• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعرات, جنوری 15, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

عمر خالد، شرجیل امام اور انصاف کا امتحان

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 9, 2026
0 0
A A
عمر خالد، شرجیل امام اور انصاف کا امتحان
Share on FacebookShare on Twitter

عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ ہمارے عہد میں انصاف کس کو کہتے ہیں، اس کا معیار کیا ہے، اور اس کی رفتار کن اصولوں کے تحت طے ہوتی ہے۔ یہ فیصلہ محض دو ناموں، دو ضمانت درخواستوں یا دو قانونی فائلوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہندوستانی جمہوریت، آئینی اقدار، عدالتی فکر، ریاستی طاقت اور شہری آزادیوں کے باہمی تعلق پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے پر ردعمل محض قانونی حلقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سماج کے باشعور طبقے میں بھی ایک فکری اضطراب پیدا ہوا ہے۔
شمال مشرقی دہلی کے فسادات ہندوستان کی حالیہ تاریخ کا ایک ایسا المناک باب ہیں جسے فراموش کرنا ممکن نہیں۔ درجنوں بے گناہ جانیں گئیں، سینکڑوں افراد زخمی ہوئے، گھر جلائے گئے، مسجدیں اور عبادت گاہیں نشانہ بنیں، اور برسوں سے ساتھ رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے لیے اجنبی بلکہ دشمن بنا دیے گئے۔ یہ فسادات محض ایک وقتی تشدد نہیں تھے بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا سماجی، سیاسی اور نفسیاتی پس منظر موجود تھا۔ ایسے سانحے کے بعد ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ غیر جانب دارانہ تفتیش کے ذریعے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھے۔ مگر افسوس کہ دہلی فسادات کے بعد جو تفتیشی اور عدالتی عمل سامنے آیا، اس نے انصاف سے زیادہ شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ عمر خالد اور شرجیل امام کو اسی پس منظر میں مرکزی ملزم کے طور پر پیش کیا گیا۔ برسوں سے وہ جیل میں ہیں، بغیر کسی حتمی فیصلے کے، بغیر اس کے کہ ٹرائل منطقی رفتار سے آگے بڑھ سکے۔ سپریم کورٹ نے ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے یہ کہا کہ ٹرائل سے قبل قید کو سزا نہیں سمجھا جا سکتا، اور یہ کہ مقدمے کی سماعت میں تاخیر کوئی ایسا ہتھیار نہیں جس کے ذریعے ضمانت خود بخود حاصل کر لی جائے۔ قانونی زبان میں یہ باتیں درست ہو سکتی ہیں، مگر زمینی حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ اور پیچیدہ ہے۔
قید، چاہے وہ ٹرائل سے پہلے ہو یا بعد میں، انسان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ آزادی کا چھن جانا، خاندان سے دوری، سماجی رشتوں کا ٹوٹ جانا، ذہنی دباؤ اور مستقبل کی غیر یقینی کیفیت، یہ سب مل کر ایک ایسی سزا بن جاتے ہیں جس کا کوئی متبادل نہیں۔ اگر برسوں کی قید بھی سزا نہیں کہلائے گی تو پھر سزا کی تعریف کہاں سے شروع ہوگی؟ آئین کا آرٹیکل اکیس محض سانس لینے کے حق کی بات نہیں کرتا بلکہ باوقار زندگی کی ضمانت دیتا ہے، اور باوقار زندگی محض زندہ رہنے کا نام نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی احترام اور ذہنی سکون کا مجموعہ ہے۔ عمر خالد کا یہ کہنا کہ “جیل اب میری زندگی ہے” کسی لمحاتی جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت کا اعتراف ہے جس میں امید اور ناامیدی دونوں گھل مل چکی ہیں۔ یہ جملہ ہمارے نظامِ انصاف کے لیے ایک خاموش مگر نہایت طاقتور سوال ہے۔ ایک نوجوان، جس کی زندگی کا قیمتی حصہ سلاخوں کے پیچھے گزر رہا ہو، اگر اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ اب یہی اس کی زندگی ہے، تو یہ صرف اس فرد کا المیہ نہیں بلکہ پورے سماج کا اخلاقی بحران ہے۔
یہ بات بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ عمر خالد نے اس بات پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا کہ کیس کے دیگر ملزمان کو ضمانت مل گئی۔ یہ رویہ اس تاثر کو رد کرتا ہے کہ ایسے مقدمات کے ملزمان محض ذاتی فائدے یا سیاسی ضد میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسے شخص کی سوچ ہے جو انصاف کو اجتماعی قدر کے طور پر دیکھتا ہے، جو یہ سمجھتا ہے کہ اگر کسی کو بھی ناانصافی سے نجات ملے تو وہ خوشی کی بات ہے۔ یہ رویہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ معاملہ محض قانون شکنی یا بدنیتی کا نہیں بلکہ ایک پیچیدہ فکری اور سیاسی تناظر کا حصہ ہے۔ ادھر ایک باپ کی خاموشی بھی بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔ سید قاسم رسول الیاس کا یہ کہنا کہ “میں نے فیصلہ سن لیا ہے، میں کچھ نہیں کہنا چاہتا” دراصل ایک گہرے کرب، تھکن اور بے بسی کا اظہار ہے۔ یہ خاموشی کسی عدالتی ادارے کی توہین نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ بعض اوقات نظام اتنا طاقتور ہو جاتا ہے کہ الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ ایک باپ کے پاس احتجاج کے لیے نعرے نہیں بچتے، صرف خاموش آنکھیں اور بوجھل دل رہ جاتا ہے۔
