رائے پور، (یو این آئی): کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز (کے آئی ٹی جی) 2026 میں اوڈیشہ کی ٹیم کو گولڈ میڈل جتوانے والی جونیئر انڈیا کی سابق کھلاڑی نکیتا ٹوپو نے اب سینئر قومی ٹیم میں شمولیت کو اپنا اگلا ہدف قرار دیا ہے۔ نکیتا جونیئر ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم کی رکن رہ چکی ہیں، جہاں انہوں نے 2023 کے دورہ جنوبی افریقہ میں ملک کی نمائندگی کی اور 2022 میں آئرلینڈ میں منعقدہ ‘یونیہار انڈر 23 فائیو نیشنز ٹورنامنٹ میں سلور میڈل جیتنے والی ٹیم کا حصہ بھی تھیں۔ورلڈ کپ اور ایشین گیمز جیسے بڑے بین الاقوامی مقابلوں سے بھرپور سیزن کے پیشِ نظر، نکیتا ہندوستانی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز کے موقع پر یو این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا "اس ٹورنامنٹ کے بعد میں آنے والی سینئر نیشنلز کی تیاری شروع کروں گی۔ میرا مقصد سینئر نیشنلز میں بہترین کارکردگی دکھا کر قومی ٹیم کے لیے منتخب ہونا ہے۔”بدھ کے روز فائنل میں میزورم کو 0-1 سے شکست دے کر اپنی ٹیم کو چیمپئن بنانے والی کپتان نکیتا نے محسوس کیا کہ ان کی ٹیم کو مزید بڑے فرق سے جیتنا چاہیے تھا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیم نے گول کرنے کے کئی مواقع ضائع کیے اور پنالٹی کارنرز کو گول میں تبدیل نہ کر سکے، جس پر مستقبل میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ نکیتا کا ماننا ہے کہ کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز قبائلی کھلاڑیوں کے لیے ایک تحفہ ہے، جس کی بدولت مستقبل میں ملک کی نمائندگی کرنے والے قبائلی ایتھلیٹس کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔اوڈیشہ کے علاقے راج گنگ پور سے تعلق رکھنے والی نکیتا نے اپنی ریاست میں ہاکی کے بنیادی ڈھانچے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہر بلاک میں ایسٹرو ٹرف کی موجودگی اور بچوں کا باقاعدگی سے کھیلنا ہاکی کے فروغ میں اہم ہے۔ وہ اپنے ساتھی کھلاڑی امن دیپ لاکرا اور ہندوستانی کپتان ہرمن پریت سنگھ کو اپنا آئیڈیل مانتی ہیں۔ نکیتا کی زندگی جدوجہد سے بھرپور رہی ہے؛ انہوں نے بچپن میں ہی اپنے والدین کو کھو دیا تھا اور ان کی پرورش چچا اور چچی نے کی۔ انہوں نے اپنے سرپرستوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حمایت نے ہی انہیں آج اس مقام تک پہنچایا ہے، جو کھیلوں کی دنیا میں ان کی ایک الگ پہچان بن رہی ہے۔












