نئی دہلی ، پریس ریلیز،ہمارا سماج:شبِ برأت وہ رات ہے جس میں عبادت کی جاتی ہے اور ایسے میں درگاہ عاشق اللہ پر آنے کے لئے پولیس انتظامیہ کی جانب سے راستہ بند کیا ہوا ہے۔ اسی تعلق سے قومی اقلیتی کمیشن کی مسلم ایڈوائزی پینل کے ممبر محمد ریاض نے اپنی ٹیم ممبران کے ساتھ کمیشن کے چیئر مین اقبال سنگھ لالپورا سے ملاقات کی اور ان سے گفتگو کرتے ہوئے محمد ریاض نے کہا ۵۲ فروری ۴۲۰۲ کو شبِ برأت کی مقدس رات ہے اس مقدس رات میں مساجد و درگاہوں پر خاص عبادت کی جاتی ہے، قبرستانوں میں مرحوم کے ایثالِ ثواب کے لئے دعائے خیر ہوتی ہے اس کے مدِ نظر درگاہ عاشق اللہ کا راستہ پولیس انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک بند ہے اس راستے کو کھلوانے کے لئے کمیشن کوئی کارواہی کرے۔محمدریاض نے مزید کہا اگر کسی وجہ سے یہ راستہ مستقل کھولنا ممکن نہیں ہے تو شبِ برأت کے موقع پر کھول دیا جائے اور بعد میں عارضی طور پر ہر جمعرات کو یہ راستہ کھولا جائے تاکہ عقیدت مند حضرات عاشق اللہ کی درگاہ پر عبادت کرنے آ سکیں۔اسی حوالے سے کمیشن کے چیئر مین کو درخواست بھی دی گئی۔کمیشن کے چیئر اقبال سنگھ لال پورا نے کہا کمیشن کے وفد نے مہرولی کا دورہ کر کے وہاں کی زمینی حقیقت کا جائزہ لیا اور بند راستے کو کھلوانے کے لئے پولیس کمشنر، ڈی ڈی اے اوردہلی کے گورنر کو مکتوب لکھا۔ ملک کے آئین میں عوام کو عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ شبِ برأت کے مدِ نظر راستہ کھلوا نے کے لئے ایک مرتبہ پھر ایل جی کو مکتوب لکھ کر بھیجا جائیگا۔انہوں نے کہا میرا خود کا یہ ماننا ہے تعلیم اور عبادت کرنے کا سب کو حق دیا جائے۔واضح ہو کہ ۰۳ جنوری کو ڈی ڈی اے محکمے نے مہرولی میں واقع مسجد اخونجی مدرسہ بحر العلوم اورقدیمی شاہی قبرستان کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیا تھااور عاشق اللہ کی درگاہ بالکل محفوظ ہے درگاہ کے صحن میں واقع کنویں کے ٹین شیڈ کو مسمار کیا ہے۔ کمیشن کے وفد نے جب یہاں کا دورہ کیا تو انہوں نے عاشق اللہ کی درگاہ پر چادر بھی پیش کی اور درگاہ کے متولی ایم اے انصاری سے معلومات حاصل کی اور کمیشن نے واپس آکر درگاہ کی آبادکاری کے لئے متعلقہ محکمے کو مکتوب لکھا۔ واضح کو کہ خبر لکھے جانے تک ڈی ڈی اے محکمے نے اس پورے معاملے کی رپورٹ کمیشن میں ابھی تک پیش نہیں کی اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کچھ تو گول مال ہے۔اس موقع پر موجود ٹیم ممبران جو قابلِ ذکر ہیں: حاجی محمد ناصر، ڈاکٹر محمد اعجازانصاری، ایڈوکیٹ محمد زاہد، محمد مجاہد خان، حافظ محمد توحید، محمد دانش، ڈاکٹر محمد کامران، طارق پرویز وغیرہ۔