شرجیل امام کے معاملے میں عدالت کا یہ کہنا کہ ان کے خلاف پہلی نظر میں معاملہ بنتا ہے، قانون کی زبان میں ایک اہم فقرہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ پہلی نظر کتنے برسوں تک انسان کو قید میں رکھنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے؟ اگر پہلی نظر ہی حتمی بن جائے اور ٹرائل غیر معینہ مدت تک مؤخر ہوتا رہے تو پھر انصاف اور ناانصافی کے درمیان فرق مٹنے لگتا ہے۔ آئین کا تقاضا یہ ہے کہ شبہ اور ثبوت کے درمیان ایک واضح حد قائم رہے، اور یہ حد ہی شہری آزادیوں کی محافظ ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ رعایت ضرور دی ہے کہ ایک سال بعد دوبارہ ضمانت کی درخواست دی جا سکتی ہے اور ٹرائل کو تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ بظاہر یہ ایک مثبت پہلو ہے، مگر ہندوستانی عدالتی تاریخ ایسے بے شمار فیصلوں سے بھری پڑی ہے جن میں تیز ٹرائل کی ہدایات دی گئیں مگر عملی طور پر سالہا سال کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ اس لیے ایک سال بعد کی امید بھی ایک غیر یقینی وعدہ محسوس ہوتی ہے، جو قید میں بیٹھے انسان کے لیے مزید ذہنی اذیت کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ معاملہ ہمیں اس بڑے سوال کی طرف بھی لے جاتا ہے کہ سخت قوانین، خصوصاً ریاست مخالف یا دہشت گردی سے متعلق قوانین، کس حد تک شہری آزادیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ جب ضمانت کو استثنا اور قید کو معمول بنا دیا جائے تو پھر قانون اور طاقت کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔ ایسے قوانین کا مقصد یقیناً ریاستی سلامتی کا تحفظ ہے، مگر اگر ان کا استعمال اختلافِ رائے کو دبانے یا مخصوص طبقوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہونے لگے تو وہ خود انصاف کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ اسلامی تصورِ عدل و قسط ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انصاف صرف طاقتور کے لیے نہیں بلکہ کمزور کے لیے بھی یکساں ہونا چاہیے۔ قرآن ہمیں گواہی دیتا ہے کہ دشمنی بھی انصاف سے نہ ہٹنے دے۔ یہی اصول کسی بھی مہذب سماج کی بنیاد ہوتے ہیں۔ ایک عالمِ دین اور سماجی فکر رکھنے والے شخص کے طور پر میرا یہ ماننا ہے کہ ریاست کی اصل طاقت اس کی فوج یا پولیس نہیں بلکہ اس کا منصفانہ نظامِ عدل ہوتا ہے۔ جب عدل پر سوال اٹھنے لگیں تو ریاستی طاقت بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔
دہلی فسادات کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ ان کے گھروں کی دیواریں شاید دوبارہ کھڑی ہو گئی ہوں، مگر دلوں میں جو دراڑیں پڑی ہیں وہ ابھی باقی ہیں۔ ایسے میں اگر انصاف کا عمل یک طرفہ یا انتخابی نظر آئے تو زخم بھرنے کے بجائے مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ عمر خالد اور شرجیل امام کا معاملہ اسی بڑے منظرنامے کا حصہ ہے، جہاں انصاف صرف ملزمان کے حقوق کا سوال نہیں بلکہ پورے سماج کے اعتماد کا مسئلہ ہے۔ یہ تحریر نہ کسی عدالت کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش ہے اور نہ کسی ادارے کے خلاف الزام تراشی، بلکہ یہ ایک سنجیدہ شہری، ایک باشعور سماج اور ایک زندہ جمہوریت کی جانب سے اپنے ہی نظامِ انصاف سے کیا گیا ایک باوقار سوال ہے۔ عدلیہ کسی بھی ملک کا ستون ہوتی ہے، اور ستونوں پر سوال اٹھانا انہیں گرانا نہیں بلکہ انہیں مضبوط بنانا ہوتا ہے۔ جب سوال احترام کے دائرے میں، دلیل کے ساتھ اور آئینی روح کے تحت اٹھائے جائیں تو وہ بغاوت نہیں بلکہ اصلاح کی بنیاد بنتے ہیں۔
عمر خالد اور شرجیل امام کا معاملہ دراصل ایک فرد یا دو افراد کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ اس سوال کی علامت بن چکا ہے کہ ہمارا نظامِ انصاف طویل قید، سست ٹرائل اور سخت قوانین کے امتزاج سے کس سمت جا رہا ہے۔ اگر برسوں کی قید کے بعد بھی فیصلہ نہ آئے، اور ضمانت ایک غیر معمولی رعایت بن جائے، تو پھر انصاف اور ناانصافی کے درمیان فرق عام شہری کی سمجھ سے باہر ہو جاتا ہے۔ ایسے میں قانون کا احترام کمزور نہیں بلکہ مزید نازک ہو جاتا ہے، کیونکہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اختلافِ رائے کسی بھی جمہوریت کا حسن ہوتا ہے، اور اختلاف کو جرم بنا دینا جمہوری روح کو مجروح کر دیتا ہے۔ ریاست کی سلامتی اپنی جگہ ایک اہم تقاضا ہے، مگر سلامتی کے نام پر اگر شہری آزادیوں کو مسلسل محدود کیا جائے تو خوف کا وہ ماحول پیدا ہوتا ہے جس میں انصاف کی سانس گھٹنے لگتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور ریاستیں وہی ہوتی ہیں جو اپنے ناقدین کو جیل میں نہیں بلکہ دلیل کے میدان میں جواب دیتی ہیں۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    کیا میگھن مارکل برسوں بعد پہلی بار برطانیہ واپس آ رہی ہیں؟

