نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے منگل کے روز لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس لوک سبھا سکریٹریٹ میں جمع کرکے انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔کانگریس کے ذرائع کے مطابق یہ نوٹس لوک سبھا میں کانگریس کے چیف وہپ کے سریش نے لوک سبھا کے سکریٹری جنرل اتپل کمار سنگھ کے دفتر میں پیش کیا۔ نوٹس پر 118 ممبران کے دستخط ہیں۔ لوک سبھا میں کانگریس کے 99 ممبران پارلیمنٹ ہیں۔لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے داخل کردہ تحریک عدم اعتماد کے اس نوٹس میں لگائے گئے الزامات کی جانچ کی جائے گی۔ تحقیقاتی عمل کے بعد سکریٹریٹ کی طرف سے نوٹس پر مزید کارروائی پر غور کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق، تحریک عدم اعتماد کا یہ نوٹس آرٹیکل 94(c) کے تحت مسٹر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ ان پر ایوان کی کارروائی جانبدارانہ طور پر چلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ حکمراں جماعت کے ارکان کو ایوان میں بولنے کے لیے کافی وقت دیتے ہیں جب کہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو بولنے کا موقع تک نہیں دیا جاتا اور انہیں بار بار اور غیر ضروری طور پر روکا جاتا ہے۔ اس میں 2 فروری اور 3 فروری کی تفصیلات فراہم کرکے کہا گیا ہے کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر جاری بحث کے دوران بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔اپوزیشن کے نوٹس میں مسٹر اوم برلا کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کا جواب دینے کے لئے لوک سبھا سے وزیر اعظم نریندر مودی کی غیر حاضری کی وجہ بتائی ہے۔ تین صفحات کے اس نوٹس پر پہلے دستخط کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال کے ہیں۔ اس کے بعد ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو اور پھر سماج وادی پارٹی کے دھرمیندر یادو نے دستخط کیے ہيں۔دریں اثنا لوک سبھا میں اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے بجٹ 27-2026میں عوام کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے مختلف شعبوں کے ساتھ سخت ناانصافی کی ہے۔ اپوزیشن کے مطابق فلاح و بہبود، روزگار کی فراہمی اور ہنرمندی کے فروغ (اسکل ڈویلپمنٹ) جیسی بنیادی سہولیات کے لیے مختص رقم خرچ نہیں کی جا رہی، جس کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑے گا۔ کانگریس لیڈر ڈاکٹر ششی تھرور نے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بڑے بڑے دعوے تو کرتی ہے لیکن بجٹ میں یہ حقیقت سے دور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہے جبکہ پیداواری صلاحیت اور روزگار بڑھانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔ مسٹر ششی تھرور نے زرعی شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی 60 فیصد آبادی زراعت پر منحصر ہے، لیکن اس کے لیے مختص بجٹ تشویشناک حد تک کم ہے، جو گزشتہ آٹھ سال میں کم ترین سطح پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم کسان ندھی گزشتہ چھ سال سے چھ ہزار روپے پر ہی رکی ہوئی ہے۔ اپوزیشن رہنما نے مزید کہا کہ روزگار کی صورتحال ابتر ہے، وزیراعظم انٹرنشپ اسکیم کی بڑی رقم خرچ ہی نہیں ہوئی اور منریگا جیسی اسکیموں کو ٹیکنالوجی کے نام پر محدود کیا جا رہا ہے، جس سے دیہی مزدور کام کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدے پر بھی حکومت کی پوزیشن کو مبہم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح انگریزوں کے دور میں استحصال ہوتا تھا، ویسی ہی صورتحال بنتی جا رہی ہے، جس سے بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر تھرور نے کہا کہ ریاستوں پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے اور سرمایہ کاری نہایت کم ہے۔ حکومت کی توجہ سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر نہیں ہے۔ امریکہ کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدے پر حکومت کا موقف بھی تشویش ناک ہے۔ وزیر تجارت اس معاملے پر وزیر خارجہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وزیر خارجہ وزیر تجارت کی طرف ذمہ داری ڈال دیتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقت کچھ اور ہے اور عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ کے ذریعے حکومتی وعدے پورے نہیں ہوتے، بلکہ صرف عوام کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اسی لیے زمینی سطح پر کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ نوکریاں بہت کم ہیں، چھوٹے کاروباری مشکلات کا شکار ہیں اور مزدوروں کو بھی مسلسل مسائل کا سامنا ہے۔ ہم ترقی یافتہ بھارت کی بات کرتے ہیں، لیکن یہ حقیقت سے بہت دور ہے۔ دوسری جانب، بی جے پی کی اپراجیتا سارنگی نے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک قابلِ اعتماد منزل بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا ملک کے منظم مالیاتی انتظام اور ڈھانچہ جاتی پروگراموں کے سر باندھا، جس کی وجہ سے بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ترقی میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ترقی کے بغیر ترقی یافتہ ملک نہیں بن سکتا۔ حکومت اس پر توجہ دے رہی ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو اور بے روزگاری کم ہو۔












