹرول، عوامی ملکیت اور فلاحی ریاست کے تصورات محض پالیسی تجاویز نہیں،بلکہ طاقتور معاشی حلقوں کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔
سیاسی سطح پر ایک اور بڑی رکاوٹ جماعتی توازن ہے۔ اگرچہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ترقی پسند دھڑا مضبوط ہو رہا ہے، مگر پارٹی کی مرکزی قیادت اب بھی اعتدال پسند اور کاروبار دوست پالیسیوں سے مکمل طور پر دستبردار نہیں ہوئی۔ ممدانی کو ایک ایسے راستے پر چلنا پڑیگا ہے جہاں نظریاتی اصولوں اور سیاسی مصلحت کے درمیان توازن قائم رکھنا آسان نہیں۔ زیادہ سخت موقف انہیں قانون سازی کے عمل میں تنہا کر سکتا ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ لچک اُن کے حامیوں میں بددلی پیدا کر سکتی ہے۔
مالی وسائل کا سوال بھی کم پیچیدہ نہیں۔ مفت یا سستی عوامی سہولیات کے وعدے ریاستی اور شہر کے بجٹ میں بنیادی تبدیلیوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ ممدانی کے منصوبوں میں مفت بسیں چلانے، کرایوں میں منجمد اضافہ، سستی رہائش اور یونیورسل چائلڈ کیئر شامل ہیں،جن کی مجموعی لاگت اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ جو بقول ممدا نی امیر افراد اور بڑے کاروباروں پر ٹیکس بڑھا کر تقریباً 9–10 بلین ڈالر اضافی سالانہ ریونیو پیدا کیا جا سکتا ہے: مثلاً ایک نئے ٹیکس بریکٹ کے ذریعے 1 ملین ڈالر سے زیادہ کمائی کرنے والوں پر اضافی ٹیکس اور کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں اضافہ۔
سٹی اینڈ اسٹیٹ نیو یارک، اے بی سی اور دی گارڈین کی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق مفت بسوں کا سالانہ خرچ تقریباً 700 ملین ڈالر ہو سکتا ہے، اور کارپوریشنوں پر ٹیکس بڑھانے سے تقریباً 5 بلین ڈالر، جبکہ امیروں پر ٹیکس سے قریب 4 بلین ڈالر سالانہ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح دو لاکھ سستی رہائش کے یونٹس کی تعمیر پر تقریباً 100 بلین ڈالر تک لاگت آسکتی ہے، جس کے لیے بڑے پیمانے پر طویل مدتی فنڈنگ درکار ہو گی۔
موجودہ بجٹ میں ان نئے پروگراموں کو جگہ دینے کے لیے، ممدانی کے مؤقف کے مطابق دولت مند طبقے پر اضافی ٹیکس، کارپوریٹ سبسڈیز میں کٹوتی اور سرکاری اخراجات کی ترجیحات کی ازسرِنو ترتیب سے وسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ مگر امریکی سیاست میں’’ٹیکس میں اضافہ‘‘اب بھی شدید سیاسی مزاحمت کا شکار ہے۔
اس کے باوجود، ظہران ممدانی کی سب سے بڑی قوت اُن کی اخلاقی وضاحت اور عوامی رابطہ ہے۔ وہ سیاست کو محض عددی اکثریت کا کھیل نہیں بلکہ ایک اخلاقی مکالمہ سمجھتے ہیں۔ قرآن پر حلف اٹھانے کا لمحہ اسی اخلاقی سیاست کی علامت ہے،ایک ایسی سیاست جو شناخت کو چھپانے کے بجائے اُسے انصاف کے مطالبے سے جوڑتی ہے۔ وہ اُن طبقات کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں جو طویل عرصے سے اقتدار کے ایوانوں میں غیر مرئی رہے ہیں، اور یہی دعویٰ اُن کی سیاست کو محض وقتی رجحان کے بجائے ایک گہرے سماجی سوال میں تبدیل کر دیتا ہے۔
بالآخر، ظہران ممدانی کے وعدوں کی تکمیل کا مسئلہ صرف ایک فرد کی کامیابی یا ناکامی کا سوال نہیں بلکہ امریکی جمہوریت کی وسعت اور لچک کا امتحان ہے۔ کیا یہ نظام واقعی اتنی گنجائش رکھتا ہے کہ وہ سماجی انصاف پر مبنی بنیادی تبدیلیوں کو قبول کر سکے؟ یا ہر ایسی کوشش کو یا تو جذب کر کے بے اثر بنا دے گا یا مزاحمت کے ذریعے حاشیے پر دھکیل دے گا؟ ممدانی کی سیاست اسی کشمکش کی علامت ہے۔ اگر وہ مکمل کامیابی حاصل نہ بھی کر سکیں، تب بھی اُن کی موجودگی، اُن کا سماجی انصاف کا بیانیہ اور قرآن پر اٹھایا گیا وہ حلف، امریکی سیاست میں تا دیر یاد رکھا جائے گا۔