    کیا میگھن مارکل برسوں بعد پہلی بار برطانیہ واپس آ رہی ہیں؟

    جنوری 14, 2026
    ایران پر حملہ نہیں سفارتکاری کو موقع دیا جائے: جے ڈی وینس

    ایران پر حملہ نہیں سفارتکاری کو موقع دیا جائے: جے ڈی وینس

    جنوری 14, 2026
    وسطی فلپائن میں لینڈ فل منہدم ہونے سے ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو گئی

    وسطی فلپائن میں لینڈ فل منہدم ہونے سے ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو گئی

    جنوری 14, 2026
    جنوبی سوڈان میں ریپیڈ سپورٹ فورس کی بربریت جاری

    جنوبی سوڈان میں ریپیڈ سپورٹ فورس کی بربریت جاری

    جنوری 14, 2026
    کیا میگھن مارکل برسوں بعد پہلی بار برطانیہ واپس آ رہی ہیں؟

    کیا میگھن مارکل برسوں بعد پہلی بار برطانیہ واپس آ رہی ہیں؟

    جنوری 14, 2026
    ایران پر حملہ نہیں سفارتکاری کو موقع دیا جائے: جے ڈی وینس

    ایران پر حملہ نہیں سفارتکاری کو موقع دیا جائے: جے ڈی وینس

    جنوری 14, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist