دنیااورخصوصاََہندوستان بھرمیں مسلمانوںکے معاشی ،سیاسی اورسماجی حالات تباہی و بربادی کے دہانے پرہیں۔مرکزی اور ریاستی حکومتیںنام، مذہب، سماج ، شکل اورذات دیکھ کر فیصلے کرنے کے ساتھ ساتھ قانون پاس کررہی ہےں۔ان کے اعتبارسے دیش چلایاجارہاہے۔انسانیت کو اٹھاکررکھ دیاگیاہے۔حالات نے ہمیں بھی اس قدرمجبوراوربے بس کردیاہے کہ ہم خود اپنے اچھے برے ، اپنے اور پرائے کا تمیز بھی نہیںکرپارہے ہیں۔ اہم وجہ یہ بھی بن رہی ہے کہ ہم دینِ اسلام سے رشتہ کمزور کرنے کے ساتھ ہی شریعت مطہرسے دور ہوتے جارہے ہیں۔ شرعی امورکی پابندیاںچھوڑ کر حرام کو حلال کرنے میں اس قدر مگن ہیںکہ گیلاسوکھاسب جلا رہے ہیںاورایک لکڑی سے سب کوہانکنے پر مجبورہیں۔ سویڈن کی راج داھانی اسٹاک ہوم میںقرآن سوزی کی جسارت کرنے والے نسل پرست اورمسلم دشمن عناصر پہلے بھی یہ ناپاک مذموم حرکت کرکے اپنے کلیجوںکو ٹھنڈک دے چکے ہیںاور اب بھی یہ سلسلے جاری ہے۔2020سے ڈنمارک کی پارٹی سویڈن کے متعدد شہروں میں قرآن جلانے کی ناپاک جسارت کرتی آرہی ہے۔ ملعون پارٹی کا منحوس سربراہ جھوٹی شہرت اورسرخیوںمیںبنے رہنے کی غرض سے بارہا نبی کریمﷺ کی شانِ اقدس میںگستاخیاں، قرآن عظیم کی توہین ، اسلام پر انگلی اور شریعت مطہرہ پرانگشت نمائی کرکے مغلظات کااستعمال کرتاآرہاہے۔حالانکہ قرآن عظیم وہ کتاب ہے جس کے تحفظ کی ذمہ داری خود ربّ العالمین نے اپنے ذمہ لی ہے اور اعلان کیاہے کہ قرآن کی حفاظت میںخودکروںگا۔ یہ وہی قرآن مقدس ہے جس کاہر ہر لفظ سچا پکاہے جس کے ہر ہر لفظ کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے۔ قیامت تک اس کا زبرزیر اور نکتہ بھی غائب نہیںہوسکتا۔ یہ قرآن عظیم کی ہی دین ہے کہ30پاروںکے بوجھ کو بچے ، بوڑھے، بچیاں،عورتیںاور نوجوان اپنے سینوں میں محفوظ کئے ہوئے ہیںاورقرآن کی حفاظت کاسلسلہ جاری وساری ہے۔
ملعون سربراہ کی ریلی جلسوںاور خطابوںمیں قرآن عظیم کی بے حرمتی لگاتاجاری ہے۔ اس کو وہ فخریہ اندازمیں بیان کرتے ہوئے اپنی شایانِ شان سمجھ رہا ہے۔ جب کہ سینوں میں محفوظ رہنے والا قرآن عظیم اپنی برکت و تقدس سے کبھی بھی اورکہیںبھی اس کو اوندھے منھ گرادے گاجس کاکوئی نہ پرسانِ حال ہوگااورنہ ہی کوئی نام لیواہوگا۔قرآن دنیاکی سب سے زیادہ پڑھی جانے اورہدیہ کئے جانے والی بابرکت کتاب ہے۔ یہ وہی کتاب ہے جس کا تقدس نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی یہودی اورغیرمسلم بھی کرتے ہیں۔اس کی صداقت کا لوہا باطل اورفاشسٹ طاقتوں نے بھی ماناہے اورمان رہی ہیں۔ تمام مذہبی کتابوںکاتقدس ہر مذہب وملت سے تعلق رکھنے والا انسان کرتاہے جوقرآن کی عزت نہیںکرتاخواہ وہ کسی بھی جماعت، مسلک اورمذہب سے تعلق رکھتاہو وہ جانوروںسے بھی زیادہ گیاںگزرہ ہے۔ کیوںکہ مذہبی کتابیں راہِ حق کی تلقین کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو انسان بنانے کی تمیز سکھاتی ہیںیقینا جو قرآن عظیم کے تقدس کو پامال کرکے جھوٹی شہرت کا خواہاںہے وہ کبھی کامیاب نہیںہوسکتا۔ ہاں!یہ وہی قرآن عظیم ہے جس نے عرب کے ان پڑھ اورجاہلوںکوراہِ مستقیم دکھایا اور کامیاب ہوتے گئے۔یہ وہی قرآن ہے جس نے سید نا عمر کو فاروق اعظم کے باعزت خطاب سے سرفراز کیا۔ یہ وہی قرآن ہے جس نے محمد الرسول ﷺ کے بارے میں کلماتِ غلیظہ استعمال کرنے پر رہتی دنیاتک کے لئے تبت یدآاُبی لہب کا نزول فرماکرہماری زبانوںپراس کی ہلاکت کے لئے بددعاؤںکا سلسلہ رواںکردیا۔ملعون سربراہ کا اسلام کا نام ہمیشہ کے لئے مٹانے کافرمان جاری ہو رہاہے۔ جب کہ ایک آیت کی بے حرمتی پر خداتعالیٰ نے ساری زندگی کے لئے ملعون قراردے دیا۔
