دیوبند (سماج نیوز سروس) دیوبند کے ٹرک مالکان اور ٹرانسپورٹ نے اجتماعی طور سے دیوبند کے سی او اشک سسودیا اور ایس ڈی ایم کو ایک شکایتی تحریر دیتے ہوئے ناجائز طریقہ سے کان کنی کئے جانے اور گورنمنٹ کو روزانہ ٹیکس کا بڑا نقصان ہونے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ دیوبند، بڑگائوں، تلہیڑی اور ناگل میں ناجائز طریقہ سے کان کنی سے بھرے اوور لوڈ گاڑیاں بغیر ٹرانزٹ پاس کے چلائی جارہی ہیں اور روزانہ بڑی تعداد میں ان تمام علاقوں میں ریتا، بجری اور مٹی کے ٹرک اتارے جارہے ہیں جس کی وجہ سے حکومت کو یومیہ لاکھوں روپے کے ٹیکس کا نقصان ہورہا ہے۔ ٹرکوں کی بغیر ٹرانزٹ پرمٹ کے اس طرح کی سرگرمیاں غلط اور غیر قانونی ہیں۔ اس کے برعکس جن گاڑیوں اور ٹرکوں کے پاس مذکورہ کاموں کے لئے اجازت ہے اور ان کی دیگر دستاویزات بھی مکمل اور موجود ہیں ان کا مسلسل استحصال ہورہا ہے۔ تحریر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث ان کے ٹرک خالی کھڑے ہوئے ہیں، بلکہ اب ان کو فروخت کرنے کی نوبت آچکی ہے۔ ٹرک یونین کے ذمہ داران اور ٹرک مالکان نے ایس ڈی ایم انکور ورما سے مطالبہ کیا ہے کہ دیوبند ، بڑگائوں، تلہیڑی اورناگل میں غیرقانونی طریقہ سے کان کنی کے لائے جانے والے ٹرکوں پر پابندی عائد کی جائے اور اس غیرقانونی کاروبار میں ملوث لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرکے ان پر جرمانہ عائد کیا جائے۔ تحریر دینے والوں میں ٹرانسپورٹ یونین دیوبند کے ذمہ داران اور ٹرک مالکان سنجے چودھری، منیش سیٹھ، کنو تیاگی، ببو تیاگی، موہت سیٹھ، سورج پال، انکت تیاگی اور وجیندر کے علاوہ دیگر افراد موجود رہے۔