آج نہ معلوم ہماری غیرت کہاںمرگئی ہے ۔ہم کونسی زمین کی تہہ میںجابیٹھے ہیں۔ ہم قرآن عظیم کی بے حرمتی کرنے والے اسی ملک سویڈن کے سفیرکی رام پورآمدپرمرحبہ مرحبہ کرتے ہوئے پلکیں بچھائے رہے تھے۔ سیاست اوراثرورسوخ دکھانے والے ایک سیاسی گھرانے میں اس کا جنم دیا منایاگیا۔ بڑی تعدادمیں مسلم سماج کی نمائندگی کرنے والوںنے فوٹواور سیلفی لیکر شیئر کررہے تھے۔ہمارے مذہبی رہنماؤںنے اس پر خاموشی اختیارکرکے موسمی کھانوںکی دعوت میںجاناپسندکیا اور مذمتی طورپر اپنے ہونٹ تک ہلانااپنے شانِ شان نہیںسمجھا ۔ویسے بھی بھاجپا کے اقتدار پذیرہونے کے بعدہمارے علمائے کرام اپنے منھ میںدہی جمائے ہوئے ہیں۔ اسلام اور قرآن پر ہونے والے تابڑتوڑ حملوںکے خلاف ہندوستان بھرکے علماءکرام اور دانشوروںکی خاموشی افسوس ناک ہے۔ البتہ مسجدوںمیںنمازِ جمعہ کے دوران ہونے والی شدّت پسندمذہبی خطاب اور صحابہ کرام کے ساتھ ہوئی زیادتیوںکے واقعات سے عام مسلمانوںکو جذباتی کرکے خود خاموشی اختیارکرلیتے ہیں۔عرب ممالک سے ہندوستان آنے والی کثیر المقدار زکوة وخیرات رقومات کی شکل میںہمارے مذہبی پیشواؤں کے دلوںسے عشقِ رسول اور محبت قرآن دورہونے لگا تب ہی اسلام پرحملے کرنے کی ناپاک سازشیںچل رہی ہیںاور مذہبی اداروں میں رشوت خوری کا بازار گرم ہورہاہے۔جب کہ موجودہ وقت میںچل رہے حالات سے آگاہ کرنے والے اپنے فرض منصبی سے دورہیں۔۔۔یہ ہے ان کا اصل فرض جس سے وہ بھٹکے ہوئے ہیںاور تباہی و بربادیوں کی بھٹی میںہم تپائے جارہے ہیں۔
اسلام ، محمدالرسول ﷺ اورقرآن پر انگلیاں اٹھانے والے ہوش میں رہیں۔ کیوںکہ قرآن کوئی عام کتاب نہیں، اسلام کوئی چلتاپھرتا فرمان نہیں، محمدالرسول ﷺکی ذات وہ نہیں ہے جس پر کوئی منفی تبصرہ کیاجائے۔ قرآن ایک مکمل دستور حیات ہے۔ زندگی گزارنے کا مکمل طریقہ وسلیقہ اس میںموجودہے۔ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جس نے انسان کو انسان بنادیا۔ محمد الرسول اللہﷺ دنیاکی سب سے معزز ہستی ہیں۔ آپ کی شخصیت کادنیامیںنہ کوئی ثانی ہوا ہے اورنہ ہوگا۔ آپ کا مرتبہ ساری دنیاسے بڑھ کرہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جب جب جس جس نے اور جہاںجہاںاسلام،محمدالرسول ﷺاور قرآن پر انگلی اٹھی اور ان کی توہین کی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے پوری پوری بستیوںکونیست ونابودکردیاہے اگرکوئی فرعون کا ثانی ، شدّاد کابھائی، ابلیس کا باپ بنے کے لئے یہ سب کررہاہے تو خدا مرزا غلام احمدقادیانی سے بدتر اس کا حشرکرے گا۔
اسلام اورقرآن دشمن عناصر یہ بات ذہن نشین کرلیںکہ اک ادنیٰ سا بھی مو¿من سب کچھ برداشت کرسکتا ہے مگروہ یہ کبھی برداشت نہیںکرے گاکہ اس کے مذہب اسلام، نبی کریم ﷺ اور قرآن عظیم کے ساتھ زیادتی اور بے حرمتی کی جائے۔ کیوںکہ توہین آمیزکلمات اور واقعات کے خاطر وہ ہر محاذتک پہنچ سکتاہے۔یہ حق ہے یہود ونصاریٰ یہ جان چکے ہیںکہ مسلمان اپنے مذہب،نبی اورقرآن سے بے حدمحبت کرتاہے ۔ ان تین چیزوںکی شان میںاگرکوئی گستاخانہ قدم اٹھائے گاتواس کی اینٹ سے اینٹ بجادیںگے۔ سرسے کفن بھی باندھ لیںگے۔شرم وحیاکی بات ہے اب ایرہ خیرہ نتھوخیرہ قرآن پر انگلیاں اٹھارہاہے۔ نام ونمودکے خاطرقرآن کی بے حرمتی کرنے والے شخص اوراس سے نسبت رکھنے والوںسے ہم قطع تعلقات اور ہرطرح کالین دین ختم کریںجب پوری طرح بائیکارٹ کردیاجائے گا تب ہوش میں آئیںگے ورنہ آئے دن اس طرح کی چھچھوری سوچ رکھنے والے اپنی گندی زبان سے تبصرے اور قرآ ن سوزی کرتے رہیں گے ۔ حکومت کوبھی اس کے خلاف سخت قانون بنانے کی ضرورت ہے۔












